ثاقب کی روانگی میں چند مہینے رہ گئے تو اس سے تحریریں سرزد ہونے لگیں۔اس نے ایک تحریرلکھی،زوم کرو۔کتنا مزے کاعنوان ہے۔زوم کرو۔ثاقب کہتا تھا، ہر زوم ایک نئی حقیقت ہے۔حقیقت حیران بھی کرتی ہے مایوس بھی۔حیرانی میں تو ہم زوم کرتے ہیں، مایوسی میں بھی زوم کرنا چاہیے۔ثاقب نے یہ عنوان باندھا تو دھیان نیلے سے ایک نقطے کی طرف چلا گیا جسے کارل سیگن نے زوم کیا تھا۔دراصل یہ زمین کی تصویر تھی جو تقریبا چھ بلین کلو میٹر دور سے لی گئی تھی۔تصویر میں زمین نیلے سے ایک نقطے جتنی دکھائی دے رہی تھی۔کارل سیگن اس نقطے میں محو ہوگئے۔خیال کے پردے پر نیلے سے اس نقطے کو زوم کیا تو ایک کتاب ہوگئی۔آپ یہ کتاب پڑھ چکے ہیں۔اس کا مختصر سا ٹکڑا پھر پڑھیں۔
اُس (نیلے سے) نقطے کو غور سے دیکھو۔وہ نقطہ ہمارا گھرہے۔وہ نقطہ ہم ہیں۔وہ تمام لوگ جو آپکو عزیز ہیں، جنہیں آپ جانتے ہیں، جنکے بارے میں آپ نے کبھی بھی سُنا، ہر وہ انسان جو کبھی بھی تھا، ان سب نے اسی نقطے پر اپنی زندگی گزاری ہے۔ہماری تمام مسرتوں اور رنجوں کا مجموعہ، ہزاروں پُر یقین مذاہب اورمعاشی نظریات، ہرشکاری اور متلاشی، ہر بہادر اور بزدل، تہذیبوں کا ہربانی اور تخریب کار،ہر بادشاہ اور فقیر،محبت میں مبتلا ہرجوان جوڑا، ہر ماں اور باپ، پُر امید بچہ، موجد اور محقق، اخلاقیات کا ہر استاد، ہر کرپٹ سیاستدان، ہر سُپر اسٹار، ہر عظیم لیڈر، ہر درویش اور عاصی جو بنی نوعِ انساں میں گزرا، سب اُسی مقام پر زندہ رہے۔شمسی شعاع میں معلق گردکے اس دھبے پر۔خون کے اُن دریاؤں کے بارے میں سوچئے جو اُن تمام جرنیلوں اور حکمرانوں نے محض اس لیے بہا دیے تاکہ وہ اپنی فتح اور عظمت کے احساس میں مبتلا ہو کر اس نقطے کے ایک چھوٹے سے حصے کے وقتی مالکان بن سکیں۔اُن لا محدود مظالم کے بارے میں سوچئے جو اِس پِکسل کے ایک کونے کے باشندوں نے کسی دوسرے کونے کے بمشکل پہچانے جانے والے باشندوں پر ڈھا دیے۔انکے اختلافات کتنے زیادہ ہیں،انکی نفرتیں کس قدرشدید ہیں۔ہمارے پُر نمود رویے، یہ خوش فہمی کہ ہم کائنات میں کوئی اعزازی مقام رکھتے ہیں،ان سب کو مدھم سی روشنی کا یہ مقام چیلنج کرتاہے۔ہمارا سیّارہ کائنات کی عظیم اور لپیٹ لینے والی تاریکی میں ایک تنہا سا ذرہ ہے۔ہماری گُمنامی کے اس عالم میں، اس تمام وسعت میں، کہیں کوئی اشارہ نہیں ہے کہ ہمیں خود اپنے آپ سے بچانے کے لیے کسی اور جگہ سے مدد پہنچے گی۔زمین ابھی تک وہ واحد معلوم دنیا ہے جہاں زندگی موجود ہے۔کم از کم مستقبل قریب میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں ہماری نسل ہجرت کر سکے۔ کہا جاتا ہے کہ فلکیات کا علم آپ کو عاجزی سکھاتا اور آپ کے کردار کی تعمیر کرتا ہے۔یہ تصویر ہماری اس ذمہ داری کو نمایاں کرتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ خوشدلی سے پیش آئیں، اور اس مدھم سے نیلے نقطے کو عزیز رکھ کر اس کی حفاظت کریں، کہ یہی وہ واحد گھر ہے جسے ہم جانتے ہیں۔
