• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قربانی، اسلام کی عظیم عبادات میں سے ایک ہے، یہ محض جانور ذبح کرنے کا نام نہیں، بلکہ اُس جذبے کی علامت ہے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ کی راہ میں پیش کیا۔ اطاعت و فرماں برداری کایہ عمل انسان کو سکھاتا ہے کہ وہ اللہ کے حُکم کے سامنے اپنی ہر خواہش اور محبّت قربان کر دے۔

قرآنِ پاک میں واضح ارشاد ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ تک گوشت یا خون نہیں پہنچتا، بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘یہ عبادت انسان کو اپنے بُرے عزائم، انا اور ناجائز خواہشات اللہ کی رضا کی خاطر قربان کرنے کا درس دیتی ہے۔ قربانی کا ایک بڑا مقصد ایثار اور ہم دردی ہے، یعنی معاشرے کے غریب، نادار اور ضرورت مند طبقے کو خوشیوں میں شریک کرنا اور اُنھیں گوشت کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

یہ دراصل اُس عمل کا نام ہے، جس میں انسان اپنے رب کی رضا کے سامنے اپنی خواہشات، محبتیں، غرور اور نفسانی تقاضے قربان کرنا سیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قربانی کو اسلام کے عظیم شعائر میں شمار کیا گیا اور اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار کے طور پرتا قیامت زندہ رکھا گیا۔ دنیا بھر کے مسلمان جب ایّامِ قربانی میں اللہ تعالیٰ کے نام پر جانور ذبح کرتے ہیں، تو گویا اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہماری جان، ہمارا مال، ہماری عبادت اور ہماری زندگی سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔

قربانی کی تاریخ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں (ہابیل و قابیل) سے شروع ہوئی، جو اللہ کی رضا کے لیے سب سے پہلی قربانی تھی۔ تاہم، اس کی موجودہ شکل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی عظیم یادگار ہے، جسے اُمّتِ محمدیہؐ پر واجب کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے قرآنِ مجید، فرقانِ حمید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

ترجمہ:’’اور (اے نبی ﷺ اُن کو پڑھ کر سُنائیے، آدم ؑ کے دو بیٹوں کا قصّہ حق کے ساتھ۔ جب کہ اُن دونوں نے قربانی پیش کی، تو اُن میں سے ایک کی قربانی قبول کرلی گئی، جب کہ دوسرے کی قبول نہیں کی گئی، تو اُس نے جواب دیا کہ اللہ تو پرہیزگاروں ہی سے قبول کرتا ہے۔‘‘(سورۃ المائدہ،27)۔

اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا اصل تعلق دل کے اخلاص اور تقویٰ سے ہے۔ ہابیل نے خلوصِ نیّت سے بہترین چیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں پیش کی، اس لیے اُس کی قربانی قبول ہوئی، جب کہ قابیل میں اخلاص نہ تھا، تو قربانی رد کردی گئی اور یوں قرآنِ مجید نے واضح کردیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل اہمیت ظاہری عمل کی نہیں، نیّت کے اِخلاص کی ہے۔

قربانی کی سب سے عظیم، کامل مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور توحید کی دعوت میں گزاری۔ جب انہیں آگ میں ڈالا گیا، تو صبر کیا، جب وطن چھوڑنے کا حُکم ملا، تو ہجرت کی۔ جب بے آب و گیاہ وادی میں اپنے اہل و عیال کو چھوڑنے کا حُکم ملا تو تعمیل کی، اور جب سب سے محبوب بیٹے کو قربان کرنے کا حُکم ملا تو اُس پر بھی سرِتسلیم خم کردیا۔

قرآنِ مجید میں یہ عظیم واقعہ یوں بیان ہوا ہے۔ترجمہ:’’پھر جب وہ اُس کے ساتھ کوشش کرنے کے قابل عُمر کو پہنچ گیا، تو ابراہیم ؑ نے کہا۔’’اے میرے بیٹے! مَیں نے خواب میں دیکھا کہ تجھے ذبح کررہا ہوں۔ اب تُو دیکھ کہ تیری کیا رائے ہے؟‘‘ بیٹے نے کہا۔ ’’اے میرے والد! آپ وہی کریں، جس کا آپ کو حُکم دیا جارہا ہے۔ اِن شاء اللہ عن قریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘

تو جب ان دونوں نے (ہمارے حُکم پر) گردن جُھکادی اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بَل لٹایا (اس وقت کا حال نہ پوچھ)۔ اور ہم نے اُسے ندا فرمائی کہ ’’اے ابراہیم ؑ! بے شک تم نے خواب سچ کردکھایا، ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ بے شک یہ ضرور کُھلی آزمائش تھی۔ اور ہم نے اسماعیل ؑ کے فدیے میں ایک بڑا ذبیحہ دے دیا۔ اور ہم نے بعد والوں میں اس کی تعریف باقی رکھی۔ ابراہیم ؑ پرسلام ہو۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔‘‘(سورۃ الصافات، آیات نمبر 102تا 110)۔

یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ بندگی، اطاعت، محبت اور تسلیم و رضا کا ایسا پیغام ہے، جو قیامت تک ایمان والوں کے دلوں کو گرماتا رہے گا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ثابت کردیا کہ اللہ تعالیٰ کی محبّت ہر محبّت سے بلند ہے، جب کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے ثابت کیا کہ اللہ کے حُکم کے سامنے انسان کواپنی جان تک قربان کرنے کے لیے تیاررہنا چاہیے۔ اسی نسبت سے اللہ تعالیٰ نے امتِ محمدیہ ؐ کو قربانی کی عبادت عطا فرمائی۔

رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف خود قربانی کی، بلکہ اُمّت کو بھی اس کی ترغیب دی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔’’نبی کریم ﷺ نے دو مینڈھوں کی قربانی کی، جو چتکبرے اور سینگوں والے تھے۔ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ، اللہ اکبر پڑھا اور اپنا پاؤں اُن کی گردن پر رکھا۔‘‘ (صحیح بخاری، 5565) رسول اللہ ﷺ کی قربانی اُمّت کے لیے ایک عملی درس تھا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی پسندیدہ شئے قربان کرنا ایمان کی علامت ہے۔

دراصل انسان میں تقویٰ کی بے داری ہی قربانی کا اصل فلسفہ ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے قربانی کی اصل رُوح واضح کرتے ہوئے فرمایا۔’’ہرگز نہ (تو) اللہ کو اُن (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ اُن کا خون، مگر اُسے تمہاری طرف سے تقوٰی پہنچتا ہے، اس طرح (اللہ نے) انہیں تمہارے تابع کر دیا ہے، تاکہ تم (وقتِ ذبح) اللہ کی تکبیر کہو، جیسے اُس نے تمہیں ہدایت فرمائی ہے، اور آپ نیکی کرنے والوں کو خوش خبری سنادیں۔‘‘( سورۃ الحج، 37)۔

اس آیت میں قربانی کی حقیقت کو شان دار انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو جانور کا گوشت یا خون مطلوب نہیں، بلکہ بندے کا اخلاص، اُس کی نیّت، اُس کی اطاعت اور اس کا تقویٰ مطلوب ہے۔ اگر قربانی میں ریا، دکھاوا، غرور یا محض رسم ادا کرنے کا جذبہ کارفرما ہو، تو اس کی اصل رُوح ختم ہوجاتی ہے۔ قربانی انسان کو ایثار کا درس دیتی ہے۔ انسان فطری طور پر مال سے محبّت کرتا ہے، مگر جب وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنا مال خرچ کرتا اور بہترین جانور قربان کرتا ہے، تو دراصل وہ اپنی خواہشات قربان کرتا ہے۔

یہی جذبہ انسان کو سخاوت، ہم دردی اور خدمتِ خلق کی طرف لے جاتا ہے۔ قربانی کی ایک بڑی حکمت معاشرتی مساوات بھی ہے۔ اسلام نے قربانی کے گوشت کو صرف ذاتی استعمال تک محدود نہیں رکھا، بلکہ غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں تک پہنچانے کی تعلیم دی۔ قرآنِ مجید میں فرمایا گیا۔ ترجمہ:’’پس اس میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ۔‘‘(سورۃ الحج، 28)۔اس آیت سے اسلام کا معاشرتی حُسن نمایاں ہوتا ہے۔

عیدالاضحیٰ کے دن خوشی صرف مال داروں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ غریب، محروم طبقہ بھی اس میں شریک ہوتا ہے۔ یوں قربانی، محبّت اور بھائی چارے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ قربانی انسان کے اندر شُکرگزاری پیدا کرتی ہے۔ جب بندہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت اُسی کی راہ میں قربان کرتا ہے، تو گویا وہ اپنے ربّ کا شُکر ادا کرتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’نَحر‘‘ (یعنی10 ذوالحجہ) کے دِن اللہ پاک کے یہاں سب سے پسندیدہ عمل (قربانی کے جانور کا) خون بہانا (یعنی جانور ذبح کرنا) ہے، بے شک، قربانی کے جانور روزِ قیامت اپنے سینگوں، بالوں اور کُھروں کے ساتھ آئیں گے اور بے شک، قربانی کا خون زمین پر گِرنے سے پہلے ہی اللہ پاک کے ہاں مقامِ قبولیت تک پہنچ جاتا ہے، لہٰذا خوش دِلی سے قربانی کرو۔‘‘ (سنن ترمذی،1493)۔

نیز، قربانی اپنی ذات کی اصلاح کا نام بھی ہے۔ اگر قربانی کے بعد بھی انسان تکبّر، حسد، ظلم اور گناہوں کی دلدل میں پھنسا رہے، تو اس کا مطلب ہے کہ اُس نے محض گوشت ہی کھایا یا بانٹا، اپنے باطن کو برائیوں سے پاک نہیں کیا۔ ایک مومن کی اصل کام یابی یہ ہے کہ وہ اس عظیم عبادت کے ذریعے اپنی اصلاح کرے۔

روزمرّہ زندگی میں عاجزی، انصاف، ایثار اور محبت جیسی عادات اپنائے۔ اپنے نفس پر قابو پائے۔ دل کو پاک کرے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے، خصوصاً عصرِ حاضرکی مادّیت پرستی میں تو اس جذبہ ایثار و قربانی کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