• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹوٹتے گھر، بکھرتا بچپن اور ذمےداریوں تلے دبے ناتواں وجود

افشاں نوید

گزشتہ دِنوں ہمیں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ ہال بقعۂ نور بنا ہوا تھا۔ مہمان خوش گپیوں، ہنسی مذاق میں مگن تھے۔ چارسُو پرفیومز، کھانوں کی اشتہاانگیز خوش بُوئیں بکھری ہوئی تھیں۔ اِس دوران ہمیں اچانک کچھ پُرانے شناسا چہرے نظر آئے، تو بے حد اچّھا لگا۔ وقت نے اُن سب کے چہروں پر اَن گنت کہانیاں ثبت کر رکھی تھیں۔ مہمانوں سے ملتے ملاتے ایک ادھیڑ عُمرخاتون بھی دکھائی دیں۔

سادہ لباس میں ملبوس اُن خاتون کے چہرے پر تھکن کے آثار اور آنکھوں میں خاصی اُداسی سی محسوس ہوئی۔ اُن کے ساتھ دو بچّے بھی تھے، ایک تقریباً آٹھ سال کا اور دوسرا کوئی چھے برس کا۔ دونوں بچّے خاموشی سے اُن کے قریب کھڑے تھے۔ شاید حالات نے اُنہیں وقت سے پہلے ہی سنجیدہ کردیا تھا۔ کھانے کی میز پر ہم نے خاتون سے مُسکراتے ہوئے پوچھا کہ ’’یہ بچّے آپ کے کیا لگتے ہیں؟‘‘ تو انہوں نے خفیف سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا کہ ’’میرے پوتے ہیں۔‘‘

ہم نے خوش دِلی سے کہا، ’’تو پھر اپنی بہو سے بھی ملاقات کروائیں۔‘‘ ہماری یہ بات سُن کر انہوں نے نظریں چُرا لیں اور رنجیدگی کے عالم میں کچھ کہے بغیر ہی اُٹھ گئیں، مگر پھر کچھ ہی دیر بعد پلیٹ ہاتھ میں لیے ہمارے پاس آ کر بیٹھ گئیں اور درد بھری آواز میں گویا ہوئیں۔ ’’میرے بیٹےاور بہو میں کبھی بنی ہی نہیں تھی۔ مَیں ہمیشہ اُن دونوں کے بیچ پُل کا کردارادا کرتی رہی۔

ایک بار دونوں دُبئی گئے اور وہاں کسی معمولی سی بات پر اُن کے مابین تلخی اتنی بڑھی کہ بات طلاق تک پہنچ گئی اور پھر دونوں الگ الگ فلائٹس سے واپس آئے۔ علیحدگی کے بعد بہو بچّوں کو اپنے ساتھ لے کر نہیں گئی اور گزشتہ چار برس سے یہ دونوں میرے پاس ہیں۔‘‘

یہ سُن کر ہم نے حیرت سے پوچھا کہ ’’چار سال ہوگئے، اس بات کو… آپ نے بیٹے کی دوسری شادی کیوں نہیں کی؟‘‘ وہ ایک گہری سانس لے کر بولیں کہ ’’وہ مانتا ہی نہیں۔ کہتا ہے، سوتیلی ماں بچّوں کے ساتھ نہ جانے کیسا سلوک کرے گی۔‘‘ اُن کے لہجے میں صرف ایک ماں کا درد ہی نہیں، بلکہ معاشرے کے سنگین رویّوں کا کرب بھی پنہاں تھا۔

یہ کوئی انوکھا،منفرد واقعہ نہیں۔ ہمارے ارد گرد ایسی بے شمار کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ گرچہ ہرکہانی میں کردار بدل جاتے ہیں، مگر انجام تقریباً یک ساں ہی ہوتا ہے۔ یعنی والدین کی علیحدگی کے نتیجے میں بچّے رُل جاتے ہیں۔ یہاں ایک بنیادی سوال یہ جنم لیتا ہے کہ آخر اس سارے قضیے میں معصوم بچّوں کا کیا قصور ہوتا ہے؟ دراصل، ہم ایک ایسے تضاد کا شکار ہیں کہ جسے ہم خُود بھی پوری طرح سمجھ نہیں سمجھ پا رہے۔ جب بچّے طلاق یافتہ ماں کے پاس ہوتے ہیں، تو وہ اُن کی تعلیم و تربیت کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں صَرف کر دیتی ہے۔

تب وہ ملازمت بھی کرتی ہے، گھر بھی سنبھالتی ہے اور بچّوں کی پرورش بھی کرتی ہے اور اس مقصد کے لیے اپنے دن کا چین، رات کا سکون حتیٰ کہ اپنی ذات تک قُربان کردیتی ہے، لیکن جب اُس مطلقہ خاتون کو کسی ایسے مَرد سے شادی کا مشورہ دیا جاتا ہے کہ جس کے پہلے سے بچّے ہوں، تو وہ یہ کہہ کر صاف انکار کر دیتی ہے کہ ’’مَیں کسی اور کے بچّوں کی ذمّےداری نہیں اُٹھاسکتی۔‘‘ اسی طرح مَرد بھی کسی ایسی عورت سے شادی سے گریز کرتے ہیں، جس کے پہلے شوہر سے بچّے ہوں۔ یاد رہے، یہ سوچ نہ صرف غیر متوازن ہے بلکہ ایک بڑے سماجی مسئلے کو بھی جنم دیتی ہے۔