کارل سیگن نے زوم کرکے بتایا کہ زمین نام کا یہ سیارہ کتنا چھوٹا ہے۔ہماری انا سے بھی چھوٹا۔انسانی ہمدردی کتنی بڑی چیز ہے۔کائنات سے بھی بڑی۔ثاقب نے زوم کرکے بتایا کہ مایوسی کی حقیقت وہی ہے جو اس زمین کی ہے۔امید کے مقابلے میں مایوسی محض ایک ذرہ ہے۔جیسے کائنات کے مقابلے میں یہ زمین۔ثاقب نے ایک بار زوم کیا تو اسے کچھ لوگ نظر آئے جو کینسر سے مرنے والے پیاروں کو دفنا رہے تھے۔پھر زوم کیا تو اس نے دیکھا کہ یہ تو وہی مریض ہیں جو آئی سی یو میں میرے دوست بنے تھے۔اسکے ہاتھ ٹھنڈے ہوگئے۔اس نے سوچا، ہاتھ پیر چھوڑ دینے سے کیا ہوگا۔اس نے پھر سے زوم کیا۔نئے پرانے کچھ دوست نظر آئے۔اور زوم کیا۔بھک سے ایک وادی کھل گئی، جہاں ایک چرواہا بانسری بجا رہا تھا۔ہوا رقص میں تھی اور سات آسمان گردش میں۔ثاقب محو ہوگیا۔ثاقب نے کہا، زندہ رہنے کیلئے کیا یہ ایک وجہ کم ہے کہ دنیا میں ابھی موسیقی باقی ہے۔
ہرانسان کہیں نہ کہیں زوم کرتا ہے۔میں بھی کرتا ہوں۔ہرزوم اذیت ہے۔انسان مسلسل ہجرت کر رہے ہیں اور موسم پریشان ہیں۔مسافر کو راستے سے اور بیمار کو چارہ گر سے خطرہ ہے۔جیسے جون نے کہا تھا۔’’اب نہیں کوئی بات خطرے کی۔اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے‘‘۔یہ سب دیکھ کر ذہانت پر سے اعتبار اٹھنے لگتا ہے۔نیلے سے اس ایک نقطے سے نفرت ہونے لگتی ہے۔پھر ثاقب کی آواز آتی ہے، رکو مت، زوم کرتے رہو۔زوم کے علاوہ تم کچھ کر بھی نہیں سکتے۔میں بے دلی سے زوم کرتا ہوں۔اچانک بے آب وگیاہ سا ایک علاقہ کھل جاتاہے۔جیسے دریافت شدہ کوئی سیارہ ہو۔گھر ایک نہیں ہے مگر لوگ موجود ہیں۔انکی سرگرمیاں سمجھ نہیں آرہیں۔یہ لوگ گھر بنا رہے ہیں شاید؟ ارے ہاں گھر ہی تو بنا رہے ہیں۔میں محو ہوگیا۔لوگ دن رات کام کر رہے ہیں۔گھر بنتے چلے جارہے ہیں۔راتوں رات سو گھر بن گئے۔دو سو ہوئے پھر تین سو ہوگئے۔تین اسکول، دو مسجدیں، کلینک اور ایک مارکیٹ بھی بن گئی۔
ان سب لوگوں کے بیچ ایک عورت بالکل الگ سے نظرآرہی ہے۔جیسے کسی اور سیارے سے اس نئے سیارے پر اتری ہو۔رویے میں ہمدردی ہے اور شخصیت میں سحر۔سب اسی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اسی سے امیدیں بندھی ہوئی ہیں۔مگر یہ جگہ کیا ہے اور یہ عورت کون ہے؟ دو کالمی ایک خبر سامنے آتی ہے۔گلوکارہ نے دو سو گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا، مگر تین سو گھر بنا دیے ہیں۔نصیر آباد کا جو گائوں زمین سے مٹ گیا تھا پھر سے آباد ہوگیا ہے۔آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو۔یہ کام بہت بڑا ہے۔گلوکارہ کی شخصیت کو سامنے رکھ کر دیکھو تو چھوٹا لگتا ہے۔جیسے زمین بہت بڑی ہے۔عاشق کا دل سامنے رکھو تو چھوٹی لگتی ہے۔کبھی زوم کرو تو دل کہتا ہے، نیلے سے اس نقطے سے انسان محبت کیوں کرے۔کبھی زوم کرو تو دل کہتا ہے، نیلے سے اس نقطے سے محبت کرنے کیلئے یہ ایک وجہ کیا کم ہے کہ اس میں حدیقہ کیانی رہتی ہے۔