• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوئی تمہید نہیں، بات بڑی سیدھی ہے کہ سفارت کاری کے لمحات میں امن کے متلاشی جرنیل کا جب میں نے اعتماد دیکھا تو حیران رہ گیا۔ اسرائیل کی چالاکی اور ہٹ دھرمی کی پروا نہ کسی امریکہ کی آرٹیفیشل ٹیکنالوجی کا خوف ، کسی ٹرمپ زنی یا ٹرمپ ازم کا بھی خطرہ خاطر میں نہیں۔ ایران میں جہاز سے اترتے ہیں تو استقبال کرنے والے میزبان کو پروٹوکول بالائے طاق رکھ کر گلے لگا لیا۔ پوری دنیا کے میڈیا کی نظر اس ملن پر تھی۔ اور، وہ ایران کہ جس کی فضاؤں پر اسرائیل یا امریکہ اپنی اجارہ داری سمجھ رہےہیں، فیلڈ مارشل کی اس جی داری میں مجھے وہ ساری سائنس نظر آئی جسے کوئی انٹرنیشنل ریلیشنز کہتا ہے اور کوئی پولیٹکل سائنس! ان دنوں وزیراعظم بھی دوروں پر ہیں ، وہ بھی امن کے سفیر کم سربراہِ حکومت ہیں۔

انکے بنیاد سے وزارت عظمیٰ تک کے تجربات بہرحال بہت پرانے ہیں۔ کہیں یہ خاندان دبستانِ ضیاء الحق سے فیض یاب تو کہیں بھٹو خاندان کے مقابلے کے چیلنجز نے حکومتی ہنر سکھا دئیے۔ لیکن سپہ سالار کو تو یہ سارا منظر اور یہ سارے چیلنجز پہلی دفعہ ملے ہیں اور خوب ملے ہیں۔ جس خوبصورت اور مفید انداز سے وہ ان چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، یہ سب مدتوں یاد رہے گا، یہ تاریخ کا وہ حصہ ہے جس میں یک نہ شد دو شد کے مصداق دفاع کی پاسداری کی کامیاب ترین مثال بھی ہے اور عمدہ سفارت کاری کی جان دار نظیر بھی۔

کم و بیش ہر بڑے آدمی کا ایک مسئلہ ہوتا ہے، وہ اپنے آپ کو کبھی غلط نہیں سمجھتا۔ کسی پچھتاوے کی پاداش میں یا کسی محرومی کی بدولت وہ حد سے گزر جاتا ہے گویا بےحد گزر جاتا ہے۔ محرومی یا پچھتاوے کو مٹانے کیلئے اور حدود پار کرنے کا جواز پیدا کرنے کیلئے، بڑا آدمی ایک بیانیہ گھڑتا ہے ، پھر اس بیانئے کے پیچھے پناہ لے لیتا، عظیم کہلانے کیلئے، بڑا بننے کیلئے لیکن سپہ سالار کسی تمہید کی تشکیل یا بیانئے کی تعمیر کے بجائے براہ راست عمل کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتے ہیں۔