اِن دنوں ہمارے گھر میں جو ماسی کام کرتی ہے، اُس کے ساتھ اُس کی دس برس کی پوتی بھی ہوتی ہے اور وہ اپنی دادی سے زیادہ محنت سے جھاڑ پونچھ کرتی ہے۔ وہ بچّی بھی اپنے ہم عُمر بچّوں کے مقابلے میں زیادہ سمجھ دار ہے۔ اُس کی دادی اُس کے سامنے اُس کی ماں کا ذکر اچّھے الفاظ میں نہیں کرتی، جس پر ہم نے اُسے کئی مرتبہ ٹوکا۔

وہ بچّی دو برس کی عُمر سے اپنی دادی کے پاس ہے کہ اُس کے والدین کے درمیان بھی علیحدگی ہوچُکی ہے۔ اُس کا ایک بھائی بھی ہے، جسے اُس کی ماں اپنے ساتھ لے گئی۔ یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ سگے بہن بھائی ایک دوسرے سے جُدا ہوگئے۔ ہم اُس معصوم، پیاری سی بچّی کو دیکھ کر اکثر سوچتے ہیں کہ یہ بے چاری دُنیا کو کس نظر سے دیکھتی ہوگی۔ یہی نہیں، ایسی بےشمار کہانیاں ہمارے ارد گرد بکھری ہوئی ہیں۔

مثال کے طور پر ہماری فرسٹ کزن، جو 80برس کی ہونے والی ہیں، پچھلے 20برس سے اپنے پوتے کو پال رہی ہیں، کیوں کہ اُن کے بیٹے نے دوسری شادی نہیں کی۔ ہر چند کہ طلاق یا خُلع والدین کا فیصلہ ہوتا ہے، مگر اس کے سب سے زیادہ منفی اثرات اُن معصوم بچّوں پر مرتّب ہوتے ہیں کہ جو اس فیصلے میں شریک ہوتے ہیں اور نہ اس کے اسباب و مضرّات سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں اور پھر اُن بچّوں کی پرورش کا بوجھ اُن ناتواں دادیوں اور نانیوں کے کاندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے کہ جو خود کسی سہارے کی محتاج ہوتی ہیں۔

واضح رہے، بچّوں کی پرورش کوئی عارضی، وقتی ذمّےداری نہیں، بلکہ ایک مسلسل اور جاں گُسل عمل ہے۔ صُبح سویرے بچّوں کو اسکول کےلیےتیار کرنا، اُن کا لنچ باکس بنانا، اُنہیں ہوم ورک کروانا، بیماری میں اُن کی تیمارداری کرنا اور پھر سب سے بڑھ کر اُن کی جذباتی ضروریات سمجھنے اور پورا کرنے جیسے کام بہت زیادہ توانائی کے متقاضی ہیں۔

نیز، یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ بچّوں کی پرورش کے لیے صرف جسمانی طاقت ہی نہیں، مضبوط اعصاب اور ذہنی تازگی کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ تمام صلاحیتیں صرف عُمر کے ایک خاص حصّے ہی میں اپنے عروج پر ہوتی ہیں اور عموماً پچاس سال کے بعد ایک عورت کے لیے مذکورہ بالا ذمّےداریوں کو بُحسن و خُوبی نبھانا آسان نہیں ہوتا، لیکن اس کے باوجود ہمارےمعاشرے میں یہ بوجھ اکثر انہی ناتواں کاندھوں پرڈال دیا جاتا ہے اور یہ محض ناانصافی نہیں، بلکہ باقاعدہ ظلم ہے۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مسئلہ سوتیلی ماں یا سوتیلے باپ کا نہیں، بلکہ ہمارے رویّوں اور نیّتوں کا ہے۔ اگر معاشرہ قبولیت، برداشت، حسّاسیت اور ذمّےداری کا مظاہرہ کرے، تو یہی سوتیلے رشتے محبّت اور تحفّظ کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ دُنیا میں سوتیلے ماں یا باپ کی جانب سے سوتیلے بچّوں کو اپنی سگی اولاد سے زیادہ محبّت اور توجّہ دینے کی اَن گنت مثالیں موجود ہیں۔

رشتوں کے درمیان اختلافات ہونا ایک فطری اَمر ہے، لیکن اگر ان اختلافات کو انا کی جنگ میں تبدیل کردیا جائے، تو پھر یہ خاندان کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ اگر میاں بیوی اپنے اختلافات کو برداشت، مکالمے اور دانش مندی سے حل کرنے کی کوشش کریں، تو بہت سے گھر ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں اور اگر خدانخواستہ علیحدگی ناگزیر ہو بھی جائے، تو اس کے بعد کے فیصلے ایسے ہونے چاہئیں کہ جن میں بچّوں کا مفاد مقدّم و افضل رکھا جائے۔

تھکن اور بےچارگی کی ماری اُس خاتون کی آنکھوں میں چُھپی بےبسی اور اُن کے ساتھ کھڑے دو معصوم بچّے ایک ایسا منظر پیش کر رہے تھے کہ جو کسی بھی حسّاس دل کو دہلا دینے کے لیے کافی تھے۔ وہ ایک ایسی بند گلی میں کھڑی تھیں کہ جہاں پیچھے لوٹنے کا راستہ تھا اور نہ آگے بڑھنے کی کوئی واضح سمت اور اُن کے ساتھ وہ بچّے موجود تھے کہ جنہیں ابھی زیست کے معنی بھی پوری طرح سمجھ نہیں آئے تھے، مگر زندگی نے انہیں وقت سے پہلے بہت کچھ سِکھا دیا تھا۔ علیحدگی اختیار کرنے والے جوڑوں کو سوچنا ہوگا کہ وہ اپنی عاقبت نا اندیشی کی قیمت خود چُکا رہے ہیں یا اپنی نسلوں سے وصول کر رہے ہیں؟

سنڈے میگزین سے مزید