تعلیم کسی بھی معاشرے کی بقا، استحکام کی ضامن ہے، جو قوموں کو زوال سے بچا کر تعمیر و ترقی کی راہ پر گام زن کرتی ہے۔ یہ نہ صرف ذاتی کام یابیوں، بلکہ اقتصادی، سماجی اور سیاسی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے، لیکن اگر کسی ملک کا تعلیمی نظام ہی محض تماشا بن جائے، تو معاشرہ اخلاقی، علمی اور فکری بانجھ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔
اس صورتِ حال میں تعلیم شخصیت سازی کے بجائے صرف ڈگریوں کے حصول کا ذریعہ بن کے رہ جاتی ہے، تخلیقی صلاحیتیں، حقیقی شعور مفقود ہوجاتے ہیں اور قوموں کے زوال کی داستانیں رقم ہونے لگتی ہیں۔ جیسا کہ کراچی میں میٹرک بورڈ کے امتحانات کا موجودہ منظرنامہ کسی المیے سے کم نہیں کہ جس کی ساکھ پر اَن گنت سوالیہ نشان لگ چکے ہیں اور یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں، ایک ایسی سماجی و اخلاقی گراوٹ ہے، جس نے نسلِ نو کا مستقبل داؤ پر لگادیا ہے۔
امتحانات کی تیاری سے لے کر نتائج کے اعلان تک، ہرہر قدم پر بدانتظامی، کرپشن اور نااہلی کا ایک ایسا جال بچھا ہوا ہے، جس سے نکلنا اب بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے اور اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان اُس طالب علم کا ہو رہا ہے، جو کتابوں سے رشتہ جوڑ کر اپنی زندگی سنوارنے کا خواب دیکھتا ہے، مگر نظام کی بے حسی بالآخر اُسے یہ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ محنت کی ضرورت ہی کیا ہے، جب سب کچھ خریدا جا سکتا ہے۔
عرصۂ دراز سے دیکھتے آئے ہیں کہ امتحانات سے ایک یا دو ہفتے قبل ایڈمٹ کارڈز جاری کرنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور بغیر کسی پریشانی کے تمام طلبہ کو ایڈمٹ کارڈز جاری کردیئے جاتے ہیں۔ تاہم، اب یہ سادہ انتظامی مرحلہ(وہ بھی اس ڈیجیٹل دور میں) بورڈ کے لیے ایک ’’کارِدارد‘‘بن چکا ہے۔ ہزاروں طلبہ اپنے ایڈمٹ کارڈزکے حصول کے لیے بورڈ آفس کے چکّر لگاتے نظر آتے ہیں، جہاں ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے عملہ اُن سے بدتمیزی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
امتحانات کی تاریخ سر پر آجاتی ہے، تو راتوں رات سینٹرز کی تبدیلی کا معاملہ سامنے آجاتا ہے، جس کے سبب والدین اور بچّے سخت ذہنی اذیت سے دوچار ہوجاتے ہیں کہ اُن کا امتحانی مرکز کہاں ہے، یہ تبدیلی کیوں کی گئی، مقصد کیا تھا؟ اوراس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہوتا۔
ہاں، اس افراتفری کا براہِ راست اثر طالبِ علم کی ذہنی حالت پر ضرور پڑتا ہے، جس کا نتیجہ پرچے میں خراب کارکردگی کی صورت میںسامنے آتا ہے۔ اور یہ تو صرف آغاز ہوتا ہے، اصل تماشا تو امتحانی مراکز کے اندر اور سوشل میڈیا کی اسکرینز پر لگتا ہے کہ پرچہ شروع ہونے سے قبل ہی سوال نامہ، سوشل میڈیا کی زینت بن جاتا ہے۔
بدقسمتی سے ٹیکنالوجی، جس کا مقصد علم کی ترویج تھا، وہ نقل کے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال ہورہی ہے۔ واٹس ایپ گروپس میں حل شدہ پرچے گردش کرتے ہیں اور امتحانی مراکز کے باہر کھڑے افراد کھلے عام یہ سہولت فراہم کرتے ہیں۔ اس منظّم مافیا کی کارستانی کے تانے بانے امتحانی مراکز کے عملے اور بورڈ کے افسران سے جاملتے ہیں۔
