حسبِ روایت ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی آپ کو ’’مدرز ڈے‘‘ کے موقعے پر اپنی پیاری، بلند مرتبہ، عظیم ماؤں کے نام پیغامات بھیجنے کا سندیسہ دیا، اور جواباً آپ کی جانب سے بھی ہمیشہ کی طرح محبّت و عقیدت کے الفاظ میں گُندھے دِلی جذبات و احساسات سے معمورڈھیروں ڈھیر پیغامات وصول ہوئے، جنہیں ایک ساتھ شائع کرنا ممکن نہ تھا، تو آج ملاحظہ فرمائیے، اپنی ماؤں کے نام پیغامات کا دوسرا اور آخری حصّہ۔
(امّی جان کے لیے)
امّی جان! ہرچند کہ آج آپ ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن آپ ہمیشہ ہماری دُعاؤں میں زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ آپ کی ہر چھوٹی بڑی خطا معاف فرمائے اور آپ کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے۔ (طیّب لطیف قاضی، محلہ قاسم آباد، راول پنڈی کا پیغام)
(والدہ مرحومہ کے نام)
بےشک ماں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ہماری والدہ مرحومہ نے ہم آٹھ بہن، بھائیوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت اس احسن انداز سے کی کہ آج بھی اُن کی وجہ سے اعزہ و اقربا اور دیگر لوگ ہمیں عزّت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور بروزِ قیامت بی بی فاطمہؓ کے ساتھ محشور فرمائے۔ (سیّد اعزاز حسین باقری ایڈووکیٹ، کوئٹہ کی جانب سے)
(ماؤں کے نام)
’’مدرز ڈے‘‘ پر مَیں تمام ماؤں کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ماؤں کی قدر اور خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ (نبیل اختر، محلہ راجا سلطان، راول پنڈی کا سندیسہ)
(بے حدپیاری مما،سیّدہ ایلیا رضا نقوی کی پُر خلوص محبّتوں اور چاہتوں کے نام)
؎ چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے… مَیں نے جنّت تو نہیں دیکھی ہے، ماں دیکھی ہے۔ (سیّد محمد حیدر رضا زیدی، گلستان سوسائٹی، کراچی کا پیار)
(ماں کے لیے)
؎ ماں خواب میں آ کر یہ بتا جاتی ہے ہر روز… بوسیدہ سی اوڑھی ہوئی اِس شال میں ہم ہیں۔ (کوثر بنتِ عبدالعزیز خان، شادمان، نارتھ ناظم آباد، کراچی)
(ماؤں کے نام)
اولاد کی تربیت میں ایک ماں کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ ایک ماں اپنے بچّے کے لیے درس گاہ کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں وہ شعور کی منازل طے کرتا ہے اور ماں کی تربیت ہی اولاد کی کام یابی کی ضامن ہوتی ہے۔ اگر ماں حضرت فاطمہؓ کی طرح مثالی ہوگی، تو فرزند بھی سیّدنا حسینؓ جیسے ارجمند ہی پیدا ہوں گے۔ (چوہدری قمرجہاں علی پوری، ملتان کا سندیسہ)
(پیاری امّی جان کے لیے)
پیاری امّی جان! اللہ تعالیٰ آپ کو اور ہمارے پیارے ابوّ جان، سلیم قریشی کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور آپ کا سایہ ہمارے سَروں پر تازیست قائم رہے۔ (بیگم یاسر اور روشان، شاہی بازار، حیدرآباد کی جانب سے )
(والدہ مرحومہ کی یاد میں)
ہماری پیاری والدہ 7 مارچ 2021ء کو ہمیں داغِ مفارقت دے گئیں۔ اور اُن کی اس دُنیا سے رخصتی کے بعد جیسے ہماری ہر خوشی ہی ماند پڑ گئی۔ آج بھی ہر پل اُن کی یاد ستاتی ہے۔ ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اُن کے درجات بلند فرمائے۔ (رئیس، سعید، نفیس اور اہلِ خانہ، اورنگی ٹاؤن، کراچی کا سندیسہ)
(پیاری امّی جان، سیّدہ صالحہ خاتون رضوی خلد آشیانی کی نذر)
؎ ماں زندگی کا مرکز، صبر و قرار ہے… ماں اِک چمن ہے، جس میں مسلسل بہار ہے… ماں لُطف ہے، سُکون ہے، شفقت ہے، پیار ہے… ماں اِک عظیم نعمتِ پروردگار ہے…ماں اِک درس گاہ ہے، عقل و شعور کی…ماں اِک کہکشاں ہے، محبّت کے نور کی۔ (سیّد علی رضا جعفری(عرف نانو مٹھا) اور دیگر بہن بھائیوں کا، فیڈرل بی ایریا، کراچی سے چاہت بھرا پیغام)
(ماں کے نام)
