محمد ریاض ایڈووکیٹ
ہر سال 22 اپریل کو ’’عالمی یومِ ارض‘‘ منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد انسانوں کو اپنی زمین، ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفّظ کے لیے بےدار کرنا ہے۔ چوں کہ تیز رفتار ترقّی کے اس دَور میں ماحولیاتی مسائل ایک سنگین شکل اختیار کر چُکے ہیں، تو ایسے میں عالمی یومِ ارض منانے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ہر چند کہ زمین ہماری بقا کی بنیاد ہے، مگر بدقسمتی سے انسانی سرگرمیوں نے اس کے توازن کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔
اسلحہ سازی، صنعتی ترقّی، جنگلات کی کٹائی اور بے قابو شہری پھیلاؤ نے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ علاوہ ازیں، تیزی سے بڑھتی آبادی بھی ایک بڑا چیلنج بن چُکی ہے، جو قدرتی وسائل پر بے پناہ دباؤ ڈال رہی ہے۔ ذیل میں کرّۂ ارض کو درپیش اہم مسائل اور اُن پر قابو پانے کے ضمن میں کچھ تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔
سنگین ماحولیاتی مسائل: آج دُنیا کو جن بڑے ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے، اُن میں پانی اور خوراک کی قلّت سرِفہرست ہے۔ اسی طرح فضائی، سمندری اور زمینی آلودگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آج صاف پانی کی قلّت ایک عالمی بُحران کی شکل اختیار کر چُکی ہے۔ زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے، جب کہ دریا اور جھیلیں آلودگی کی شکار ہیں۔
صاف پانی کی قلّت نہ صرف انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ زراعت و معیشت کوبھی بُری طرح متاثرکررہی ہے۔ دوسری جانب خوراک کی کمی بھی تیزی سے بڑھتی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں ہی کا شاخسانہ ہے۔ آج زمین کی زرخیزی بتدریج کم ہورہی ہے۔ موسمی حالات غیرمتوقّع ہوتے جا رہے ہیں، جس سے فصلوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔
فضائی آلودگی، جو صنعتوں اور گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں اوراسلحہ سازی کے عمل سے پیدا ہوتی ہے، انسانی صحت کے لیے مُہلک تر ثابت ہورہی ہے۔ سانس کی بیماریاں، دِل کے امراض اور دیگر پیچیدگیاں اِسی کا پیش خیمہ ہیں۔ اسی طرح سمندری آلودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پلاسٹک، کیمیائی فُضلے اور تیل کے اخراج نے سمندری حیات کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔
بڑھتی آبادی کا دباؤ: آج دُنیا کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں قدرتی وسائل پر دباؤ بھی بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے، کیوں کہ زیادہ آبادی کا مطلب خوراک، پانی، رہائش اور توانائی کی زیادہ طلب ہے اور یہ تمام عوامل ہماری زمین پر منفی اثرات مرتّب کر رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، دُنیا کی آبادی میں ہر دو سیکنڈ میں پانچ افراد کا اضافہ ہورہا ہے اور اگر آبادی بڑھنے کی اس رفتار پر قابو نہ پایا گیا، تو مستقبل میں یہ مسائل مزید شدّت اختیار کرسکتے ہیں۔
آبادی کے لحاظ سے پاکستان دُنیا کی پانچویں بڑی ریاست ہے اور ایک اندازے کے مطابق، 2050ء تک پاکستان کی آبادی 40کروڑ سے تجاوز کرجائے گی۔ آبادی کے بے ہنگم اضافے پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے سماجی و مذہبی حلقوں کو آگے آنا ہوگا اور معاشرے میں’’چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے‘‘ کی سوچ کو فروغ دینا ہوگا۔
اسلحہ سازی: اسلحہ سازی نہ صرف عالمی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ قدرتی ماحول کے لیے بھی تباہ کُن ہے۔ ہتھیاروں کی تیاری، تجربات اورجنگی سرگرمیاں زمین، پانی اور فضا کو حد درجہ آلودہ کرتی ہیں، جب کہ ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات نے تو کئی علاقوں کو ناقابلِ رہائش ہی بنا دیا ہے۔ اس لیےعالمی امن کے ساتھ ماحولیاتی تحفّظ کے لیے بھی اسلحہ سازی میں کمی ناگزیر ہے۔