کئی مقامات پر تو صورتِ حال اس قدر سنگین ہے کہ نقل کے لیے ’’فکس ریٹ‘‘ مقرر ہیں۔ یہ ایک ایسا گھناؤنا کاروبار ہے، جو تعلیم کے مقدّس نام پر کیا جارہا ہے۔ اس صورتِ حال میں وہ طالب علم، جو سال بھر محنت کرتا ہے، خود کو ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح محسوس کرتا ہے کہ اس کے برابر بیٹھا طالب علم جو باقاعدگی سے کبھی اسکول بھی نہیں گیا، محض چند ہزار روپے دے کر اس سے زیادہ نمبر حاصل کرلیتا ہے۔
واضح رہے، جب ایک طالب علم، پرائمری اور مڈل کی سطح عبور کر کے نویں جماعت میں قدم رکھتا ہے، تو اس کے ذہن میں بورڈ کے امتحانات کا ایک رعب و ہیبت ہوتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اب اس کی قابلیت اور صلاحیتوں کا اصل امتحان ہوگا،لہٰذا عزمِ مصمّم کے ساتھ دن رات ایک کر کے پڑھائی شروع کرتا ہے، مگر جیسے ہی نویں کے امتحانات کے عمل سے گزرتا ہے، اس کا سارا جوش و خروش جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے اور جب یہی طالبِ علم کسی نہ کسی طرح دسویں جماعت پاس کرکے کالج، یونی ورسٹی میں داخلہ لیتا ہے، تو اسے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ اس کی تو بنیاد ہی ریت پر رکھی گئی تھی۔
اعلیٰ تعلیم کے لیے جس علمی گہرائی اور محنت شاقّہ کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اس میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ نتیجتاً طالب علم یا تو تعلیم اُدھوری چھوڑ دیتا ہے، یا پھر ایک ناکام انسان کی صورت معاشرے پر بوجھ بن جاتا ہے۔اس پورے نظام میں ملّوث نجی اسکولز اور امتحانی مراکز کے گٹھ جوڑ کو ’’گھناؤنا کاروبار‘‘ کہنا غلط نہ ہوگا۔ نجی اسکولز اپنی مرضی کے تحت امتحانی مراکز بنوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیتے ہیں، تاکہ وہاں اپنے طلبہ کو ’’سہولت‘‘ فراہم کرنے کے نام پر اپنا کاروبار جماسکیں۔
اس سسٹم میں لاکھوں روپے کی رشوت چلتی ہے اور یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ جو اسکول یا مرکز ’’اوپر‘‘ تک اپنا حصّہ پہنچاتے ہیں، وہاں چھاپہ مارا جاتا اور نہ ہی کوئی انکوائری ہوتی ہے۔ وہاں کھلے عام نقل ، موبائل فونز کا آزادانہ استعمال ہوتا ہے، عملہ خود پرچے حل کرواتا ہے۔ اس کے برعکس جہاں حصّہ نہیں پہنچتا، وہاں قانون کی بالادستی کے نام پر ڈرامے رچائے جاتے ہیں، طلبہ کو ہراساں کیا جاتا ہے اور یہ دہرا معیار اس بات کا ثبوت ہے کہ کرپشن کی جڑیں، کتنی گہرائی تک پیوست ہوچکی ہیں۔ علاوہ ازیں، امتحانی مراکز میں سہولتوں کا فقدان بھی کسی المیے سے کم نہیں۔
مثلاً طلبہ کو وقت پر پرچہ نہیں ملتا، تاخیر سے پرچہ ملنے پر اضافی وقت دینے سے انکار کردیا جاتا ہے۔ لوڈشیڈنگ کے باعث تپتی گرمی میں پسینے سے شرابور طلبہ کی آدھی توانائی تو ویسے ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ امتحانی عملہ اُن سے تعاون اور مدد کرنے کے بجائے رعب جمانے اور ڈرانے دھمکانے میں مصروف رہتا ہے۔
