شاعر: شبّیر ناقد
صفحات: 452، قیمت: 2500روپے
ناشر: اردو سخن، آرٹ لینڈ، اُردو بازار، چوک اعظم، لیہ۔
فون نمبر: 9297131 - 0303
شبّیر ناقد اُردو اور سرائیکی کے نہایت ممتاز و معتبر شاعر ہیں، جب کہ نثر میں بھی اُن کا خاصا کام ہے۔ پچاس سے زائد شعری اور نثری کتابوں کا مصنّف ہونا کیا کوئی معمولی بات ہے۔ اُن کی پوری زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت ہے۔ ادب کے لیے اِتنا کام وہی کرسکتا ہے، جسے اور کوئی کام نہ ہو۔ ہم نے کبھی شبّیر ناقد کو’’سراپا ادب‘‘ لکھا تھا اور ہم اپنی اِس رائے پر اب بھی قائم ہیں۔ ہم اُن سے کبھی نہیں ملے، لیکن اُن کے کام نے اُن سے ملاقات کا اشتیاق بڑھا دیا ہے۔
ہمارے پیشِ نظر اُن کی’’کلیّات‘‘ ہے، جس میں اُنہوں نے سرائیکی میں کی جانے والی شاعری یک جا کی ہے۔ اس کا دوسرا حصّہ بھی زیرِ اشاعت ہے۔ زیرِ نظر کتاب میں غزلیں بھی ہیں، نظمیں بھی اور قطعات بھی۔ اس کلیّات کا پیش لفظ شبّیر ناقد کے استاد، ابوالبیان ظہور احمد فاتح نے تحریر کیا ہے، جو سرائیکی میں ہے۔
اچھی شاعری کسی بھی زبان میں کی جائے، اپنی جگہ خُود بنا لیتی ہے اور شبیر ناقد کی سرائیکی شاعری میں بھی زندگی کے تمام رنگ موجود ہیں۔ جو لوگ اردو اور سرائیکی، دونوں زبانیں سمجھتے اور بولتے ہیں، وہ اِس کتاب سے زیادہ لُطف حاصل کریں گے۔ ویسے شبّیر ناقد کی سرائیکی شاعری میں جمالیاتی پہلو بھی ہیں اور سماجی و معاشرتی زندگی کا عکس بھی۔ درحقیقت، دنیائے ادب کو شبّیر ناقد جیسے پُرعزم اور دُھن کے پکّے قلم کاروں ہی کی ضرورت ہے۔