میری ماں میرے لیے قدرت کا اَن مول تحفہ ہے۔ اُس کی دُعائیں میری ہر مشکل و کٹھنائی کو آسان بنا دیتی ہیں۔ وہ میری سب سے بڑی ہمّت و طاقت ہے۔ اللہ تعالیٰ میری ماں کو صحت و تن درستی سے مالا مال زندگی عطا فرمائے اور مجھ پر اُن کا شفیق و بابرکت سایہ تادیر قائم رکھے۔ (محمّد ایّان طیّب، سیکٹر جی ٹین، اسلام آباد کا پیغام)
(پیاری والدہ کو سلام)
ہمہ وقت اور مسلسل بِلامعاوضہ مشین کی طرح ہمارا ہر کام کرنے والی ہماری پیاری والدہ کو ہمارا سلام۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ آپ کو صحت و تن دُرستی کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے۔ (عبدالماجد، عثمانیہ کالونی، ڈھوک مستقیم، پشاور روڈ، راول پنڈی کینٹ کی جانب سے)
(ماں کے نام)
ماں، اولاد کے لیے قدرت کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ ماں کی محبّت اور قربانیوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماں کی دُعائیں انسان کو ہر مشکل، تکلیف سے بچاتی ہیں۔ وہ اپنے بچّوں کی خوشیوں اور آسانیوں کو اپنی مسرّتوں سے بڑھ کر اہمیت دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے ماؤں کی قدرواہمیت سمجھنے اور اُن کی خدمت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ (کلثوم ریاض، ڈی ایچ اے، لاہور کا پیغام)
(امّی جان کی خدمت میں)
پیاری امّی جان! ہم سب بہن بھائی آپ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ آپ ہماری عظیم ماں ہیں، مگر نادانی میں کبھی کبھار آپ سے بدتمیزی بھی کردیتے ہیں۔ اس گستاخی پر ہمیں دل سے معاف کر دیں۔ (ثناء، شفق، شانزہ، مایا علی، مصطفیٰ اور موسیٰ، ماڈل کالونی، ملیر، کراچی سے)
(والدہ مرحومہ کی یاد میں)
؎ تِری خوش بُو نہیں ملتی، تِرا لہجہ نہیں ملتا… ہمیں تو شہر میں کوئی تِرے جیسا نہیں ملتا۔ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری والدہ محترمہ کو جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (عفّت ایّوب کی جانب سے)
(ماں کے نام)
؎ کسی کو گھر ملا حصّے میں یا کوئی دُکاں آئی… مَیں گھر میں سب سے چھوٹا تھا، مِرے حصّے میں ماں آئی۔ (بسمہ شانزے پارس نواب، کراچی کی طرف سے)
(پیاری ماں کے لیے)
محبّت و شفقت، نرمی و رحم دلی میں ماں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہ جو ہماری آنکھوں کو ہر دَم ماں کو دیکھنے کی عادت ہو چُکی ہے، تو یاربّ! اُنہیں کبھی ہماری نظروں سے اوجھل نہ کرنا اور اُن کا سایہ ہم پر تادیر قائم رکھنا۔ (مریم جنید، گلستانِ جوہر، کراچی کا پیغام)
(ماؤں کے نام)
ماں جیسی عظیم ہستی کی اہمیت اور قدرومنزلت کوئی اُن سے پوچھے کہ جو ممتا کے شفیق سائے سے محروم ہو چُکے ہیں۔ ’’مائوں کے عالمی یوم‘‘ پر میرا ’’جنگ، سن ڈے میگزین‘‘ کے تمام قارئین کے لیے پیغام ہے کہ وہ اپنی ماؤں کی جی بَھر کر خدمت کریں اور اُن کی خُوب خُوب دُعائیں سمیٹیں۔
اللہ تعالیٰ سب کی ماؤں کو تادیر سلامت رکھےاور جن کی مائیں اِس جہانِ فانی سے کُوچ کرچُکی ہیں، انہیں جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (حسن خان، گلشنِ اقبال کراچی کا نصیحت آموز سندیسہ)
(والدہ کے لیے)
اوائلِ عُمری ہی میں والد کا سایۂ عاطفت سَر سے اُٹھنے کے بعد ہماری حوصلہ مند والدہ نے تنہا ہماری پرورش اور تعلیم و تربیت کا بیڑا اُٹھایا اور پھر کسی بھی مرحلے پر ہمیں والد کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔
قلیل وسائل کے باوجود اُنہوں نے ہماری تعلیم و تربیت میں کسی قسم کی کسر نہیں اُٹھا رکھی اور آج ہم بہن بھائی جس بھی مقام پر ہیں، وہ اُنہی کی کاوشوں، قربانیوں اور دُعاؤں کا ثمر ہے۔ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری عظیم والدہ کو صحت و تن درستی بَھری طویل عُمر عطا فرمائے۔ (ملک محمد طاہر، سرگودھا کی جانب سے)
(والدہ مرحومہ کے نام)