راقم کی سادگی ہی نہیں عالمی مبصرین کی دوراندیشی بھی یہ کہتی ہے کہ جنرل عاصم منیر کی فراست نے عسکری و ڈپلومیسی مہارتوں میں ایک نیا رخ متعارف کرایا ہے جس میں شاہین کی پروازمحض سرحدوں کی حفاظت پر مامور نہیں بطورِ مدبر ان کا ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت سے ملنا اور دفاعی تعاون پر گفت و شنید اس گرہ کو کھولنے کے مترادف ہے جو برسوں سے تہران اور اسلام آباد کے درمیان حائل تھی۔ پھر ان کی پر اعتماد باڈی لینگوئج اس بات کا اعلان بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پھیلی بارود کی بو اور آتش و آہن کی بارشوں کو ختم کرنا اور کرانا ہے جس میں پاکستان پر ایران کا اعتماد بھی ہو اور عرب ممالک کا بھی ، چائنہ بھی اہم سمجھے اور امریکہ بھی مفید۔ اور یہ سب تاثر خود میں سانس لیتے ایران کی سرزمین پر سپہ سالار پاکستان میں نظر آئے۔ بلاشبہ پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک پُل کے کردار کی صورت دکھائی دے رہا ہے۔ماہر جنوبی ایشیا مائیکل کوگل مین کے مطابق بظاہر معاشی طور سے پاکستان کی گرتی ہوئی عالمی ساکھ میں لگتا تھا کہ وزیراعظم پاکستان اور ان کی ٹیم دلدل میں پھنسی ہے لیکن مئی 2025ءکی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کو کمال کی معراج پر اور ٹیکنالوجی ہولڈر ہونے پر متمکن دیکھ کر دنیا کا نظریہ ہی بدل گیا ، اور پاکستانی سپہ سالارسےلےکرپاکستان کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تک سب کی دھاک جم گئی یوں پاکستان کی مجموعی قیادت کا اقبال بلند ہوا ۔ زیرک اور بااعتماد سپہ سالار پاکستان نے اس جنگی رفتار کو بغور دیکھا اور عملی کردار کیلئے اترے کیونکہ ترکی سے ملائیشیا تک اور چائینہ سے روس تک سب خاموش تھے ، یا خاموش کردار ۔پس پاکستان علانیہ اس امن کی مہم جوئی میں اترا تو چائنہ سمیت متعدد ممالک سپورٹ میں آ گئے پھر ایران اور امریکہ نے بہترین ثالث تک مان لیا۔ ٹھیک ہے پاکستان کے معاشی حالات میں گڑ بڑ تھی مگر صلاحیتوں میں نہیں ، اور زمانہ نانِ جویں صورت میں بازوئے حیدر کرار کا فلسفہ بھانپ گیا۔ پاکستان ایک کلیدی ثالث کے طور پر سامنے آگیا ۔جسے سیکورٹی لینس سے دیکھا جاتا تھا وہ پاکستان امن ساز بن گیا۔ اسی لئے اسلام آباد مذاکرات کی ابتدا بہرحال امن کا ایک آغاز تسلیم ہوا۔ امریکی صدر تک نے کہہ دیا کہ ثالث کوئی ہے تو وہ پاکستان ہے۔ اسلام آباد امن آغاز کا دوسرا مرحلہ اپنے شباب پر ہے پاکستانی سفارت کار ، خارجی امور کے ماہرین ، حکومت اور سپہ سالار ایسے ایک صفحہ پر ہیں کہ جس پر پاکستان امن کا پیامبر کندہ ہونے والا ہے، امن کا نوبل پرائز ڈھونڈنے والا ، آج پاکستانی قیادت سے عملی امن کا متلاشی ہے۔

بہرحال سپہ سالار کو یہ احساس ہے کہ ایک طرف سعودی دفاع کا معاہدہ ہے تو دوسری جانب ایران کی روحانی ہمسائیگی ۔ یہ وہ دوہرا مینڈیٹ ہے جو اسکونبھانا ہے۔ اور وہ حکومت کے شانہ بشانہ چائنہ اور امریکہ سے بیک وقت اچھا تعلق نبھانے کے درپے بھی ہے۔ گویا سفارت کاری اور سپہ سالاری کا دوہرا مینڈیٹ بھی جنرل عاصم منیر کو عالمی سطح پر ممتاز کر گیا۔ یقیناً عالمی میڈیا کی نظر میں ایران کا یہ دورہ ڈیڈ لاک توڑنے اور جنگ بندی کو تقویت بخشنے کی ایک کامیاب سعی ہے۔

قابل غور بات یہ بھی کہ پاکستان نے اپنی قیادت سے دنیا کو یاد دلایا ہے کہ اسٹرٹیجک بحران کے لمحوں میں جغرافیہ، اعتماد اور سفارتی یادداشت کامیابی کی شاہراہ پر گامزن کرکے منزل کے قریب تر لے جاتے ہیں۔ ان کاوشوں سے پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے نئے ڈھانچے کا مرکزی کمانڈر دکھائی دے رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ بھی ایسے ہی پاک سپہ سالار کو پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار نہیں دے رہا۔ گویا قیام امن کیلئے پاکستان کا راستہ ہی سب سے زیادہ معتبر ہے۔ عسکری ہم آہنگی، توازن اور ٹرمپ فیکٹر کا واضح اشارہ ہے کہ جنرل صاحب امن کے قیام کا بہترین ذریعہ ہیں۔

تازہ ترین