• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’سوشل میڈیا‘‘ کا مثبت، تعمیری استعمال اور اس کے تقاضے (قسط نمبر4)

اسلامی ریاست میں ذرائع ابلاغ کا تعلق خواہ کسی بھی شعبے سے ہو، قرآن و سنّت اور اسلامی تعلیمات میں اس کی سمت اور مقصد کا تعین کردیا گیا ہے۔ ابلاغ کے معنیٰ پھیلانے اور پہنچانے کے ہیں اور اسلام نے یہ طے کردیا کہ پھیلانے اور پہنچانے کی چیز صرف معروف ہے۔

ذرائع ابلاغ بشمول سوشل میڈیا کا مثبت، تعمیری کردار یہ ہے کہ ’’منکرات‘‘ کے تدارک و سدِّباب کا فریضہ انجام دیں۔ اسلامی اقدار پر جس سمت سے کوئی حملہ ہو، اس کا بھرپور، موثر جواب دینا اس کا بنیادی فریضہ ہے۔ گویا فروغِ خیر اور انسدادِ شر، میڈیا کا بنیادی کام ہے۔ اسلام نے ’’ذرائع ابلاغ‘‘ کے لیے ایک ضابطۂ اخلاق مقرر کیا ہے، جس کی پابندی کے بغیر وہ مثبت، تعمیری کردار ادا نہیں کرسکتے۔

جس طرح ایک بداخلاق شخص تطہیرِ اخلاق اور تزکیۂ نفس کا کام انجام نہیں دے سکتا، اسی طرح بے مہار ذرائع ابلاغ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اسلامی اقدار کے فروغ و تحفّظ کا فریضہ انجام دیں۔ اس ضابطۂ اخلاق کے چند راہ نما اصول قرآنِ کریم کی روشنی میں حسبِ ذیل ہیں۔

(1) حق گوئی و بے باکی:ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’اے ایمان والو! انصاف قائم کرنے والے بنو، اللہ کی خاطر گواہی دینے والے، چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو، یا والدین اور رشتے داروں کے خلاف۔ وہ شخص (جس کے خلاف گواہی دینے کا حکم دیا جارہا ہے) چاہے امیر ہو یا غریب، اللہ دونوں قسم کے لوگوں کا (تم سے) زیادہ خیرخواہ ہے، لہٰذا ایسی نفسانی خواہش کے پیچھے نہ چلنا، جو تمہیں انصاف سے روکتی ہو اور اگر تم توڑ مروڑ کرو گے (یعنی غلط گواہی دو گے) یا (سچی گواہی دینے سے) پہلوتہی کرو گے تو (یاد رکھنا کہ) اللہ تمہارے تمام کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘(سورۃ النساء135)۔

(2) شہادتِ حق: اس حوالے سے ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’اور گواہی کو نہ چھپائو، اور جو گواہی کوچھپائے، وہ گناہ گار دل کا حامل ہے اور جو عمل بھی تم کرتے ہو، اللہ اس سے خوب واقف ہے۔‘‘(سورۃ البقرہ273)۔(3) کتمانِ حق سے گریز: ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’اور حق کو باطل کے ساتھ گڈ مڈ نہ کرو اور نہ حق بات کو چھپاؤ، جب کہ (اصل حقیقت) تم اچھی طرح جانتے ہو۔‘‘(سورۃ البقرہ42)۔(4) صاف اور سیدھی بات: ارشادِ ربّانی ہے۔

ترجمہ: ’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور سیدھی سچی بات کیا کرو۔ اللہ تمہارے فائدے کے لیے تمہارے کام سنوار دے گا اور گناہوں کی مغفرت کردے گا، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول(ﷺ)کی اطاعت کرے، اُس نے وہ کام یابی حاصل کرلی، جو زبردست کام یابی ہے۔‘‘(سورۃ الاحزاب70۔71)۔ (5) 

دعوت و نصیحت، بطریقِ احسن: ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کرکے دعوت دو اور (اگر بحث کی نوبت آجائے تو) ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو، جو بہترین ہو۔‘‘(سورۃ النحل125)۔(6) بہترین انسدادی تدبیر اختیار کرنا: ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’ (لیکن جب تک وہ وقت نہ آئے) تم برائی کا ازالہ ایسے طریقے سے کرتے رہو، جو بہترین ہو۔‘‘(سورۃ المؤمنون96)۔ (7) بدی کے بدلے نیکی:ارشادِ ربّانی ہے۔ترجمہ:’’اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی۔

