• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مہمان نوازی: اسلامی معاشرت کا درخشاں جوہر، بنیادی ستون

دانیال حسن چغتائی، کہروڑپکا، لودھراں

مہمان نوازی، جسے عربی میں ’’ضیافت‘‘ اورفارسی میں ’’مہمانی‘‘ کہا جاتا ہے، اسلامی معاشرت کا درخشاں و بنیادی ستون ہے، جس پر سماجی اخلاقیات کی پوری عمارت اِستادہ ہے۔ مہمان نوازی محض ایک سماجی رسم نہیں، ایمان کا وہ عملی مظاہرہ ہے، جوکسی بھی مسلمان کی شخصیت اوراس کےگھرکے ماحول کو چار چاند لگا دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات نے اس وصف کو ایمانی تقاضا قرار دیا۔ آپﷺ کا ارشادِ پاک ہے کہ ’’جو شخص اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اُسے چاہیے کہ وہ مہمان کی عزّت کرے۔‘‘ یہ حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مہمان نوازی کا تعلق براہِ راست ہمارے بنیادی عقائد سے ہے۔

تاریخِ اسلام پر نظر ڈالی جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام انبیاء و صالحین کی زندگی میں مہمان نوازی کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔ اِس ضمن میں حضرت ابراہیمؑ کا قصّہ بہترین مثال ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے فرستادہ فرشتے انسانی شکل میں حضرت ابراہیمؑ کے پاس آئے، تو آپؑ نے فوراً اُن کے لیے بُھنے ہوئے بچھڑے کا اہتمام کیا اور یہ کوشش کی کہ مہمانوں کو کسی بھی طرح کا بوجھ یا پریشانی محسوس نہ ہو۔

اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں بِلاتاخیر، خلوصِ نیّت اور خندہ پیشانی سے مہمانوں کی خدمت کرنی چاہیے۔ اسی طرح مہاجرینِ مکّہ کو انصارِ مدینہ نے اپنے گھروں میں جگہ دےکر دُنیا کی تاریخ میں بھائی چارے اور مہمان نوازی کی بے نظیر مثال قائم کی، جسے قرآن نے ’’ایثار‘‘ کا شان دار خطاب دیا۔

مہمان نوازی معاشرے کو مربوط و متّحد رکھنے کا بہترین طریقہ ہے۔ جب ایک شخص دوسرے کے گھر مہمان بن کرجاتا ہے، تو اس عمل کے نتیجے میں باہمی تعلقات مضبوط اور تکبّر و تفریق کا خاتمہ ہوتا ہے۔ ایک مہمان اپنے ساتھ رحمت اور برکت لے کر آتا ہے اور جب وہ واپس جاتا ہے، تو میزبان کے گھر سے منفی اثرات ختم کرتا ہے۔

اسی لیے مہمان کی آمد پر کبھی بھی ناگواری کا اظہارنہیں کرنا چاہیے۔ہرطرح کے حالات میں مہمان کا استقبال مسکراہٹ اور کُشادہ دلی ہی سے کیا جائے، خواہ ہمارے پاس اُس کی تواضع کے لیے قلیل سامان ہی کیوں نہ ہو۔ مہمان نوازی کا سب سے پہلا اور اہم مرحلہ مہمان کا گرم جوشی، خندہ پیشانی سے استقبال ہے۔دروازے پرکھڑے ہوکر مہمانوں سے مصافحہ یا معانقہ کرنے کے بعد اُنہیں باوقار انداز سے بیٹھنے کی جگہ فراہم کرنا اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔

گھر میں مدعو کیے گئے افراد کی آئو بھگت میں سادگی کامظاہرہ ہوناچاہیے، کیوں کہ ہمارا مذہب تکلّف اور بناوٹ سے منع فرماتا ہے۔ میزبان کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت اورسہولت کے مطابق مہمان کی خاطر تواضع کرے، بساط سے بڑھ کر کسی شان دارضیافت کا اہتمام ضروری نہیں۔ یاد رہے، سادگی و اِخلاص سے پیش کی گئی ادنیٰ سی شے بھی بناوٹ اور تکلفات بھرے شاہانہ دسترخوان سے ہزارہا درجے بہتر ہے۔

نبی کریمﷺ نےفرمایا۔’’بہترین کھاناوہ ہے، جس پرزیادہ ہاتھ ہوں۔‘‘ اِس کا مطلب ہے، جو کچھ بھی میسّر ہو، اسےمل جُل کر کھایا جائے۔ مہمان نوازی کے اسلامی آداب کی رُو سے گھر آئے مہمانوں کو کھانا فوراً پیش کیا جانا چاہیے، جب کہ کھانے سے پہلے اور بعد میں مہمان کی خیریت دریافت کرنا اور اُس کے آرام و سُکون کا مکمل خیال رکھنا بھی میزبان کے فرائض میں شامل ہے۔ تاہم، اگر مہمان طویل سفر کرکےآیا ہے، تو پہلے اُسے آرام کا موقع دینا چاہیے اور فوراً گفتگو یا مصروفیت میں نہیں اُلجھا دینا چاہیے کہ یہ عمل انسانی مزاج پر منفی اثرات مرتّب کرتا ہے۔

