دانیال حسن چغتائی، کہروڑ پکا، لودھراں
اہلِ پاکستان کا شمار دُنیا کے چند ایک بہت زیادہ خیرات کرنے والے افراد میں ہوتا ہے اور یہ خیرات مختلف صُورتوں میں کی جاتی ہے، لیکن اِس ضمن میں ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں اِن صدقات و خیرات کی تقسیم بہت غلط طریقے سے ہوتی ہے اور یہی غلط طرزِعمل مُلک میں گداگری کی شرح بڑھنے کی ایک اہم وجہ بن گیا ہے، کیوں کہ اگر خیرات و زکوٰۃ و صدقات شرعی اصولوں کے مطابق دیئے جائیں، تو معاشرے میں غربت کی شرح میں واضح کمی واقع ہو۔ ہمارے ہاں بِلا سوچے سمجھے، بِنا جانے بُوجھے ہر طرح کے بھکاریوں کی امداد کا رواج عام ہے۔
اِسی سبب پاکستان میں گداگری ایک مافیا کی شکل اختیار کرچُکی ہے۔ گلیوں، بازاروں، اسپتالوں، چوراہوں اور دیگر عوامی مقامات پرجابجا بھکاری، جن میں مَرد، خواتین، بچّے اور بوڑھےسبھی شامل ہوتےہیں، مختلف رُوپ اختیارکیےہاتھ پھیلائے نظر آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، ان میں سے 65فی صد گداگر ہٹے کٹے اور محنت مشقّت کرنے کے قابل ہوتے ہیں، لیکن شہریوں کے ہم دردانہ رویّے اور اپنی کام چوری کے سبب بھیک مانگنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ پیشہ وَر بھکاری شہریوں کے جذبات واحساسات سےکھیل کربھیک وصول کرنے میں ماہر ہوتے ہیں،جب کہ بالخصوص ماہِ رمضان اور عیدین کے موقعے پر تو یہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مُلک کے مختلف حصّوں سے کراچی سمیت دیگر کئی بڑے شہروں کا رُخ کرتے ہیں۔
عُمرانیات کےماہرین گداگری کوایک ایسا سماجی رویّہ قرار دیتے ہیں،جس کےتحت معاشرے کا محروم طبقہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں کی امداد کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ طبقہ باحیثیت افراد سے براہِ راست اشیائےخورونوش، ملبوسات اور دیگر ضروریات کے لیے رقم کا مطالبہ کرتا ہے، نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گداگری، غُربت اور محرومی کے نتیجے میں جنم لینے والی ایک ایسی سرگرمی یا دوسروں کے سامنے کی جانے والی ایسی التجا ہے، جس کا مقصد رقم یا صدقات کا حصول ہوتا ہے۔
عموماً درخواست کرنے والا فرد یہ رقم ذہنی و جسمانی مسائل یا دیگر وجوہ کی بنا پر خُود کمانے سےقاصر ہوتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے مُلک میں وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کے نتیجے میں منہگائی، غُربت، بےروزگاری اور پس ماندگی میں اضافے کے باعث بھی بھکاریوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور ان میں ایک قابلِ ذکر تعداد بہت چھوٹے چھوٹے بچّوں کی بھی ہے۔ واضح رہے، گداگری نہ صرف دُنیا بَھر میں ہمارے مُلک کی بدنامی و رُسوائی کا سبب بن رہی ہے، بلکہ یہ منشیات فروشی، چوری چکاری اور بچّوں کے اغوا سمیت دیگر بہت سے جرائم کو بھی جنم دے رہی ہے۔