تم بدی کا تدارک ایسے طریقے سے کرو، جو بہترین ہو۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایسا ہوجائے گا، جیسے وہ (تمہارا) جگری دوست ہو۔‘‘(سورئہ حٰم السجدہ34)۔ (8) امر بالمعروف و نہی عن المنکر: اس حوالے سے ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے، جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں، جو فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (سورئہ آلِ عمران 104)۔

ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’تم وہ بہترین اُمّت ہو، جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے۔ تم نیکی کی تلقین کرتے، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘(سورئہ آلِ عمران 110)۔(9) عزتِ نفس اور احترامِ آدمیت کا پاس و لحاظ: ارشادِ ربّانی ہے۔

ترجمہ:’’اے ایمان والو! نہ تو مَرد، دوسرے مَردوں کا مذاق اُڑائیں، ہوسکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اُڑا رہے ہیں) خود اُن سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اُڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ (جن کا مذاق اُڑا رہی ہیں) خود اُن سے بہتر ہوں، اور تم ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیا کرو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے پُکارو۔

ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا بہت بُری بات ہے، اور جو اِن باتوں سے باز نہ آئیں، تو وہ ظالم لوگ ہیں۔‘‘(سورۃ الحجرات11)۔ (10) غیبت سے گریز:اس حوالے سے ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مَرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو خود تم نفرت کرتے ہو، اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، بہت مہربان ہے۔‘‘(سورۃ الحجرات12)۔(11) بدگمانی سے پرہیز:اس حوالے سے ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الحجرات12)۔

(12) خواتین کے معاملے میں خصوصی احتیاط کی ہدایت:ارشادِ ربّانی ہے۔ترجمہ:’’(بے شک) یاد رکھو کہ جو لوگ پاک دامن، بھولی بھالی (مسلمان) عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں، اُن پر دنیا اور آخرت میں پھٹکار پڑچکی ہے اور اُنھیں اس دن زبردست عذاب ہوگا، جس دن خود اُن کی زبانیں، اُن کے ہاتھ اور اُن کے پاؤں اُن کے خلاف اس کرتوت کی گواہی دیں گے، جو وہ کرتے رہے ہیں۔ اس دن اللہ اُنھیں پورا پورا بدلہ دے دے گا، جس کے وہ مستحق ہیں اور اُنھیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ہی حق ہے اور وہی ساری بات کھول دینے والا ہے۔‘‘(سورۃالنور25-23)۔(13) خبر کی اشاعت اور ابلاغ سے قبل مکمل تحقیق:اس حوالے سے ارشادِ ربّانی ہے۔

ترجمہ: ’’جب تم اپنی زبانوں سے اس بات کو ایک دوسرے سے نقل کر رہے تھے اور منہ سے وہ بات کہہ رہے تھے، جس کا تمہیں کوئی علم نہیں اور تم اس بات کو معمولی سمجھ رہے تھے، حالاں کہ اللہ کے نزدیک وہ بڑی سنگین بات تھی۔‘‘(سورۃ النور:15۔16)۔

ایک اور مقام پر ابلاغِ عامّہ اور صحافتی اقدار کے بنیادی اصول، ابلاغ اور خبر کی نشر و شاعت سے قبل مکمل تحقیق کے حوالے سے فرمایا گیا۔’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔‘‘(سورۃ الحجرات6)۔(14) نجی زندگی کا تحفّظ:ارشادِ ربّانی ہے۔

ترجمہ:’’اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا، دوسرے گھروں میں اُس وقت تک داخل نہ ہو، جب تک اجازت نہ لے لو، اور اُن میں بسنے والوں کو سلام نہ کرلو۔ یہی طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے، اُمید ہے کہ تم خیال رکھو گے اور اگر تم اُن گھروں میں کسی کو نہ پاؤ، تب بھی اُن میں اُس وقت تک داخل نہ ہو، جب تک تمہیں اجازت نہ دے دی جائے، اور اگر تم سے کہا جائے کہ ’’واپس چلے جائو‘‘ تو واپس چلے جائو، یہی تمہارے لیے پاکیزہ ترین طریقہ ہے اور تم جو بھی عمل کرتے ہو، اللہ کو اُس کا پورا پورا علم ہے۔‘‘ (سورۃ النور28-27)۔

(15) تجسّس، کھوج، کرید سے گریز:اس حوالے سے ارشادِ ربّانی ہے۔ ’’ترجمہ: ’’اور کسی کی ٹوہ (تجسّس) میں نہ لگو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو خود تم نفرت کرتے ہو اور اللہ سے ڈرو، بے شک، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، بہت مہربان ہے۔(سورۃ الحجرات12)۔(16) فحاشی و بے حیائی سے اجتناب اور اس کا سدِّباب:ارشادِ ربّانی ہے۔

ترجمہ:’’(بے شک) یاد رکھو کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے، اُن کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے، اور تم نہیں جانتے۔‘‘(سورۃ النور19)۔ نیز، ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’اور بے حیائی کے کاموں کے قریب بھی نہ پھٹکو، چاہے وہ بے حیائی کُھلی ہوئی ہو یا چُھپی ہوئی۔‘‘ (سورۃ الانعام151)۔ ایک اور مقام پر فرمایا گیا۔

ترجمہ:’’اے آدم کے بیٹو اور بیٹیو! شیطان کو ایسا موقع ہرگز نہ دیناکہ وہ تمہیں اسی طرح آزمائش میں ڈال دے، جیسے اُس نے تمہارے ماں باپ (آدم و حوّا) کو جنّت سے نکالا، جب کہ اُن کا لباس اُن کے جسم سے اُتروالیا تھا، تاکہ انھیں ایک دوسرے کی شرم کی جگہیں دکھا دے، وہ اور اُس کا جتّھا تمہیں وہاں سے دیکھتا ہے، جہاں سے تم اُنھیں نہیں دیکھ سکتے۔ ان شیطانوں کو ہم نے انہی کا دوست بنا دیا ہے، جو ایمان نہیں لاتے۔‘‘ (سورۃ الاعراف27)۔

مزیدارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’اے ایمان والو! تم شیطان کے پیچھے نہ چلو اور اگر کوئی شخص شیطان کے پیچھے چلے، تو شیطان ہمیشہ بے حیائی اور برائی کی تلقین کرے گا۔‘‘ (سورۃ النور21)۔ ایک اور جگہ ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’وہ (شیطان) تو تمہیں یہی حکم دے گا کہ تم بدی اور بے حیائی کے کام کرو اور اللہ کے ذمّے وہ باتیں لگاؤ، جن کا تمہیں عِلم نہیں۔‘‘(سورۃ البقرہ 169)۔(17) نیکی اور پرہیزگاری میں باہمی تعاون:ارشادِ ربّانی ہے۔

ترجمہ:’’اور نیکی اور تقویٰ (پرہیز گاری) میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو، اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک، اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔‘‘(سورۃ المائدہ2)۔(18) بدی اور گناہ کے کاموں میں عدم تعاون: اس حوالے سے ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک، اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔‘‘(سورۃ المائدہ2)۔

(19) مذہبی دل آزاری سے گریز:اس حوالے سے ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ: ’’(مسلمانو!) جن (جھوٹے معبودوں) کو یہ لوگ اللہ کے بجائے پُکارتے ہیں، تم اُنھیں بُرا نہ کہو، جس کے نتیجے میں یہ لوگ جہالت کے عالم میں حد سے آگے بڑھ کر اللہ کو بُرا کہنے لگیں۔‘‘(سورۃ الانعام107)۔ (20) اظہارِ خیال میں شائستگی:ارشادِ ربّانی ہے۔ ترجمہ:’’اور (مسلمانو!) اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو، مگر ایسے طریقے سے، جو بہترین ہو۔‘‘(سورۃ العنکبوت 42)۔

قرآنِ کریم کی یہ ہدایات و تعلیمات اسلامی معاشرے کی ابلاغی حکمتِ عملی اور ذرائع ابلاغ کے لیے وہ مثالی ضابطۂ اخلاق اور بنیادی فلسفہ ہیں، جو قرآنِ کریم نے اپنی تعلیمات کے ذریعے ہمیں عطا فرمایا۔ بلاشبہ، ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے کردار اور ذمّے داریوں کے حوالے سے یہ سنہری تعلیمات اسلامی معاشرے میں بنیادی اصول اور قانون کی حیثیت رکھتی ہیں، جن پر عمل، اسلامی معاشرے کے ہر فرد بالخصوص ذرائع ابلاغ، پرنٹ، الیکٹرانک و سوشل میڈیا سے وابستہ افراد کی بنیادی ذمّے داری ہے۔

امربالمعروف و نہی عن المنکر، نیکی کی اشاعت، برائی کا سدّباب: 

نیکی کا فروغ اور برائی کی روک تھام، اسلامی طرزِمعاشرت کا بنیادی اصول ہےاور ذرائع ابلاغ/سوشل میڈیا کے لیے بھی اس اصول کی پابندی لازمی ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا کے مفید استعمال کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے اسلامی ریاست کی بنیادی ذمّے داری اور فریضہ یہ ہے کہ وہ معاشرے میں ’’امربالمعروف اور نہی عن المنکر‘‘ کا فریضہ عام کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