مہمان نوازی کے ضمن میں ایک اہم اور نازک معاملہ مہمان کے قیام کی مدّت ہے۔ شریعت نے مہمان نوازی کی بہترین مدّت تین دن مقرّر کی ہے اورپہلے دن کی ضیافت کو خاص اہمیت دی گئی ہے، جسے ’’جائزہ‘‘ کہا جاتا ہے، جب کہ اگلے دو روز بھی مہمان کی آؤبھگت کی جائے، لیکن اگر مہمان تین دن کے بعد بھی قیام کرتا ہے، تو پھر اس کی ضیافت میزبان پر فرض یا واجب نہیں رہتی۔ دوسری جانب مہمان کو بھی چاہیے کہ وہ میزبان کی سہولت اور مصروفیات کا خیال رکھے اور اس کے لیے غیرضروری بوجھ کا سبب نہ بنے۔

ہمارے معاشرے میں خاندانی نظام اور رشتوں کی مضبوطی کے لیے مہمان نوازی پر خاصا انحصار کیا جاتا ہے، خصوصاً دُور دراز سے آنے والے عزیزواقارب کی خدمت ہماری ثقافت کا خاصّہ ہے۔ یہ بابرکت و مستحسن عمل جہاں خاندان کو بکھرنے، منتشر ہونے سے بچاتا ہے، وہیں بزرگوں سے لےکر بچّوں تک کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔ اِس لیے ہمیں چاہیے کہ مہمان نوازی کے زرّیں اصولوں کواپنی زندگی کا حصّہ بنائیں اور اپنے بچّوں کو بھی یہ آداب سکھائیں تاکہ یہ سُنہری روایت اگلی نسلوں میں بھی منتقل ہوتی رہے۔

مہمان کے سامنےعاجزی کا رویّہ اختیار کرنا اور اسےخود سے افضل سمجھنا ہی مہمان نوازی کی اصل رُوح ہے۔ یاد رہے، مہمان نوازی رسمی ضیافتوں یا چند دن کے قیام تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے میزبان کی ذاتی زندگی اور پورے معاشرے پر دُور رس اثرات مرتّب مثبت ہوتے ہیں اور یہ عمل اخلاقی تربیت کا ذریعہ بنتا ہے کہ جب ہم اپنےمہمان کو اہمیت دیتے ہیں، تو لامحالہ تواضع، ایثاراورانکساری جیسی اعلیٰ صفات کو اپنی ذات کا حصّہ بنارہے ہوتے ہیں۔

اسی طرح مہمان کی ضروریات کا خیال رکھنا، اپنےآرام وسُکون کو ثانوی حیثیت دینا اور اس کی خاطرمدارت کے لیےگھرمیں موجود اشیاء میں سےبہترین پیش کرنا ہمیں خود غرضی اور بُخل جیسی بُری عادات سے نجات دلاتا ہے۔ دوسری جانب یہ نفسیاتی طور پر بھی نہایت صحت مندانہ طرزِعمل ہے، کیوں کہ کسی کی خدمت سے ہمیں خود بھی گہرا قلبی سُکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے،جوکسی بھی مادّی فائدے سےزیادہ قیمتی ہوتا ہے۔

مہمانوں کے استقبال کی طرح اُنہیں رخصت بھی گرم جوشی اور عزّت و احترام سے کرنا چاہیے۔ مہمانوں کو دروازے یا گھر سے کچھ دُور تک چھوڑ کر آنا اسلامی ومشرقی روایات کا حصّہ ہے۔ یہ عمل مہمان کو یہ احساس دِلاتا ہے کہ اس کی یہاں موجودگی کوقدرکی نگاہ سےدیکھا گیا۔ اسی طرح رخصت ہوتے وقت مہمان کا شکریہ ادا کرنا اور آئندہ ملاقات کی خواہش کا اظہار کرنا بھی میزبان کےحُسنِ اخلاق کی نشانی ہے۔

آج کے جدید دَور میں زندگی کی رفتار بہت تیز ہوچُکی ہے اور وقت کی کمی سب سے بڑا عُذر بن چُکی ہے، تو ایسے میں مہمان نوازی کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے۔ رشتےداروں اور عزیزواقارب کےلیےوقت نہ ہونے کے سبب خاندان بکھر رہے ہیں۔ ایسے میں مہمان نوازی ہی وہ واحد ذریعہ ہے، جو ہمیں ایک دوسرے کے قریب لا سکتا ہے۔ اگر ہم اپنے گھر اور دل کے دروازے اپنے عزیزواقارب اور دوست احباب کے لیے کُھلے رکھیں، توقلبی سُکون جیسی دولت سے مالامال ہوسکتے ہیں۔

مہمان نوازی کی حسین روایت، جو ہمارے دِین کا لازمی جُزو ہے، انسانوں کو قریب لانے کا ایک بہت مؤثر ذریعہ ہے۔ درحقیقت، مہمان نوازی ایک مکمل تہذیب اور وسعتِ قلبی کا دوسرا نام ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے، جو دنیوی زندگی میں برکت اور آخرت میں مغفرت کا سبب بنتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اس سُنّتِ حسنہ کو نہ صرف خود اپنائیں بلکہ اپنی نئی نسلوں کو بھی اس کی اہمیت، آداب اور روحانی فوائد سے آگاہ کریں تاکہ ہمارا معاشرہ ہمیشہ محبّت، بھائی چارے اور روحانی پاکیزگی کا نمونہ بنارہے کہ یہی اسلامی تہذیب کا حقیقی جوہر ہے اور اِسی میں ہماری کام یابی پنہاں ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید