بھارتی خواجہ سرا اداکارہ، ڈاکٹر اور ٹرانس جینڈر حقوق کی کارکن ترینیترا ہلدار گمراجو نے انکشاف کیا ہے کہ میں نے آواز کو نسوانی بنانے کی سرجری کروانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ روزمرہ زندگی میں بار بار غلط جنس سے پکارے جانے، ہراسانی اور عدم تحفظ کے احساس سے نجات حاصل کر سکوں۔
سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ایک تفصیلی پیغام میں ترینیترا نے بتایا ہے کہ 2018ء میں خواتین کے واش روم میں فون کال کا جواب دینے پر ایک سیکیورٹی گارڈ نے مجھے بار بار ’سر‘ کہہ کر مخاطب کیا جس کے بعد میں شدید خوف اور اضطراب کا شکار ہو گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ میں نے اپنی بھاری آواز کو قبول کر لیا ہے اور اس کی منفرد کیفیت کو پسند بھی کرنے لگی ہوں لیکن مسلسل نگرانی، سوالات اور غلط شناخت کی وجہ سے میں ذہنی طور پر تھک چکی ہوں۔
ترینیترا کے مطابق بھارت میں ٹرانس جینڈر افراد کو اپنی حفاظت اور معاشرتی قبولیت کے لیے بھاری مالی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چہرے کو نسوانی شکل دینے کی سرجری پر 40 لاکھ روپے سے زائد جبکہ آواز کو نسوانی بنانے کے لیے 10 لاکھ روپے سے زیادہ خرچ آ سکتا ہے لیکن اس کے باوجود بہت سے افراد یہ اقدامات صرف اپنی حفاظت کے لیے کرتے ہیں، نہ کہ خوبصورتی کے لیے۔
ترینیترا نے لکھا کہ میں چاہتی ہوں کہ خواتین کے واش روم میں فون پر بات کرتے وقت خوف محسوس نہ کروں، کپڑوں کی آزمائش کے دوران جواب دیتے ہوئے گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں، دوبارہ آزادی سے گانا گا سکوں اور قریبی تعلقات میں اپنی آواز کی وجہ سے خود کو محدود نہ کروں۔
ترینیترا نے کہا کہ میں روزانہ ’سر‘ کہلانے، ڈیلیوری ورکرز اور ٹیکسی ڈرائیوروں کی جانب سے مشکوک نظروں کا سامنا کرنے اور اپنی شناخت ثابت کرنے کی مسلسل ضرورت سے نجات چاہتی ہوں۔
واضح رہے کہ ترینیترا ہلدار گمراجو نے 2024ء میں بھی چہرے کو نسوانی شکل دینے کی سرجری کروائی تھی۔