پنجاب کے صوبائی دارالحکومت، لاہور کے وسط میں ’’ستھرا پنجاب اتھارٹی‘‘ کے ہیڈ کوارٹر میں جدید مانیٹرنگ اسکرینز سے مزیّن ایک ایسا کنٹرول روم قائم ہے، جس پر آج کل دنیا بَھر کی نظریں مرکوز ہیں۔ ان الیکٹرانک اسکرینز پر پنجاب کی141 تحصیلوں، 38 اضلاع اور 10 ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والی صحت و صفائی کی ایسی سرگرمیاں دیکھی جاسکتی ہیں، جن کی اِس سے قبل ڈیجیٹل پروگرامز میں مثال نہیں ملتی۔
مثلاً یہ کہ پنجاب کی اِن تحصیلوں اور اضلاع میں روزانہ گھروں، مارکیٹس، گلیوں، بازاروں اور سڑکوں سے کتنا کوڑا کرکٹ اکٹھا ہوتا ہے۔ ان کے لیے کتنی گاڑیاں( رکشہ لوڈرز، ڈمپرز، ٹریکٹر ٹرالیاں وغیرہ) مختص ہیں اور یہ کام کتنے سینیٹری ورکرز انجام دے رہے ہیں۔ ڈیڑھ لاکھ ورکرز میں سے کون غیر حاضر ہے، کون سی گاڑی کا محلِ وقوع کیا ہے، وہ کتنا فاصلہ طے کررہی ہیں اور کتنا پیٹرول خرچ ہورہا ہے۔
اسکرینز پر نقطوں، گرافکس اور اعداد و شمار کا ایک وسیع و عریض جال پھیلا ہوا ہے، جس سے ماہرین و متعلقین کو معلوم ہو جاتا ہے کہ مقرّرہ مقامات سے کچرا اُٹھانے اور اُسے ڈمپنگ سائٹس تک پہنچانے کی کیا صُورت، کیا ترتیب و تنظیم رہی۔
اِس ڈیجیٹل انفارمیشن سے یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اِس کوڑا کرکٹ کی نقل و حمل کا کتنا معاوضہ بنتا ہے۔ حکومتِ پنجاب نے تقریباً ایک سال قبل’’ستھرا پنجاب‘‘ کے نام سے پورے صوبے میں کوڑا کرکٹ جمع کرنے اور اسے جدید ترین طریقوں سے ٹھکانے لگانے کا جو پراجیکٹ شروع کیا تھا، یہ کنٹرول روم اُسی کا ایک اہم ترین حصّہ ہے۔
دنیا کی توجّہ
دنیا کا کوئی بھی چھوٹا، بڑا شہر ہو یا گاؤں، وہاں کا کوڑا کرکٹ، کچرا جمع کرنا اور اُسے محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانا معاشرتی زندگی کا ایک اہم ترین جزو ہے۔ اگر اِس کام میں ایک دن کی بھی تاخیر ہو جائے، تو صحت و صفائی کے سنگین ترین مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ پنجاب آبادی (13کروڑ افراد پر مشتمل) کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔
اِس لیے یہاں صحت و صفائی کے مسائل بھی اتنے ہی سنگین ہیں۔ صوبے میں اِس سے قبل لاہور میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا ادارہ قائم تھا۔ لاہور کے علاوہ دیگر سات بڑے شہروں میں کوڑا کرکٹ اکٹھا کرکے اُسے ڈمپ کرنے کے درجنوں طریقے آزمائے گئے، لیکن کوئی بھی کارگر ثابت نہ ہوا، بلکہ بدعنوانیوں اور کوتاہیوں کی نت نئی داستانیں عام ہونے لگیں۔
پھر پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ، مریم نواز کی جانب سے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، پنجاب انفارمیشن بورڈ اور دیگر متعلقہ ماہرین کو ایک ٹاسک سونپا گیا، جو بہت چیلنجنگ اور بظاہر مشکل تھا اور وہ تھا، پورے پنجاب کی 140 تحصیلوں، 38اضلاع، ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز 200 سے زائد چھوٹے بڑے شہروں،2500سے زائد دیہات کی گلیوں، بازاروں، مارکیٹس اور سڑکوں سے جدید ترین مشینری سے کچرا اکٹھا کر کے اُسے ندی نالوں، دریاؤں اور گٹروں میں اندھا دھند پھینکنے کی بجائے، مخصوص مقامات پر ڈمپ کرنا اور اس کوڑا کرکٹ سے بجلی پیدا کرنے جیسے منصوبے بنانا۔
