• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایم شمیم نوید، کراچی

’’ریٹائرمنٹ‘‘، درحقیقت اپنے سَر پرعُمر رسیدگی یا ناکارہ پن کا خوف سوار کرنے کی بجائے ذہنی و جسمانی تھکاوٹ سے آزاد ہو کر شادمانی کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام ہے۔ پورے نظامِ کائنات میں توازن کا اہم کردار ہے۔ خالقِ کائنات نے جہاں اپنی ہر تخلیق میں توازن قائم کر رکھا ہے، وہیں اپنی اعلیٰ و ارفع ترین مخلوق یعنی انسان کو بھی زندگی کے ہر معاملے میں توازن قائم رکھنے کا حُکم دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ محنت و مشقّت کرنے، روزی کمانے کی بھی ایک حد مقرر کر دی گئی ہے اور عُمر رسیدگی کے پہلے ہی عشرے میں انسان کو آرام و سکون کی زندگی گزارنے کاحق دیا گیا ہے تاکہ اُسے اپنے شب و روز میں تازگی و آسودگی محسوس ہو۔ اسی نقطۂ نظر کے تحت دُنیا بَھر میں انسانی محنت و مشقت اور خدمت کی حد مقرّر کرتے ہوئے عُمر کے 60ویں برس کونہ صرف ’’ریٹائرمنٹ کا سال‘‘ قرار دیا گیا بلکہ اِسے باقاعدہ قانونی شکل بھی دی گئی۔

ریٹائرمنٹ کا تصوّر اور مدّت کا تعیّن:جس طرح کسی بھی شے سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کی ایک خاص مدّت ہوتی ہے، بالکل اِسی طرح انسانی ذہن اور جسم سے بہتر انداز سے مستفید ہونے کا بھی ایک وقت مقررہے اور اگر کسی بھی سبب اس دورانیے میں اضافہ کرتے ہوئے جسم اور ذہن کو ماضی کی طرح استعمال میں لایا جائے، تو اس کے مُضر اثرات کا سامنے آنا کوئی حیرت کی بات نہیں۔

اسی حقیقت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے عالمی ادارۂ صحت نے کام کرنے کی عُمر کی حد 60سال مقرر کی ہے۔ (نجی ادارے اس حدبندی سے مستثنیٰ ہیں، کیوں کہ ان اداروں میں مالکان کی صوابدید اور ورکرز کی کارکردگی اور فٹ نیس کی بنیاد پر اُن کی ملازمت کے دورانیے کا تعین کیا جاتا ہے۔)

ریٹائرمنٹ کے نفسیاتی اثرات: عام طور پر خوش حال اور متموّل افراد ریٹائرمنٹ کے بعد گھر میں آرام کو ترجیح دیتے ہیں، جس کی وجہ سے اُن کی ذہنی صحت تو متاثر نہیں ہوتی، لیکن بے جا آرام طلبی اور سہل پسندی کی وجہ سے وہ مختلف جسمانی عوارض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ 

مثال کے طور پر عدم فعالیت اور جسمانی تحرّک نہ ہونے کے سبب موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی زیادتی اور عارضۂ قلب میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جب کہ اس کے برعکس متوسّط، نچلے متوسّط یا غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے 60برس کی عُمر کے بعد بھی کسی نجی ادارے، فیکٹری یا آن لائن خدمات کی فراہمی کی صُورت اپنی ذہنی و جسمانی صحت کی قربانی دیتے رہتے ہیں۔

گرچہ معاشی عدم مساوات اور غُربت ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہے، لیکن اگر خواتین کو تعلیم یافتہ اور ہُنر مند بنایا جائے، تو وہ زندگی کے ان کٹھن لمحات میں اپنے شریکِ حیات کی محنت میں برابر کی شریک ہو کر اُس کا بوجھ تقسیم کر سکتی ہیں اور اس طرح کم وسائل کے باوجود بھی ایک ریٹائرڈ انسان بھی اپنے شب و روز میں توازن اختیار کر کے ایک باعزّت اور آرام دہ زندگی گزار سکتا ہے۔

عام طور پر ملازمت سے ریٹائر ہونے والے افراد یہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے ناکارہ ہوچکے ہیں۔ یہ نہایت غلط سوچ ہے، اِسے اپنے ذہن میں ہرگز جگہ نہ دیں۔ یاد رہے، آپ نوکری سے ریٹائر ہوئے ہیں، زندگی سے نہیں۔ اگر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آپ کے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہیں، تو آپ کوئی جُزوقتی ملازمت یا چھوٹے پیمانے پر کوئی کاروبار شروع کرسکتے ہیں۔

