اسلام دشمن افکار و نظریات، فواحش و منکرات کا سدِّباب
’’امربالمعروف اورنہی عن المنکر‘‘ میں دو حقیقتیں بیان ہوئیں۔ ایک معروف کا حکم اور دوسرے منکر سے روکنا۔ منکرات شیطانی تدبیر کا حصّہ ہیں، لہٰذا شیطان کے پیروکار منکرات کے فروغ سے اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ اس سے معصیتِ الٰہی پختہ ہوتی اور اسی سے نیکی کا راستہ رُکتا ہے۔
منکرات میں سب سے بڑا درجہ فواحش کا ہے، فحاشی بنیادی طور پر ایسی گفتگو اور ایسا عمل ہے، جو انسان کو بدکاری پر آمادہ کرے، جیسے فحش مکالمے، جنسی جذبات کو ابھارنے والے گیت، عریاں تصاویر، فحش افسانے، ناولز، نظمیں اور مضامین وغیرہ۔ قرآنِ کریم نے مومنوں کو حکم دیا کہ وہ فواحش کے قریب نہ پھٹکیں۔ترجمہ:’’فواحش کے قریب بھی مت پھٹکو، خواہ وہ کُھلی ہوئی ہوں یا چُھپی ہوئی۔(سورۃ الانعام/151)۔
مفسّرین کے مطابق ’’فواحش‘‘ کا اطلاق ان تمام افعال پر ہوتا ہے، جن کا قبیح ہونا، ہر شخص پر فطرتاً واضح ہے اور جن کی برائی اور ناپسندیدگی انسانی ضمیر پر واضح ہو۔ فواحش کو پھیلانا دنیا و آخرت میں سزا کا مستوجب ہے۔ اس حوالے سے قرآن ِ کریم میں فرمایا گیا۔ ترجمہ:’’جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مومنوں میں بے حیائی پھیلے، انھیں دنیا و آخرت میں دُکھ دینے والا عذاب ہوگا اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔‘‘(سورۃ النور/19)۔
رسول اللہﷺ کا ارشادِ گرامی ہے۔’’مومن طنز و تشنیع نہیں کرتا، لعنت نہیں بھیجتا، بدزبانی اور فحش کلامی نہیں کرتا۔‘‘علّامہ سیّد سلیمان ندوی لکھتے ہیں۔’’جس شخص کو کسی بُرے کام کے کرنے میں باک نہیں ہوتا، اس کا نام آزادی اور دلیری نہیں، بلکہ بے حیائی اور بے شرمی ہے، کیوں کہ یہی جذبۂ حیا ہے، جو انسان کو (فواحش و منکرات) برائیوں سے باز رکھتا ہے۔
اگر یہ نہ ہو، تو پھر بے حیا ہوکر انسان جو چاہے، کرسکتاہے۔ اُسے کوئی روک نہیں سکتا۔‘‘ ایک حدیث میں فرمایا گیا۔’’لوگوں نے انبیائے سابقینؑ کی جو باتیں پائی ہیں، اُن میں ایک یہ ہے کہ اگر تم میں شرم و حیا نہ ہو، تو جو چاہو کرو۔‘‘(ابنِ حجر عسقلانی/ فتح الباری 10/434۔ بحوالہ:سیّد سلیمان ندوی/سیرت النبیؐ 6/242)۔
اسلام نے اس شدّت اور سختی سے تمام بُرے کاموں سے روکا ہے کہ حیا اسلام کا ایک مخصوص اخلاقی وصف بن گیا ہے۔ اِسی بناء پر حدیث میں آیا ہے کہ ’’ہر دین کا ایک خاص خُلق ہوتا ہے اور اسلام کا خاص خُلق ’’حیاء‘‘ ہے۔‘‘ (مالک بن انس، امام/ الموطّا، باب ماجاء فی الحیاء)۔ یہ اصول اسلامی ذرائع ابلاغ کے دائرۂ کار کی حدود متعین کرتا اور اسے معاشرے کے لیے مثبت اور مفید بناتا ہے۔
اسلامی ریاست کی ذمّے داری ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کی عملی تطبیق کے لیے ذرائع ابلاغ کی تاثیر کو استعمال کرے اور انہیں شر و فساد کا آلۂ کار نہ بننے دے۔ ’’امربالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ اسلامی معاشرے کی بشمول ذرائع ابلاغ قوتِ محرکہ بھی ہے اور قوتِ ماسکہ (روکنے والی) بھی۔
لہٰذا سوشل میڈیا کے مفید اور مثبت استعمال کی تعلیم و تربیت میں یہ ریاست کی بنیادی ذمّے داری ہے کہ اسلام دشمن افکار و نظریات اور منکرات کے تدارک و سدِّباب میں اپنے کردار اور فرضِ منصبی یقینی بنائے۔(ڈاکٹرخالد علوی/ اسلام کا معاشرتی نظام،صفحہ 417)۔
