مصنّف : رضی الدّین رضی
صفحات: 247،
قیمت: دونوں حصّے1600روپے
ناشر: گردو پیش پبلی کیشنز۔
فون نمبر: 6780423 - 0318
کراچی اور لاہور کی طرح ملتان کو بھی’’دبستان‘‘ کا درجہ حاصل ہے۔ ملتان کی ادبی تاریخ سے متعلق کئی کتابیں منظرِ عام پر آچُکی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ بلاشبہ، ملتان نے یگانۂ روزگار شخصیات کو جنم دیا اور اگر اُن سب کا تذکرہ لکھا جائے، تو کئی کتابیں مرتّب ہوسکتی ہیں۔ زیرِنظر کتاب دو حصّوں پر مشتمل ہے، جسے رضی الدین رضی نے بہت عرق ریزی سے مرتّب کیا ہے۔
پہلے حصّے میں جنوری 1968ء سے جنوری 2006ء تک کی کہانیاں ہیں اور دوسرے حصّے میں جنوری 2006ء سے اکتوبر 2018ء تک کی ادبی تاریخ ہے۔ اِن دونوں کتابوں میں تقریباً پچاس شخصیات کا تذکرہ شامل ہے، جنہوں نے شاعری، نثر نگاری، مصوّری اور صحافت کے ذریعے دبستانِ ملتان کو ثروت مند کیا۔
ڈاکٹر اسلم انصاری، بشریٰ رحمان، ڈاکٹر انور زاہدی اور پروفیسر انور جمال کے مضامین سے بھی اِس کتاب کی اہمیت و افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ واضح رہے، زیرِ نظر کتاب ملتان کا ادبی منظر نامہ بھی ہے اور ملتان کی ادبی تاریخ بھی۔