اس موقعے پر آپ کو خود پر بہت زیادہ بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ ہر ماہ پینشن کی صُورت ایک معقول رقم بھی آپ کو ملتی رہتی ہے۔ اگر آپ کی فیملی مختصر ہے اور آپ اپنی اہم ذمّے داریوں (بچّوں کی شادی وغیرہ) سے فارغ ہو چُکے ہیں، تو پھر قناعت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو صرف فلاحی و سماجی سرگرمیوں تک محدود رکھیں اور کسی نئی ملازمت کے چکر میں نہ پڑیں۔ ذہن اور جسم کو فعال رکھنے کے لیے واک کو معمول بنائیں۔ خود کو جوان سمجھیں اور کبھی یہ نہ سوچیں کہ آپ بڑھاپے کی طرف گام زن ہیں۔

ریٹائرمنٹ’’ہاؤس اریسٹ‘‘ کا دوسرا نام ہے؟ بیش تر افراد ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کو آرام اور سہل پسندی کا نعم البدل سمجھتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ حد سے زیادہ آرام طلبی، تنہائی اور یک سانیت انسان کے کتنے بڑے دشمن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عقل مند اہلِ ثروت افراد ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کسی نہ کسی سرگرمی میں مشغول رہتے ہیں۔

خود کو مصروف رکھنے کے لیے کسی رفاہی ادارے کو رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں یا پھر کسی قریبی مسجد یا پارک کی انتظامیہ میں شامل ہو کر ان کا ہاتھ بٹاتے اور خُوب اجروثواب حاصل کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں، اگر گھر میں پوتے، پوتیاں موجود ہیں، تو اُن کو روزانہ اسکول چھوڑنے اور واپس لانے کی ذمّے داری اُٹھالیتے ہیں۔ یوں نہ صرف وہ ذہنی طور پر مصروف رہتے ہیں، بلکہ جسمانی تحرّک بھی برقرار رہتا ہے، نیز وہ اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں لوگوں کے گھریلو، خاندانی مسائل بھی حل کرسکتے ہیں، جو یقیناً صدقۂ جاریہ سے کم نہیں۔

اگر آپ بھی اپنی ریٹائرڈ زندگی کو متوزان اور مفید بنانا چاہتے ہیں، تو آج ہی سے مختلف مثبت سرگرمیاں اختیار کریں۔ یہ سرگرمیاں آپ کو بہت تر و تازہ اور پُرسکون رکھیں گی اور آپ سہل پسندی سے نجات حاصل کر کے مختلف عوارض کا شکار ہونے سے بچے رہیں گے۔ المختصر، ریٹائرمنٹ کو ہراسمنٹ ہرگزنہ بنائیں، مذکورہ بالا طریقوں پر عمل کر کے اس دَورِ زندگی سے بھی بھرپور لطف اُٹھائیں۔

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’متفرق‘‘

٭کراچی، نوگو ایریا (اہلِ محلّہ، ملیر، سعود آباد، کراچی)٭ فاتحِ سندھ، محمّد بن قاسم (بابر سلیم خان، سلامت پورہ ، لاہور)٭عیدالفطر کی فضیلت(صبا احمد) ٭ اسلام کا معیارِ عدل (محمّد صفدر خان ساغر، راہوالی، گوجرانوالہ)٭چالان، زندگی پریشان (مہر پرویز احمد دولو، میاں چنوں)٭الوداع ماہِ رمضان (ڈاکٹر محمّد ریاض علیمی، نیو کراچی، کراچی)٭دیگر مذاہب میں روزے کا تصوّر(ارسلان اللہ خان، حیدرآباد)٭معرکۂ حق وباطل (قاضی جمشید عالم صدیقی، اقبال ٹائون، لاہور) ٭ عمرے کی رُوداد(عمران سلفی)٭جرأت کو سلام (آصف اشرف) ٭چالان، چیل اور چیخیں(پرویز احمد)٭اعتکاف، خوشیاں بانٹنے کا دن(رانا اعجاز حسین چوہان) ٭خوشی کا عالمی دن ، جنگلات کا عالمی دن ، موسمیات کا دن (اختر سردار چوہدری) ٭جھکی ہوئی نظر(مصباح طیب، سرگودھا) ٭شہر کی دیواریں (محمّّد کاشف کما ل میئو)٭کس سے کیا سیکھا(سیّد ذوالفقار حسین نقوی، نیو رضویہ سوسائٹی، کراچی) ٭عیدالفطر، شُکرگزاری کادن(جاوید سیہوانی) ٭بھڑمائونڈ (ملک ذیشان عباس) ٭رام پوری دعوت نامہ (اقبال نور خان رام پوری، کراچی) ٭مسلمان جنگ نہیں لڑ سکتے(محمّد پرویز بونیری)٭تہذیب و انسانیت کا گہوارہ، کینیڈا، تبصرہ احسنِ تقویم (ایم شمیم نوید، گلشنِ اقبال، کراچی)٭تعلیم (شری مُرلی چند گھوگھلیہ، شکارپور) ٭ ماضی، حال ، مستقبل (بلال ناظم، کراچی)٭گیس کی بندش(فضا الٰہی، کراچی)۔

سنڈے میگزین سے مزید