مثال کے طور پر بھکاری عورتیں گھروں میں بھیک مانگنے کے بہانے داخل ہو کر لُوٹ مار کی وارداتوں کا باعث بنتی ہیں۔ علاوہ ازیں، گداگر، بچّوں کے اغوا اور اُن کی اس پیشے سے وابستگی میں بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ مغوی بچّوں کو عرب ممالک میں اونٹوں کی دوڑ کے لیے اسمگل کرنے میں بھی گداگر مافیا ہی کا ہاتھ ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان پیشہ ور گداگروں ہی کی وجہ سے حقیقی ضروت مند امداد سے محروم رہتے ہیں۔
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آج پاکستان میں گداگری کا پیشہ باقاعدہ ایک مافیا کی صُورت کر چُکا ہے۔ مُلک بَھر میں پھیلے بھکاری ایک منظّم نیٹ ورک سے منسلک ہیں۔ اور اِسی نیٹ ورک کے سرکردہ افراد گداگروں کو مختلف مقامات پر ’’تعینات‘‘ کر کے اُن سے بھیک منگواتے ہیں، تو ساتھ ہی اُن کی مسلسل نگرانی بھی کی جاتی ہے۔
عموماً بھیک مانگنے کی جگہ کرائے پر حاصل کی جاتی ہے اور ہر بھکاری کا ایک مخصوص ٹھکانا ہوتا ہے، جس کی جگہ کوئی دوسرا بھکاری کسی صُورت کھڑا نہیں ہوسکتا۔ نیز، ان کے بھیک مانگنے کے اوقات متعین ہوتے ہیں۔ نیٹ ورک میں شامل جو بھکاری سب سے زیادہ ’’کما‘‘ کر دیتا ہے، اُس کو اتنے ہی اچّھے علاقے میں تعینات کیا جاتا ہے۔ ایک علاقے کا گداگر دوسرے علاقے میں جا کر بھیک نہیں مانگ سکتا، جب کہ بھکاریوں کے اڈّے لاکھوں روپے کے ٹھیکے پر بِکتے ہیں۔
بہرکیف، معاشی و معاشرتی طور پر گداگری کی وجوہ چاہے کچھ بھی ہوں، درحقیقت یہ ایک لعنت ہی ہے، جو معاشرے کو دن بہ دن پستی و ضلالت ہی میں دھکیلتی ہے۔ اس سےعزتِ نفس اورمحنت کی عظمت جیسے تمام خیالات و نظریات بری طرح مجروح ہوتے ہیں۔
دوسری جانب گداگرچوں کہ اپنی ظاہری حالت بھی ابتر رکھتے ہیں۔ صفائی وسُتھرائی کاکوئی اہتمام نہیں کرتے، تو مختلف النّوع امراض کا شکار ہو کر اپنے اردگرد بسنے والے افراد کوبھی بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے پاکستان میں اب تک حکومت، گداگر مافیا کے خلاف موثر اقدامات میں بری طرح ناکام رہی ہے۔
علاوہ ازیں، مُلک بَھر سے ہرسال بچّوں کو اغوا کرنا اور انہیں بھیک مانگنےسمیت دیگرغلط کاریوں کے لیے استعمال کرنا ایک بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ درحقیقت، گداگرمافیا غریب طبقے سےتعلق رکھنے والے بچّوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے اور اِس ضمن میں اربابِ اختیار کے ساتھ معاشرے کے عام افراد بھی مکمل طور پر ذمّے دار ہیں، جو ان پیشہ وَر گداگروں پر ناحق رحم کھا کر اِنہیں بھیک دیتے ہیں کہ اُن کی بظاہر ثواب کی نیّت سے دی جانےوالی یہ رقم گداگری کے پیشے کو مسلسل پروان چڑھا رہی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیےکہ حقیقی مستحق، ضرورت مند وہ ہے، جس کے پاس بنیادی ضروریات تک پوری کرنے کے وسائل نہیں۔ اور وہ اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنے کے لیے لوگوں سے سوال بھی نہیں کرتا۔ ہمیں ایسے لوگ تلاش کر کے اُن کی مدد کرنی چاہیے۔ اِن پیشہ وَرگداگروں میں توایسے لوگوں کی اکثریت ہے، جو محنت مزدوری کر کے بآسانی اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پال سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اُنہیں اتنی سکت اور ہمّت دے رکھی ہے کہ اگر وہ اپنی صلاحیتیں استعمال کریں، تو دوسروں کےسامنےہاتھ پھیلانے سے بچ سکتے ہیں، لیکن یہ محنت و مشقّت سےجی چُراتے ہوئے کمائی کا آسان راستہ اختیار کرتے ہیں اور حرام وحلال کی تمیزکیے بغیر مال اکٹھا کرنے میں مصروف رہتےہیں۔
دوسری جانب اسلامی شریعت کی رُو سے بھی یہ لوگ صدقات و عطیات کے مستحق نہیں۔ لہٰذا، صاحبِ حیثیت افراد کو چاہیے کہ وہ حاجت مند، مستحق افراد تلاش کرکے اُن پر اپنا مال خرچ کریں، جو عزتِ نفس کےسبب کسی کے آگے دستِ سوال دراز نہیں کرتے، جب کہ اِن پیشہ ور بھکاریوں میں بہت سے ایسے لوگ بھی شامل ہیں،جو باقاعدہ منشیات کے عادی ہیں اور بھیک میں ملنے والی رقم اپنی نشےکی علّت پوری کرنے میں اُڑا دیتے ہیں۔
سو، ایسے لوگوں پررحم کھانا کسی طور دُرست نہیں۔ اپنی حق حلال کی کمائی اصل ضرورت مندوں، حقیقی محتاجوں،جینوئن غریب غرباء پرخرچ کریں، نہ کہ پیشہ وَربھکاریوں، لٹیروں پر لُٹا کے اِن گداگروں کا نیٹ ورک مزید مضبوط و منظّم کریں۔
ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’متفرق‘‘
٭کراچی، نوگو ایریا (اہلِ محلّہ، ملیر، سعود آباد، کراچی)٭ فاتحِ سندھ، محمّد بن قاسم(بابر سلیم خان، سلامت پورہ ، لاہور)٭عیدالفطر کی فضیلت(صبا احمد) ٭ اسلام کا معیارِ عدل (محمّد صفدر خان ساغر، راہوالی، گوجرانوالہ)٭چالان، زندگی پریشان (مہر پرویز احمد دولو، میاں چنوں)٭الوداع ماہِ رمضان (ڈاکٹر محمّد ریاض علیمی، نیو کراچی، کراچی)٭دیگر مذاہب میں روزے کا تصوّر(ارسلان اللہ خان، حیدرآباد)٭معرکۂ حق وباطل (قاضی جمشید عالم صدیقی، اقبال ٹائون، لاہور) ٭ عمرے کی رُوداد(عمران سلفی)٭جرأت کو سلام (آصف اشرف) ٭چالان، چیل اور چیخیں(پرویز احمد)٭اعتکاف، خوشیاں بانٹنے کا دن(رانا اعجاز حسین چوہان) ٭خوشی کا عالمی دن ، جنگلات کا عالمی دن ، موسمیات کا دن (اختر سردار چوہدری) ٭جھکی ہوئی نظر(مصباح طیب، سرگودھا) ٭شہر کی دیواریں (محمّّد کاشف کما ل میئو)٭کس سے کیا سیکھا(سیّد ذوالفقار حسین نقوی، نیو رضویہ سوسائٹی، کراچی) ٭عیدالفطر، شُکرگزاری کادن(جاوید سیہوانی) ٭بھڑمائونڈ (ملک ذیشان عباس) ٭رام پوری دعوت نامہ (اقبال نور خان رام پوری، کراچی) ٭مسلمان جنگ نہیں لڑ سکتے(محمّد پرویز بونیری)٭تہذیب و انسانیت کا گہوارہ، کینیڈا، تبصرہ احسنِ تقویم (ایم شمیم نوید، گلشنِ اقبال، کراچی)٭تعلیم (شری مُرلی چند گھوگھلیہ، شکارپور) ٭ ماضی، حال ، مستقبل (بلال ناظم، کراچی)٭گیس کی بندش(فضا الٰہی، کراچی)۔