سوشل میڈیا پر بلا تحقیق اپ لوڈنگ کی حوصلہ شکنی اور تدارک
موجودہ دَور میں ذرائع ابلاغ کے عام ہونے، بالخصوص سوشل میڈیا کے بکثرت استعمال کے بعد یہ عام ہوگیا ہے کہ کسی نے کوئی سنسنی خیز بات کہی، فوراً اسے سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں تک پہنچا دیا گیا۔ (موجودہ دَور میں اس کی ایک مثال ’’بریکنگ نیوز‘‘ بھی ہے کہ جس کے نام پر فوری اور جلد ازجلد خبر پہنچانے کی جستجو میں عموماً بسا اوقات بے بنیاد، من گھڑت اور غیر ذمّے دارانہ خبریں نشر کردی جاتی ہیں)۔ یہ ایک غیر ذمّے دارانہ اور اسلامی تعلیمات کے منافی عمل ہے، اس ضمن میں یہ جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی کہ ایسی سنسنی خیز بات دوسروں تک پہنچانے کے کیا منفی اثرات مرتّب ہوں گے۔
ایسی صورتِ حال کے متعلق قرآنِ مجید میں ارشاد ہے کہ۔ ترجمہ:’’اُس وقت تم کیسی سخت غلطی کر رہے تھے، جب کہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان، اس جھوٹ کو لیتی چلی جارہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جارہے تھے، جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ تم اسے عام سی بات سمجھ رہے تھے، حالاں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات تھی۔‘‘(سورۃ النور/15)۔
اسوۂ رسولؐ اور تعلیماتِ نبویؐ میں ہمیں ایسی بے شمار مثالیں اور متعدد نظائر ملتے ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مَن گھڑت، بے بنیاد بات کہنا، بلا تحقیق بات کو آگے بڑھانا اسلامی تعلیمات کے منافی عمل اور بدترین گناہ ہے۔ معلّمِ انسانیت، سرورِ کائناتِ حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ترجمہ:’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ (بلا تحقیق) ہرسنی سنائی بات (آگے) بیان کردے۔‘‘(ابنِ ابی شیبہ/ المصنّف، بیروت، 7/407)۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ترجمہ:’’جھوٹ سے بچو، کیوں کہ یہ ایمان سے ہٹا دیتا ہے۔‘‘(جلال الدین سیوطی/ جمع الجوامع، بیروت)۔
آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے۔ ترجمہ:’’بڑی خیانت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات کہو کہ وہ تمہیں سچّا جانتا ہو اور تم اس سے جھوٹ بولنے والے ہو۔‘‘ (رسالت مآب ﷺ کا یہ ارشادِ گرامی ذرائع ابلاغ، بالخصوص سوشل میڈیا پر مَن گھڑت، بے بنیاد اور بلا تحقیق خبر کی نشر و اشاعت کے حوالے سے ایک شدید وعید ہے، جس سے خبر یا بات بیان کرنے سے قبل اس کی تحقیق اور صداقت کی اہمیت کا پتا چلتا ہے)۔ لہٰذا اسلامی ریاست کا یہ بنیادی فریضہ ہے کہ وہ ریاستی سطح پر سوشل میڈیا کے مفید استعمال کی تعلیم و تربیت اپنی ذمّے داری سمجھے اور اس سلسلے میں اپنی عمل داری یقینی بنائے۔
فرض شناسی اور ذمّے داری کے تصوّر کا احیاء
اسلامی ریاست میں ذرائع ابلاغ مغربی معاشرے کی طرح مادر پدر آزاد نہیں،ان پر بھی مروّجہ قوانین، اسلامی تعلیمات اور طے شدہ اصول و ضوابط کی پابندی لازم ہے۔(ڈاکٹرمحمد یوسف القرضاوی/ایمان اور زندگی، صفحہ 173۔174)۔ لہٰذا ان تعلیمات، اصول و ضوابط اور اخلاقی اقدار کا تقاضا ہے کہ ذرائع ابلاغ پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے استعمال میں مجوزہ اصولوں کو پیش ِنظر رکھا جائے۔