عالمی دن کی سرگرمیاں: ہر سال ’’عالمی یومِ ارض‘‘ کے موقعے پر دُنیا بَھر میں مختلف سرگرمیوں کا انعقاد ہوتا ہے، جن میں کمیونٹی کلین اپس، درخت لگانے کی مہمّات، تعلیمی ورک شاپس اور آگہی مہمّات وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سرگرمیاں دراصل لوگوں کو اپنےمسکن کے تحفّظ کے لیے عملی اقدامات کی ترغیب دیتی ہیں۔
اس ضمن میں شجرکاری ایک نہایت مؤثرعمل ہے، جس سے نہ صرف فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم ہوتی ہے، بلکہ یہ فضا کو صاف کرنے اور حیاتیاتی تنوّع بڑھانے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اسی طرح صفائی کی مہمّات شہروں اوردیہات کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
سماجی و انفرادی ذمّےداریاں: زمین اور ماحول کا تحفّظ صرف حکومت یا متعلقہ اداروں ہی کی ذمّےداری نہیں، یہ معاشرے کے ہر فرد کا فرض ہے۔ اِس ضمن میں ہم اپنی روزمرّہ زندگی میں چھوٹے چھوٹے اقدامات کر کے ایک بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں۔
مثلاً، پلاسٹک کے استعمال میں کمی، پانی کا محتاط استعمال، بجلی کی بچت، شجرکاری اورماحول دوست مصنوعات کا استعمال وغیرہ۔ علاوہ ازیں، تعلیم و آگہی بھی اِس ضمن میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اِس سلسلے میں اسکولز، کالجز کے نصاب میں مختلف موثر، ٹھوس تجاویز شامل کی جاسکتی ہیں کہ اگر ہم نئی نسل کو ماحول کی اہمیت سے درست طور پر آگاہ کریں، تو وہ مستقبل میں زمین کی محافظ بھی بن سکتی ہے۔
ویسٹ مینجمینٹ: کچرے کی ری سائیکلنگ زمین کے تحفّظ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ روزمرّہ زندگی میں پیدا ہونے والا کچرا اگر مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگایا جائے، تو یہ ماحول کو آلودہ کرتا ہے، جب کہ ری سائیکلنگ کے ذریعے ہم نہ صرف کچرا کم کر سکتے ہیں بلکہ قیمتی وسائل دوبارہ استعمال میں بھی لا سکتے ہیں۔
پلاسٹک، کاغذ، شیشے اور دھاتوں کو ری سائیکل کر کے نت نئی مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔ اس طرح نہ صرف توانائی کی بچت ہوتی ہے بلکہ قدرتی وسائل کا استعمال بھی کم ہوتا ہے۔ نیز، گھریلو سطح پر بھی کچرے کوالگ الگ کر کے ری سائیکلنگ کے عمل کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔
شجرکاری مہمّات: زمین کے ماحول کو نقصان پہنچانے والی موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لیے دُنیا بَھر کے ممالک کو شجرکاری، اپنی ریاستی ترجیحات میں شامل کرنی ہوگی۔ بدقسمتی سے پاکستان جیسے ترقّی پذیر ممالک میں درختوں کی کٹائی تو زور و شورسے کی جاتی ہے، مگر نئے درخت اُگانے کی مہمّات صرف تشہیر ہی تک محدود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وطنِ عزیز کے کُل رقبے کا صرف پانچ فی صد حصّہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ جنگلات کا تناسب کم از کم 15 فی صد تک بڑھایا جائے۔
پائے دار ترقّی کی ضرورت : ’’پائےدار ترقّی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی موجودہ ضروریات کو اس انداز سے پورا کریں کہ آئندہ نسلوں کی ضروریاتِ زندگی متاثر نہ ہوں اور اس مقصد کے لیے ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع، جیسا کہ سورج اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی کو فروغ دینا ہوگا۔ اسی طرح ’’بائنگ بَیٹر‘‘ یعنی بہتر خریداری کا تصوّر بھی اہم ہے۔
یعنی ہم ایسی مصنوعات خریدیں، جو دیرپا اور ماحول کے لیے کم نقصان دہ ہوں۔ مزید برآں، فاسٹ فیشن اور غیر ضروری اشیاء کے استعمال سے گریز بھی ماحول کے تحفّظ میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ قصّہ مختصر، ’’عالمی یومِ ارض‘‘ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہمارا سیارہ ہمیں قدرت کی جانب سے دی گئی ایک امانت ہے، جس کی حفاظت ہماری ہی ذمّےداری ہے اور اگر ہم نے یہ فرض ادا نہ کیا، تو آئندہ نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