• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(شعری مجموعہ)

شاعر: شبّیرنازش

صفحات: 184، قیمت: 1200روپے

ناشر: رنگِ ادب پبلی کیشنز۔ آفس نمبر5 ،

کتاب مارکیٹ، اُردو بازار، کراچی۔

فون نمبر: 2610434 - 0345

اندرونِ سندھ اور پنجاب کے کئی معروف شعراء جب کراچی میں آباد ہوئے، تو اُن کی شناخت معدوم ہوگئی۔ شبّیر نازش کا تعلق میاں چُنوں سے ہے، لیکن اُنہوں نے اپنی شاعری سے اہلِ کراچی کو اپنا گروید بنالیا۔ اُن کی مقبولیت میں اُن کی منکسر المزاجی نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ نئی نسل کے بیش تر شعراء اپنے بزرگوں سے ہاتھ مِلانا بھی پسند نہیں کرتے، لیکن شبّیر نازش بڑوں کے احترام کو جزوِ زندگی بنائے ہوئے ہیں۔

اُنہوں نے اپنی زیرِ نظر کتاب کا انتساب پروفیسر سحرانصاری، ڈاکٹر پیر زادہ قاسم رضا صدیقی، انور شعور، صابر ظفر اور سلیم کوثر کے نام کیا ہے، اِس سے بھی اُن کی شرافتِ نفسی اور اپنے سینئرز کا احترام عیاں ہے۔ زیرِ نظر مجموعے میں شبّیر نازش نے 72 غزلیں شامل کی ہیں اور ہر غزل ایک سے بڑھ کر ایک ہے۔ اُن کے بعض اشعار تو ایسے ہیں، جن سے اُن کے اسلوب کا تعیّن کیا جاسکتا ہے۔

جی چاہتا ہے کہ اِس مجموعے پر تفصیل سے لکھا جائے، لیکن اختصار ہماری مجبوری ہے۔ بلاشبہ، شبّیر نازش مشاعروں کے کام یاب شاعر ہیں، اِسی لیے اُن کی شرکت مشاعروں کی ضرورت بن گئی ہے۔ اکرم کنجاہی نے بہت تفصیل سے کتاب کا پیش لفظ لکھا ہے، جو ایک سند کا درجہ رکھتا ہے۔ غلام حسین ساجد، ڈاکٹر شفیق الرحمان الہٰ آبادی، شاعر علی شاعر اور عزیر اللہ غالب کے مضامین بھی کتاب کا حصّہ ہیں۔

شبّیر نازش کا پہلا شعری مجموعہ’’آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ‘‘2017 ء میں اور ’’ ہم تری آنکھ سے ہجرت نہیں کرنے والے‘‘ 2022ء میں منظرِ عام پر آیا۔ وہ پنجابی زبان میں بھی شاعری کرتے ہیں، لیکن اُردو شاعری اُن کی شناخت ہے، جو مسلسل ارتقائی منازل طے کررہی ہے۔ اُن کی شاعری کا کمال یہ ہے کہ وہ دل میں اُترتی چلی جاتی ہے اور یہ وصف کسی کسی ہی کو ودیعت ہوتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید