• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کمالیہ سے چیچہ وطنی، رجانہ تک ون وے روڈ کی تعمیر ناگزیر

کسی بھی علاقے کی ترقی کے لیے رابطہ سڑکیں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں، تو ترقی کا پہیّہ رُک جاتا ہے، معاشی سرگرمیاں معطل ہوجاتی ہیں اور عوام کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صوبہ پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے منسلک اہم تجارتی اور زرعی شہر، کمالیہ کی متعدد شاہ راہیں بھی اسی قسم کی صورتِ حال سے دوچارہیں، جہاں کی بیش تر سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ ہوچکی ہیں۔ جگہ جگہ سے ٹوٹی سڑکوں اورخوف ناک گڑھوں کے سبب سفر کرنے والے افرادکے ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ اور مقامی رہائشیوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

خصوصاً مرکزی شاہ راہوں کی خستہ حالی نے جہاں شہریوں کی روزمرّہ زندگی کو متاثرکیا ہے، وہیں یہ ایک وسیع تر سماجی، معاشی اور انتظامی مسئلہ بھی بن چکا ہے، خاص طور پر کمالیہ سے چیچہ وطنی اور رجانہ جانے والی مرکزی شاہ راہوں پر ٹریفک کے بے پناہ دباؤ کے باعث نہ صرف سفر کے اوقات بڑھ گئے ہیں، بلکہ حادثات کی شرح میں بھی تشویش ناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ سڑکوں پر موجود گڑھے، ٹوٹ پھوٹ اور ناقص مرمّت کی وجہ سے گاڑیوں کی رفتار کم اور ٹریفک جام ہونے سے نہ صرف شہریوں کا وقت اور پیسا ضائع ہورہا ہے، بلکہ آئے روز قیمتی انسانی جانیں بھی ٹریفک حادثات کی نذر ہورہی ہیں۔

اس صورتِ حال نے ان سڑکوں کو ون وے یا ڈبل کیریج وے میں تبدیل کرنے کے مطالبے کو ایک عوامی ضرورت اور اجتماعی آواز میں تبدیل کردیا ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں خطے کی ٹرانسپورٹ لائنز میں کیا تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ ملک میں بڑے انفرااسٹرکچر منصوبوں کی تکمیل کے بعد خصوصاً M-3اورM-4موٹروے کے فعال ہونے سے پورے جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب میں ٹریفک کے بہاؤ کا نقشہ تبدیل ہو گیا ۔ یہ موٹرویز جہاں ایک طرف سفر کو تیز اور آسان بنانے کا ذریعہ بنے، وہیں دوسری طرف انہوں نے چھوٹے شہروں کوایک دوسرے سے منسلک کر دیا ہے۔

واضح رہے، کمالیہ اب صرف ایک شہر نہیں ،ایک ایسی گزرگاہ بن چکا ہے، جہاں سے مختلف اضلاع اور شہروں کی ٹریفک، موٹروے نیٹ ورک تک پہنچتی ہے ،جس کے نتیجے میںیہاں کی سڑکوں پر غیر معمولی دباؤ بڑھ گیا ہے ۔ ماضی میں ان سڑکوں سے روزانہ تقریباً پانچ ہزار گاڑیاں گزرتی تھیں،جو اب پندرہ ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہیں۔

گاڑیوں کے بے تحاشا اضافے کے باوجود کمالیہ کی یہ مرکزی سڑکیں بنیادی طور پر سنگل کارپٹڈ ہیں، یعنی ایک ہی سڑک پر دونوں طرف کی ٹریفک چلتی ہے۔ اس نظام میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی ایک طرف ٹریفک کی رفتار کم ہوجائے، تو دوسری طرف بھی اس کا فوری طور پراثر پڑتا ہے ۔ اوورٹیکنگ کی کوششیں، تیز رفتاری، اور غیر متوازن ٹریفک کے بہاؤ کی وجہ سے اکثر حادثات رونما ہوتے ہیں۔

خاص طور پر ہیوی گاڑیوں کے چلنے کی وجہ سے چھوٹی گاڑیوں کے لیے مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ علاوہ ازیں، شہرکے ارد گرد دیہی علاقوں کا جال بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ درجنوں دیہات کی چھوٹی چھوٹی لنک سڑکیں، براہِ راست مرکزی شاہراہ سے منسلک ہونے کی وجہ سے موٹر سائیکلز، رکشے، ٹریکٹر ٹرالیز اور دیگر سُست رفتار گاڑیوں کے اچانک مرکزی سڑک پر داخل ہوجانے سے ٹریفک کا بہاؤ بُری طرح متاثر ہوجاتا ہے۔