دوسری جانب وزیرِتعلیم اور دیگر حکّام کی جانب سے اکثر بلند بانگ دعوے بھی کیے جاتے ہیں۔ امسال تو یہ بیان تک دے دیا گیا کہ نقل میں ملوّث عملے کو نوکری سے فارغ کردیا جائے گا، طلبہ کے پرچے منسوخ ہوں گے اور مراکز پرسخت نگرانی کی جائے گی، لیکن عوام جانتے ہیں کہ یہ محض جذباتی بیانات ہیں، جو وقتی طور پر معاملہ ٹھنڈا کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج تک کسی بااثر افسر یا اسکول مالک کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی، اگر شفّاف طریقے سے انکوائری کروائی جائے، تو بورڈکی کرپشن اور کارکردگی کی قلعی کھل سکتی ہے۔
امتحانی عملے اور بورڈ کی پہلو تہی کے سبب امتحانات میں نقل کا بڑھتا ہوا رجحان ہی پاکستان کے تعلیمی معیار کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے، جو طلبہ کی صلاحیتیں ضائع کر کے پورا تعلیمی نظام کھوکھلا کر رہا ہے۔ نقل کا یہ بڑھتا رجحان تعلیم کے حقیقی مقاصدنابود کر رہا ہے، جس کی روک تھام کے لیے امتحانی نظام میں اصلاحات اور تعلیمی ماحول کی بہتری انتہائی ضروری ہے۔
آج کے اس ماحول میں، جب ایک طالب ِعلم کو یہ علم ہوتا ہے کہ اسے صرف کتابی جملے دُہرانے ہیں، تو وہ آسان راستہ تلاش کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اس نظام نے محنت اور یک سوئی سے پڑھنے والے بچّوں کو سخت مایوس کردیا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ جب بغیر محنت کے اچھے گریڈز مل سکتے ہیں، تو راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اور یہی سوچ پورے تعلیمی کلچر کو موت کے گھاٹ اُتار رہی ہے۔ دوسری طرف بورڈ کی اندرونی بے ضابطگیوں کی داستانیں ہیں۔
امتحانات کے بعد رزلٹ کی تیاری کے مرحلے ہی پر ’’گریڈز کی فروخت‘‘ کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔ ہر مضمون کے حساب سے نرخ مقررہیں۔ فیل ہونے والا طالب ِعلم رشوت دے کر نہ صرف پاس ہوجاتا ہے، بلکہ اے ون گریڈ بھی حاصل کرلیتا ہے اور یہ تعلیمی نظام کے منہ پر وہ طمانچا ہے، جس کی گونج دُور دُور تک سنائی دے رہی ہے، مگر اربابِ اختیار کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگتی۔ اس بدعنوانی نے تو ان ڈگریز کی وقعت ہی ختم کردی ہے کہ جب یہ طلبہ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں یا بین الاقوامی سطح پر مقابلے کے امتحان میں بیٹھتے ہیں، تو سب کچّا چٹھا سامنے آجاتا ہے۔
مختصر یہ کہ اس نظام کی بربادی میں کسی ایک فرد یا ادارے کا ہاتھ نہیں، یہ ایک اجتماعی ناکامی ہے، جس کا فوری حل ناگزیر ہے۔ ہمیں ایک ایسے نئے میکانزم کی ضرورت ہے، جس کے تحت امتحانات صرف ڈگریز بانٹنے کا ذریعہ نہ بنیں، بلکہ حقیقی ٹیلنٹ کی دریافت کا موجب ٹھہریں۔ امتحانی مراکز کو ڈیجیٹلائزکرنا، پیپر سیٹنگ کا طریقہ تبدیل کرنا اور بورڈ کے عملے میں موجود کالی بھیڑوں کا خاتمہ اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔
تعلیم کے ساتھ یہ مذاق اور نسلوں کے مستقبل کے ساتھ یہ کھلواڑ اب بند ہوجانا چاہیے۔ یاد رہے، اگر آج ہم نے اس نظام کی اصلاح نہ کی، تو آنے والا وقت ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ یہ صرف ایک سرکاری محکمے کی اصلاح کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ پاکستان کا مستقبل بچانے کی جنگ ہے۔ جب تک انصاف اور شفّافیت کی بنیاد پر امتحانات منعقد نہیں ہوں گے، اُس وقت تک ہم ایک باشعور اور تعلیم یافتہ معاشرے کی تشکیل کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