اسلامی نصب العین کا ایک نہایت اہم پہلو، نیکی کا فروغ اور برائی کا سدِّباب ہے کہ برائی جلد پھیلتی ہے اور نہ صرف پھیلتی، بلکہ نیکی کا راستہ بھی روکتی ہے، اس لیے برائی کی تھوڑی سی حوصلہ افزائی، بلکہ اس سے صرفِ نظر معاشرے کے اجتماعی سکون کے لیے مہلک اور تباہ کُن ہے۔

قرآنِ مجید نے تو اُمّتِ مسلمہ کے وجود کا مقصد ہی’’امربالمعروف اور نہی عن المنکر‘‘ قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ:تم دنیا میں بہترین اُمّت ہو، جسے انسانوں کے لیے اُٹھایا گیا۔ تم نیکی کا حکم دیتے اور بُرائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ (سورئہ آلِ عمران/110)۔ حضورِاکرم ﷺ نے اُمّت کو اس سلسلے میں متنبہ کرتے ہوئے فرمایا۔’’قسم ہے اُس ذات کی، جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ تمہیں نیکی کا ضرور حکم دینا ہوگا اور برائی سے ضرور روکنا ہوگا، ورنہ عین ممکن ہے کہ اللہ تم پر اپنی طرف سے عذاب بھیج دے، پھر تم اُسے پُکارو گے اور تمہیں جواب نہ آئے گا۔‘‘(ترمذی، ابواب الفتن، باب ماجاء فی الامر بالمعروف والنہی عن المنکر، 2/39)۔

حضوراکرمﷺ کے ارشادات میں بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’تم میں سے جو کوئی بُرائی کو دیکھے، تو اُسے ہاتھ سے درست کردے اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو، تو اپنی زبان سے، اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو، تو اپنے دل سے (بُرا جانے) اور یہ کم زور ترین ایمان ہوگا۔ (مسلم/ الجامع الصحیح ، بیروت دارالمعارف، کتاب الایمان، بیان کون النہی عن المنکر، 1/50)۔

حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا۔ ’’قسم ہے اُس ذات کی، جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ تمہیں نیکی کی ضرور ہدایت کرنی ہوگی اور بُرائی سے ضرور روکنا ہوگا، ورنہ عین ممکن ہے اللہ تم پر اپنی طرف سے عذاب بھیجے، پھر تم اسے پُکارو اور تمہیں جواب نہ آئے گا۔ (ترمذی، الجامع الصحیح، کتاب الفتن، ماجاء فی الامر بالمعروف، 4/467)۔

ان آیات و احادیث سے اسلامی معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت پر روشنی واضح ہوجاتی ہے۔ رسولِ اکرمﷺ نے اپنی اُمّت کو نیکی پھیلانے اور بھلی بات آگے پہنچانے کی تربیت دی اور احساس بھی دلایا۔ بدی کو روکنے کا حکم دیا اور اس سے تعاون کرنے کے انجامِ بد سے ڈرایا۔ سو، اسلامی ریاست میں ذرائع ابلاغ کی پالیسی، اسی اصول کے تابع ہونی چاہیے کہ اسلامی نظریۂ ابلاغ میں نیکی کا فروغ ہی وہ اساسی اینٹ ہے، جس پر میڈیا کی پوری عمارت قائم ہونی چاہیے۔

علماء کی اس پر دو آراء ہیں کہ آیا نیکی کا حکم اور بُرائی سے روکنا صرف حکم رانوں اور علماء کا کام ہے یا ہر مسلمان کے لیے فرض ہے؟ تو اس ضمن میں امام فخرالدین رازیؒ کا قول ہے۔ ’’اس فرض کا حکم صرف کچھ لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی فریضہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم تمام اُمّتِ مسلمہ پر عائد کیا ہے۔‘‘

لہٰذا سوشل میڈیا کے مفید استعمال کی تعلیم و تربیت میں یہ ریاستی ذمّے داریوں میں شامل ہے کہ وہ عامّۃ النّاس میں اس بات کا شعور پیدا کرے کہ اسلامی معاشرے میں عام افراد اور ریاست پر نیکی کا حکم دینے اور بدی سے روکنے کی کیا ذمّے داری ہے، بالخصوص سوشل میڈیا صارفین کے لیے یہ تعلیمات اصول و ضوابط اور آئین و قانون کی حیثیت رکھتی ہیں کہ وہ اس پلیٹ فارم سے نیکی کا حکم عام کریں اور بُرائی کے تدارک و سدِّباب میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ (جاری ہے)

سنڈے میگزین سے مزید