یہ غیر منظّم اینٹری نہ صرف ٹریفک جام کا سبب بنتی ہے، بلکہ حادثات کے امکانات بھی بڑھا دیتی ہے۔ ان حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ عام شہری ہے، جو روزانہ ان شاہ راہوں پر سفر کرتا ہے۔ مذکورہ صورت ِحال اس بات کی واضح نشان دہی کرتی ہے کہ موجودہ سڑکوں کا نظام اب اس بڑھتے ہوئے ٹریفک کو سنبھالنے کے قابل نہیں رہا۔

یہی وجہ ہے کہ ون وے روڈ یا ڈبل کیریج وے کا تصوّر اب ایک ترقیاتی تجویز سے بڑھ کر فوری ضرورت بن چکا ہے ۔ ون وے سسٹم میں سڑک دو الگ حصّوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سےدونوں طرف ٹریفک ایک ہی سمت میں رواں دواں رہتی ہے ۔ اس سے نہ صرف ٹریفک کی روانی بہتر ہوتی ہے، بلکہ حادثات کی شرح میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔ اگر کمالیہ سے چیچہ وطنی اوررجانہ تک ان سڑکوں کو جدید ون وے یا ڈبل کیریج وے میں تبدیل کر دیا جائے، تو یہ پورے خطّے کے لیے ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔

اس اقدام سے نہ صرف سفر آسان ہوگا، بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی تیز ہوں گی۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر ِخزانہ محمد اورنگزیب کا آبائی تعلق بھی کمالیہ سے ہے، جس کی وجہ سے مقامی آبادی کو ان سے توقع ہےکہ وہ اس مسئلے کے حل میں عملی کردار ادا کریں گے۔ تحصیل کمالیہ میںگزشتہ سال 2025ءکے دوران روڈ ٹریفک حادثات کے حوالے سے ریسکیو1122کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے31دسمبر2025ء تک مجموعی طور پر1266حادثات میں1607 افراد متاثر ہوئے،جن میں 1232مرد اور 375خواتین شامل تھیں۔

حادثات میں 106پیدل چلنے والے ،563مسافر اور 938ڈرائیور شامل تھے۔اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 1357حادثات موٹر سائیکل سوار، جب کہ کاروں کے 102، رکشوں کے 78، بسوں کے 28، وین کے 19، ٹرک کے 20اور ٹریکٹر ٹرالی کے 34حادثات رپورٹ ہوئے۔ دیگر گاڑیوں کے حادثات کی تعداد 206 رہی۔

ان حادثات میں21سے 30 سال تک کی عمر کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے جن کی تعداد 373 ہے ، جب کہ31سے 40 سال کے 355، 11 سے 20 سال کے 320، 41 سے 50 سال کے 262، 51 سے 60 سال کے 134،10سال تک کے 86اور60سال سے زائد عمر کے 77افراد شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان حادثات میں کل 17افراد جان کی بازی ہار گئے۔حادثات کی وجوہ میں تیز رفتاری کے 36، غلط موڑ کے 7، یو ٹرن کا ایک اور ٹائر پھٹنے کا ایک واقعہ شامل ہے۔

شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سڑکوں کو جدید ون وے یا ڈوئل کیریج وے میں تبدیل کرنے کے منصوبے ترجیحی بنیادوں پر شروع کریں۔اس سے نہ صرف ٹریفک کا مسئلہ حل ہوگا، بلکہ علاقے میں ترقی کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔ اگر اس منصوبے کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے، تو یہ صرف ایک روڈ پراجیکٹ نہیں، بلکہ ایک مکمل معاشی تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے۔

بہتر سڑکیں کاروبار کو فروغ دیتی، سرمایہ کاروں کو راغب کرتی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتی ہیں۔ کمالیہ چوں کہ ایک زرعی علاقہ ہے، اس لیے یہاں کی معیشت براہِ راست ٹرانسپورٹ سسٹم سے جڑی ہے۔ اگر سڑکیں بہتر ہو جائیں، تو کسان اپنی پیداوار بروقت منڈیوں تک پہنچا سکیں گے، جس سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ مزید یہ کہ جدید ٹریفک نظام، سیفٹی اقدامات اور انفرااسٹرکچر کی بہتری سے نہ صرف حادثات کم ہوں گے، بلکہ شہریوں کا معیارِ زندگی بھی بہتر ہوگا۔

سنڈے میگزین سے مزید