دلِ خراب کا کیا ہے سنبھل بھی سکتا ہے
نشاطِ غم سے یہ ناداں بہل بھی سکتا ہے
مجھے جو سونپ گیا انتظار کا موسم
اُسے خبر نہیں، موسم بدل بھی سکتا ہے
ہمیں یقین ہے مظلوم جیت جائے گا
کہ ظالموں کا یہ سورج تو ڈھل بھی سکتا ہے
اب اِس قدر بھی نہ دے زور لب کشائی پر
فسانہ سُن کے مِرا، دل دہل بھی سکتا ہے
دُعا کرو کہ سلامت رہے جُنوں نازاؔں
زمیں پہ خُوں کا سمندر ابل بھی سکتا ہے
(جبیں نازاؔں، لکشمی نگر، نئی دہلی، بھارت)
ہوا سے ہو نہ سکیں گے کبھی وہ سرد چراغ
چلا ہے دل میں جلا کے جو راہ نورد چراغ
شِب فراق جو ظلمت میں جگمگاتے ہیں
نمودِ صُبح پہ ہوتے ہیں وہ ہی زرد چراغ
ہُوا شریک نہ رسماً بھی کوئی ظلمت کا
کبھی نہ دیکھا برابر کے گھر کا زرد چراغ
اُسی کی یاد سے روشن ہے میری بزمِ خیال
جلا گیا جو مِرے دل میں ایک فرد چراغ
فسانہ سُن کے سرِ بزم غم زدہ دل کا
جلا ہی لیتے ہیں پلکوں پہ اہلِ درد چراغ
جگر کے خون سے جؔوہر ادب کی محفل میں
تِری طرح نہ جلائے گا کوئی مرد چراغ
(سیّد سخاوت علی جوہر، کورنگی، کراچی)
ہے عجیب دل کی حالت آج کل
روٹھی روٹھی سی ہے محبّت آج کل
پہلے اداسی اُترتی تھی کبھی کبھی
نہیں حاصل لمحے بھر کی راحت آج کل
کس نارِ جہنّم کی بات کرتے ہو
سینے میں لیے پھرتے ہیں قیامت آج کل
خُود سے بھی ہیں ہو چکے بے زار
محسوس ہوتی نہیں تِری بھی عادت آج کل
(علی امجد، ساہی وال)
سچ بولنا ہے جُرم ہمارے دیار میں
جب ہی تو جھوٹ عام ہے ہر کاروبار میں
زندہ ہوں، پر وہ کیفیتِ زندگی کہاں
پھولوں میں ہے مہک، نہ کشش ہے بہار میں
اتنا سرور ملتا نہیں ہے وصال پر
آتا ہے جتنا لُطف کبھی انتظار میں
کتنا ہی اہتمام، عبادت میں ہو معین
ہوتی نہیں نماز کسی کی خمار میں
( معین قریشی بریلوی)