یہ منصوبہ بظاہر مشکل، بلکہ ناممکن اور طویل المدّت تھا۔ 2025ء کی ابتدا میں جن غیر مُلکی ماہرین نے اِس پر غور کیا، اُنہیں لگتا تھا کہ یہ منصوبہ چار، پانچ سال سے پہلے مکمل نہیں ہوسکتا، لیکن پاکستانی ماہرین نے اسے ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور آٹھ سے نو ماہ کی قلیل مدّت میں مکمل کر کے بھی دِکھا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ برازیل میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں جب اِس منصوبے کے خدّوخال غیر مُلکی ماہرین پر واضح کیے گئے، تو وہ حیران رہ گئے۔
بی بی سی، امریکی جریدے’’فوربز‘‘ اور’’گلف نیوز‘‘ نے اسے ایک حیران کُن منصوبہ قرار دیا۔ گلف نیوز نے لکھا کہ’’یہ دنیا کا سب سے بڑا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ منصوبہ ہے‘‘ جب کہ امریکی جریدے کے مطابق’’یہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔‘‘ دیگر کئی اخبارات نے لکھا کہ یہ تصوّر بھی محال ہے کہ آپ صرف ایک بٹن یا کلک پر140تحصیلوں اور درجنوں اضلاع میں کوڑا کرکٹ اکٹھا کرنے اور اُسے ٹھکانے لگانے کی ایک، ایک سرگرمی بڑی اسکرینز پر دیکھ سکیں۔ یہ وااقعتاً ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا کمال ہے۔
روایتی طریقوں کا خاتمہ
اِس امر میں شک نہیں کہ پنجاب میں صحت و صفائی کی سرگرمیاں پہلے بھی جاری و ساری تھیں، لیکن یہ سب کام روایتی جھاڑو، خستہ حال گاڑیوں، کھٹارا ٹریکٹر ٹرالیوں اور رکشہ لوڈرز سے انجام پاتا تھا۔ کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے مخصوص ڈمپنگ سائٹس مقرّر نہیں تھیں اور اکثر کوڑا ندی نالوں، دریائوں اور گٹروں ہی میں پھینک دیا جاتا، جس سے صحت و صفائی کے سنگین مسائل پیدا ہوجاتے تھے۔
نیز، وہیکلز، سینیٹری کا سامان اور افرادی قوّت نہ ہونے سے پنجاب میں جمع ہونے والے کوڑا کرکٹ کا صرف پچاس سے ساٹھ فی صد ہی ٹھکانے لگایا جاتا، باقی گلیوں اور بازاروں میں تعفّن کا باعث بنتا رہتا۔ اکثر سینیٹری ورکرز کام نہ کرنے کے باوجود گھر بیٹھے تن خواہیں لے رہے تھے۔ تاہم، اب’’ستھرا پنجاب‘‘ منصوبے کے تحت یہ سب کچھ ایک مربوط نظام سے منسلک کر دیا گیا ہے اور اِس ضمن میں جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے بھرپور مدد لی گئی ہے۔
اب200 سے زائد چھوٹے، بڑے شہروں اور ہزاروں دیہات کی گلیوں، بازاروں اور مارکیٹس سے گھر گھر جا کر کوڑا اکٹھا کیا جاتا ہے اور پھر اُسے140سے زائد محفوظ اور مخصوص ڈمپنگ سائیٹس پر ٹھکانے بھی لگایا جاتا ہے، جس سے ماحولیاتی آلودگی اور صحت و صفائی کے مسائل بہت کم ہوگئے ہیں۔ تاہم، یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ اب تمام نظام سوفی صد درست ہوگیا ہے اور پورا کچرا اکٹھا ہورہا ہے۔