آزادئ اظہار کا حق کئی شرائط کے تابع ہے، یہ ایک دوسرے کو بدنام کرنے، ایک دوسرے کی تحقیر، نام لے کر توہین کرنے، غیبت، ایک دوسرے کی خلوت کی جاسوسی، جھوٹ بولنے اور جھوٹی شہادت دینے سے مکمل اجتناب کا حکم دیتا ہے۔ کوئی شخص سنی سنائی بات پر تصدیق کیے بغیر اس پر عمل نہیں کرسکتا۔ (ایضاً محمد یوسف القرضاوی/ ایمان اور زندگی، صفحہ173)۔
سوشل میڈیا کے مفید استعمال کی تعلیم و تربیت کے ضمن میں ریاست کی بنیادی ذمّے داری ہے کہ وہ اس حوالے سے عوام النّاس میں اسلامی تعلیمات کے مطابق شعور و آگہی پیدا کرے۔ ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو پہلے تحقیق کرلیا کرو، کہیں نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو اور کل تمہیں پچھتانا پڑے۔‘‘(سورۃ الحجرات/6)۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ۔ ’’شیطان آدمی کے بھیس میں کام کرتا ہے، وہ لوگوں کے پاس آکر جھوٹی باتیں بیان کرتا ہے، پھر لوگ جدا ہوجاتے ہیں۔ یعنی مجلس ختم ہوجاتی ہے اور یہ لوگ منتشر ہوجاتے ہیں تو اُن میں ایک شخص کہتا ہے کہ مَیں نے یہ بات سنی ہے، جس کا چہرہ تو مَیں پہچانتا ہوں، مگر نام نہیں جانتا۔‘‘
درج بالا تعلیمات میں تلقین کی گئی ہے کہ آزادیِ صحافت، آزادیِ اظہارِ رائے کے نام پر بلا تحقیق کوئی بات یا اطلاع آگے نہ پھیلائی جائے، کیوں کہ اس طرح معاشرے میں بہت سی برائیوں کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، اسلام غور و فکر اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے۔ معروف حدیث ہے کہ’’آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ (ہر)سنی سنائی بات (بلا تحقیق) آگے بیان کردے۔‘‘( ڈاکٹر محمد وسیم اکبر شیخ/ اسلامی ریاست میں آزادی ذرائع ابلاغ کی حدود،صفحہ 74)۔
اسلامی ذرائع ابلاغ میں اظہارِ رائے کی آزادی معاشرے میں نیکی و بھلائی، عدل و انصاف کے قیام اور افرادِ قوم میں اخوت و بھائی چارہ پیدا کرنے سے مشروط ہے۔ عوام کو سچّی، بامقصد خبروں کے ساتھ ساتھ عملی تفریح فراہم کی جائے۔
پروفیسر شفیق جالندھری لکھتے ہیں ۔’’اظہارِ خیال کی (بے لگام، بے قید اور) مکمل آزادی کا تصور کسی بھی معاشرے میں قابلِ قبول نہیں، تقریباً ہر ملک کے اخبارات و جرائد میں ایسا مواد شائع کرنے پر پابندی عائد ہے، جس سے ہتک ِعزت یا بلیک میلنگ ہو، یا اشتعال انگیزی ہو اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچے۔‘‘ (بحوالہ: ڈاکٹر شفیق جالندھری/ صحافت اور صحافی،صفحہ 27)۔ لہٰذا یہ اسلامی ریاست کی بنیادی ذمّے داری ہے کہ وہ ان اخلاقی اقدار، اصول و ضوابط اور تعلیمات پر عمل اور اپنی عمل داری یقینی بنائے، تاکہ ریاست کا ہرہر فرد سوشل میڈیا کے استعمال میں مکمل احتیاط برتے۔
سنسنی خیزی، دروغ گوئی، غلط بیانی کا تدارک و سدّباب
اسلامی نقطۂ نظر سے خبر کی صحت ابلاغ کی اوّلین شرط ہے۔ معلومات میں اگر صداقت اور ثقاہت کے عناصر موجود نہیں، تو وہ فریب کاری ہے، جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ یوں بھی اطلاعات کی فراہمی اور خبروں کی اشاعت میں بے احتیاطی کئی مسائل کا باعث بنتی ہے۔
عام طور پر سوشل میڈیا پہ مَن گھڑت، بے بنیاد، سنسنی خیزی اور غلط بیانی پر مبنی خبریں اَپ لوڈ کردی جاتی ہیں، جن سے معاشرے میں انارکی پھیلتی اور عامۃ الناس کی عزت و توقیر پر حرف آتا ہے، تو اس کا تدارک و سدِّباب اسلامی ریاست کا بنیادی فریضہ ہے۔