؎ بھاری بوجھ پہاڑ سا کچھ ہلکا ہوجائے… جب میری چِنتا بڑھے، ماں سپنے میں آئے۔ (ثناء اللہ آفریدی، پشاور کی طرف سے)
پیاری ’’ماں جی‘‘، منوّر بیگم کی خدمتِ اقدس میں
’’مدرز ڈے‘‘ پر میری دِلی دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو رحمٰن و رحیم ہے اور اپنے بندوں سے 70ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، میری ’’ماں جی‘‘، منوّر بیگم کو ہمیشہ صحت و تن دُرستی کی دولت سے مالا مال اور ان کا سایۂ شفقت و محبّت ہمارے سَروں پر تا دیر قائم رکھے۔ ؎ ابھی زندہ ہے ماں میری مُجھے کچھ بھی نہیں ہوگا…مَیں گھر سے جب نکلتا ہوں، دُعا بھی ساتھ چلتی ہے۔
اسی کے ساتھ ہی مَیں یہ پیغام بھی دینا چاہتا ہوں کہ جن خوش نصیبوں کی مائیں حیات ہیں، وہ اُن کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں کہ اُن کے قدموں میں اُن کی جنّت ہے اور جن کی مائیں اللہ کو پیاری ہو گئی ہیں، اللہ اُنہیں کروٹ کروٹ جنّت نصیب کرے۔ آمین۔ (محمّدصفدر خان ساغرؔ، راہوالی، گوجرانوالہ)
(مادرِ گرامی کے نام)
ماں جی! الحمدُللہ، آپ آج بھی میرے ساتھ موجود ہیں۔ میری ہر سانس میں آپ کی بے پایاں محبّت کی خوش بُو شامل ہے۔ ’’مائوں کا عالمی یوم‘‘ میرے لیے صرف ایک دن نہیں، بلکہ اُس احساس کا اظہار ہے کہ جو آپ کی ذات سے شروع ہو کر میرے پورے وجود میں پھیلا ہوا ہے۔ آپ کی موجودگی میری سب سے بڑی طاقت اور میرے سکون کا سب سے طاقت وَر ذریعہ ہے۔
آپ کی دُعائیں میرے لیے روشنی کی مانند ہیں، جو مُجھے اندھیرے میں راستہ دکھلاتی ہیں۔ اگر کبھی لفظ کم پڑ جائیں، تو صرف اتنا جان لیجیے کہ میری ہر خوشی، ہر کام یابی اور ہر مسکراہٹ کا ماخذ و منبع آپ ہیں۔ مَیں آپ کے بِنا کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ (قراۃ العین زہرہ کا اپنی والدہ کو دل سے خراجِ محبّت)
(پیاری والدہ اور خالاؤں کے نام)
ہماری پیاری والدہ، قیصرہ بیگم اور خالہ، طاہرہ صدیقہ دونوں جھنگ روڈ پر واقع کمنگروں کے آبائی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند اور ان کی قبور کو روشن و کشادہ کرے۔ ؎ زندگی جن کے تصوّر سے جِلا پاتی تھی… ہائے کیا لوگ تھے، جو دامِ اجل میں آئے۔
جب کہ ہماری ایک خالہ، نائلہ بلال عسکری ٹین، لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اچّھی صحت کےساتھ عُمرِ خضر عطا فرمائے۔ اور دونوں جہانوں کی بھلائیاں نصیب کرے۔ اُن کا سایہ ہم پر تادیر سلامت رہے۔ (مصباح طیّب، آمنہ طیّب، عارفہ طیّب، ماء السماء، ثناء، حرا، حنا اور ردا کی طرف سے)
(عظیم تائی امّی کے لیے)
میری امّی جان میرے بچپن ہی میں اِس دُنیائے فانی سے رخصت ہوگئی تھیں، مگر اس خلا کو ربّ العالمین نے تائی امی کی بے لوث محبّت کی صُورت بَھردیا۔ انہوں نے مُجھے اپنی سگی بیٹیوں کی مانند پالا اور میں آج جو کچھ بھی ہوں، اُن کی شفقت، محبّت، دُعاؤں اور پرورش ہی کی بدولت ہوں۔
تائی امّی نے نہ صرف مُجھے اچّھی تعلیم دلوائی بلکہ زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھایا۔ گھر کے کام کاج ہوں یا سلائی کڑھائی، ہر چیز انہوں نے اپنے ہاتھوں سے سکھائی اور اِسی سگھڑپن ہی نے میری شخصیت میں ایک اعتماد اور وقار پیدا کیا۔
نتیجتاً، آج مَیں پورے وثوق اور یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ ماں صرف وہ نہیں ہوتی، جو آپ کو جنم دے بلکہ وہ عورت بھی ماں ہی ہوتی ہے، جو بے بسی و بے کسی کے عالم میں آپ کو تھام کر، آپ سے کسی صلے و ستائش کی تمنّا کے بغیر محبّت کرے اور آپ کی شخصیت کو سنوار دے اور میری تائی امّی میرے لیے وہی ہستی ہیں۔ ’’ماؤں کے عالمی یوم‘‘ پر میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری تائی امّی کو سلامت رکھے اور انہیں صحت اور طویل عُمر عطا فرمائے، آمین۔ (حِرا خان کا خلوص و محبّت سے مزیّن سندیسہ )