اِسی لیے مذکورہ پراجیکٹ کے تحت شکایات کے ازالے کے لیے ایک مؤثر نظام بھی وضع کیا گیا ہے۔ یعنی جس گلی، محلّے سے ورکرز کُوڑا نہ اُٹھائیں، متاثرہ افراد اپنے موبائل فون سے وہاں کی تصویر کھینچ کر پراجیکٹ کی ویب سائٹ پر اَپ لوڈ کرسکتے ہیں۔ اگر شہری کی شکایت دُور نہ ہو، تو متعلقہ کمپنی کے Points کاٹ کر اسے انتباہی لیٹر جاری کیا جاتا ہے۔ اِس ضمن میں متعلقہ حکّام کا دعویٰ ہے کہ اُنہوں نے ایک سال میں دو لاکھ سے زائد شکایات کا بروقت ازالہ کیا۔
’’ستھرا پنجاب ‘‘ پروگرام سے پہلے پنجاب میں کوڑا کرکٹ اُٹھانے اور اُسے تلف کرنے کا کام، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے تحت ہوتا تھا۔ پھر حکومت نے صوبائی اسمبلی سے ایک بل منظور کروا کے اُسے اتھارٹی کی شکل دے دی، جس کا سربراہ ڈی جی ہوتا ہے۔ 2025-26ء کے بجٹ میں حکومتِ پنجاب نے اس اتھارٹی کے لیے150 ارب روپے مختص کیے، جس نے بڑھ کر 190 ارب روپے تک ہو جانا ہے۔
یہ منصوبہ چوں کہ پنجاب میں ڈھائی لاکھ مربع کلومیٹر اور سیکڑوں شہروں، دیہات تک پھیلا ہوا ہے، اِس لیے اِسے سنبھالنا اکیلے حکومت کے بس کی بات نہیں تھی۔ چناں چہ اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ایسی کمپنیز سے رابطہ کیا گیا، جن کی شہرت اچھی تھی اور پھر تمام ضروری تقاضے پورے کرنے کے بعد منصوبے کو تحصیل سے لے کر ڈویژن کی سطح تک آئوٹ سورس، یعنی کنٹریکٹرز کے سپرد کردیا گیا۔
صفائی ستھرائی کے کاموں میں مصروف30ہزار سے زاید گاڑیوں میں سے بیش تر مشینری اُنہی کنٹریکٹرز کی ہے، جب کہ پنجاب بَھر میں مخصوص یونیفارم میں ملبوس ڈیڑھ لاکھ سینیٹری ورکرز اور دوسرا عملہ بھی اُنہی کمپنیز کا بھرتی کردہ ہے، جس سے ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے۔
غیر مُلکی جرائد نے اِسے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا سب سے بڑا منصوبہ قرار دیا ہے۔ تحصیلوں اور اضلاع میں تمام تر سرگرمیاں اِنہی کمپنیز کے تحت انجام پاتی ہیں، جب کہ مجموعی نگرانی، رہنمائی اور دیگر امور صوبائی حکومت انجام دیتی ہے۔ کنٹریکٹر، یعنی کمپنیز کو بلز کی ادائی بھی ڈیجیٹل طریقِ کار کے تحت کی جاتی ہے۔ لمحہ بہ لمحہ رپورٹ دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کس کمپنی نے آج کتنے ٹن کوڑا کرکٹ اُٹھایا اور کتنا ٹھکانے لگایا۔
یہ تمام کام ایک خُود کار کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے تحت انجام پاتا ہے۔ ہر ڈویژن کی اپنی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ہے، جو آگے اضلاع اور تحصیلوں کی نگرانی کرتی ہے۔ اِس وقت یہ کمپنیز لاہور، سیال کوٹ، ڈی جی خان، فیصل آباد، سرگودھا، ساہی وال، ملتان، گوجرانوالہ اور راول پنڈی میں کام کررہی ہیں۔
شہروں میں ہر200 گھروں اور دیہات میں 250گھروں کے اوپر ایک سینیٹری ورکر متعیّن ہے۔ اِس ضمن میں صوبائی وزیرِ بلدیات، ذیشان رفیق کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ میں جو کام یاب تجربہ کیا، اس پر دنیا حیران ہے۔ ایک ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے تحت پنجاب کی تحصیلوں اور اضلاع میں کوڑا کرکٹ اُٹھانے اور اُسے ڈمپ کرنے کی تمام تر سرگرمیاں لمحہ بہ لمحہ لاہور میں مرکزی کنٹرول روم میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
اِسی طرح 35 ہزار سے زائد گاڑیوں کی ہر نقل و حرکت پر بھی مکمل نظر رکھی جاسکتی ہے، جب کہ ڈیڑھ لاکھ ورکرز کی سرگرمیاں بھی کسی سے اوجھل نہیں رہتیں۔ اب کمپیوٹر ہر صفائی ورکر کی شناخت اُس کے چہرے سے کرتا ہے، جس سے گھوسٹ ملازمین کا مکمل خاتمہ ہوگیا ہے۔ اِس وقت پنجاب میں70 ہزار سے زائد ویسٹ کنٹرینرز کام کر رہے ہیں، جب کہ ڈمپنگ سائیٹس کی تعداد140 ہے۔
اِس منصوبے سے پنجاب میں ماحولیاتی آلودگی کم کرنے میں مدد ملے گی۔ پنجاب کے اکثر باسیوں نے اِس منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے، کیوں کہ صحت و صفائی کا یہ نظام اُنہیں گھر کی دہلیز پر سہولت فراہم کرتا ہے، لیکن اسے مکمل پذیرائی ملنے میں کچھ وقت لگے گا، کیوں کہ لوگوں کو مقرّرہ اوقات کے بعد باہر کوڑا کرکٹ پھینکنے کی عادت ہے، جس کے سبب کچرا کُھلی فضا میں پڑا رہتا ہے۔ جب لوگ مقرّرہ نظام الاوقات سے ہم آہنگ ہو جائیں گے، تب اِس منصوبے کی کام یابی کی رفتار بھی یقیناً تیز ہو جائے گی۔‘‘
پنجاب میں اِس وقت مجموعی طور پر روزانہ50 ہزار ٹن کوڑا جمع ہوتا ہے۔ صرف لاہور سے 2025ء میں 9 لاکھ ٹن کوڑا اکٹھا گیا گیا، جہاں اِس مقصد کے لیے6 ہزار گاڑیاں چل رہی ہیں۔ حکومت نے صارفین سے ریونیو اکٹھا کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ اِس ضمن میں بڑے شہروں میں ہر گھر سے کم از کم200 اور زیادہ سے زیادہ5 ہزار روپے فیس مقرّر کی گئی ہے۔
یہ فیس گھر یا کمرشل جائیداد کے رقبے کے مطابق طے کی جاتی ہے۔ اِسی طرح دُکانوں کی بھی رقبے کے لحاظ سے درجہ بندی کی گئی ہے اور کم از کم فیس500 روپے مقرّر ہے۔ ایک عوامی سروے میں عوام نے کوڑا کرکٹ کے نئے بلز پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ پہلے ہی بلز کی ادائی کر کر کے اُن کی کمر دُہری ہوچُکی ہے۔ اب ایک نیا بل’’ صفائی ٹیکس‘‘ کے نام پر نافذ کردیا گیا ہے۔‘‘
حکومت کے’’ستھرا پنجاب ایکٹ‘‘ میں فیس ادا نہ کرنے والوں پر جرمانہ عائد کرنے کی شق بھی موجود ہے۔ حکّام نے اب تک صفائی ٹیکس کی ادائی کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ جُوں جُوں اِس منصوبے کی افادیت اُجاگر ہوتی جائے گی، عوام بلز کی ادائی کی طرف مائل ہوتے جائیں گے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب، مریم نواز شریف’’ستھرا پنجاب منصوبے‘‘ کو ایک انقلابی منصوبہ قرار دیتی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ اُن کی توقّعات سے بڑھ کر کام یاب ہوا۔اِس منصوبے میں اُن کے علاوہ درجنوں ماہرین اور مشیروں کی معاونت شامل ہے۔
’’ستھرا پنجاب منصوبہ‘‘ اگرچہ اپنی جگہ ایک بہت بڑا پراجیکٹ ہے، تاہم اس کے نتیجے میں دوسرے جو منصوبے زیرِ غور ہیں، اُن کی افادیت بھی کم نہیں۔ پنجاب بَھر، بالخصوص لاہور میں49 ایکڑ پر محیط ڈمپنگ سائٹ میں جمع ہونے والے کوڑا کرکٹ سے بجلی بنانے کے کئی منصوبے زیرِ غور ہیں۔ اس کے علاوہ، میھتین اور بائیو گیس کے منصوبوں پر بھی کام ہورہا ہے۔ یوں یہ’’ستھرا پنجاب منصوبہ‘‘ ایک ایسا ملٹی پرپز پراجیکٹ ہے، جو گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے۔