بندوں کے حقوق کے ضمن میں اوّلین بات ان کی عزت و وقار ہے، جب کہ ’’ذرائع ابلاغ‘‘ بالخصوص سوشل میڈیا اپنے غیرذمّے دارانہ رویّے کی بنیاد پر کسی فرد یا گروہ سے متعلق غلط اطلاع دے کر اس کا وقار مجروح کردیتا ہے۔ قرآنِ مجید، مومنوں کو راست گوئی کی تلقین کرتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ:’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور (صاف، سچّی اور بے لاگ)ٹھیک بات کیا کرو۔‘‘دیلمی کی ’’مسندِ فردوس‘‘ میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشادِ گرامی منقول ہے، جس میں آپؐ نے فرمایا۔ ’’ملعونٌ، ملعونٌ من کذب‘‘،’’ملعون ہے، ملعون ہے وہ شخص، جس نے جھوٹ بولا۔‘‘ (الاحزاب/70)۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ’’کیا میں تمہیں بتائوں کہ کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہ کون سے ہیں۔ (راوی کہتے ہیں) ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ! فرمائیے۔ آپؐ نے فرمایا۔ ’’خبردار! جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی، خبردار جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی، آپﷺ باربار یہی فرماتے رہے، حتیٰ کہ مَیں نے خیال کیا کہ شاید آپؐ سکوت نہ فرمائیں گے۔‘‘(بخاری/ الجامع الصحیح، باب عقوق الوالدین)۔
لہٰذا، ذرائع ابلاغ/سوشل میڈیا پر یہ دینی، اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمّے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ درست، صحیح معلومات اور مصدقہ خبروں کا ابلاغ اور نشرو اشاعت کریں۔ انسان کے لیے ہر قول و عمل کی بنیاد یہ ہے کہ اس کا دل اور زبان ہم آہنگ ہوں۔ اسی کا نام صدق اور سچّائی ہے، جو سچّا نہیں، اس کا دل ہر برائی کا گھر ہوسکتا ہے اور جو سچّا ہے، اس کے لیے ہر نیکی کے حصول کا راستہ آسان ہے۔
لہٰذا سچّائی پر عمل پیرا ہونا اور اسے لازم پکڑ لینا ضروری ہے۔قرآنِ کریم صرف صداقت پر قائم رہنے ہی کی بات نہیں کرتا، وہ مومنوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ سچ کا ساتھ دیں اور سچّے لوگوں کے ساتھ شامل رہیں۔ اس حوالے سے فرمایا گیا۔ترجمہ:’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچّے لوگوں کے ساتھ ہوجاؤ۔‘‘ (التوبہ/119)۔
ذرائع ابلاغ، بالخصوص سوشل میڈیا جب معلومات فراہم کرتے ہیں تو وہ ایک طرح کی گواہی ہوتی ہے۔ گواہی کے سلسلے میں دو باتیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ گواہی سچ پر مبنی ہو اور دوسرے یہ کہ گواہی کو چھپایا نہ جائے۔ قرآنِ مجید نے ان دونوں باتوں سے متعلق واضح احکام دیے ہیں۔ اسلامی ریاست میں ذرائع ابلاغ اور خاص طور پر سوشل میڈیا صارفین کی ذمّے داری ہے کہ وہ عوام کو صحیح صورتِ حال سے آگاہ کریں اور معاشرے کو فساد انگیزیا شرانگیزی پر مبنی معلومات سے محفوظ رکھیں۔
افواہ سازی اور بہتان تراشی سے گریز کیا جائے۔ اسلام، اطلاعات کی بہم رسانی میں تحقیق کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ سو، قرآن و سنّت اور سیرتِ طیبہ کی ان تمام تعلیمات کو، جو ذرائع ابلاغ بالخصوص عصرِ حاضر کے سوشل میڈیا کے حوالے سے راہ نما ہدایات اور اصول و ضوابط کی حیثیت رکھتی ہیں، ان پر یقینی عمل درآمد ایک اسلامی ریاست کا بنیادی فریضہ، اہم ذمّے داری ہے۔ (جاری ہے)