• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا میں جنگوں کی نوعیت بدل چکی ہے۔ کبھی توپ و تفنگ سے ریاستوں کو زیر کیا جاتا تھا، پھر معاشی پابندیاں بطور ہتھیار استعمال ہوئیں، اور اب پانی کو سیاسی دباؤ اور جارحیت کے ایک خطرناک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جاری آبی جارحیت اسی خطرناک سوچ کی عکاس ہے جسے بجا طور پر ’’واٹر ٹیررازم‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کی زندگی، زراعت، معیشت اور بقا کا ضامن ہے۔ جب کوئی ریاست جان بوجھ کر پانی کے بہاؤ کو روکنے، کم کرنے یا اسے بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کرے تو یہ صرف معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف اقدام تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ دریائے سندھ اور اس سے نکلنے والے دریا پاکستان کی زرعی شہ رگ ہیں۔ پنجاب کے کھیت، سندھ کی زمینیں اور لاکھوں کسانوں کی روزی انہی دریاؤں سے جڑی ہوئی ہے۔ بھارت نے گزشتہ کئی برسوں سے مختلف ڈیمز اور آبی منصوبوں کے ذریعے ان دریاؤں کے بہاؤ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر ایک کامیاب آبی معاہدہ سمجھا جاتا ہے، مگر بھارت بارہا اس معاہدے کی روح کے خلاف اقدامات کرتا رہا ہے۔ کبھی وہ پاکستان کو پانی بند کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے، کبھی متنازع منصوبے شروع کرتا ہے اور کبھی سیاسی کشیدگی کے دوران آبی وسائل کو بطور دباؤ استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

2019 ءمیں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارتی قیادت کی جانب سے پانی سے متعلق اشتعال انگیز بیانات نے پورے خطے میں تشویش پیدا کی تھی۔ اب 2026میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ بھارت کی انتہا پسند سیاسی سوچ خطے کے امن کیلئے مستقل خطرہ بن چکی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ عالمی برادری اکثر اس معاملے پر خاموش نظر آتی ہے حالانکہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے کیونکہ اگر جنوبی ایشیا میں پانی کے مسئلے کو سیاسی جنگ کا حصہ بنایا گیا تو اس کے نتائج پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔بھارت کی آبی پالیسی صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ خطے کے دیگر ممالک بھی مختلف اوقات میں بھارتی آبی منصوبوں پر تحفظات ظاہر کرتے رہے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی دہلی کی پالیسی میں علاقائی تعاون کے بجائے بالادستی کی سوچ غالب ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست کبھی بھی بنیادی انسانی ضرورت کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کرتی۔ پانی پر اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش دراصل خطے میں عدم استحکام کو بڑھانے کے مترادف ہے۔

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو صرف سفارتی سطح تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے عالمی انسانی مسئلے کے طور پر اجاگر کرےاور بین الاقوامی عدالتوں، اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر موثر انداز میں اپنا مقدمہ پیش کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ اندرونی سطح پر بھی آبی ذخائر کی بہتری، ڈیمز کی تعمیر، جدید آبپاشی نظام اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کئی دہائیوں سے پانی کے مسئلے پر سیاسی اختلافات کا شکار رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ قومی سلامتی سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔

پاکستانی قوم کو بھی اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ پانی آنے والے دور کی سب سے بڑی جنگ بن سکتا ہے۔ جس ملک کے پاس پانی ہوگا وہی معاشی اور زرعی طور پر مضبوط ہوگا۔ بھارت کی آبی جارحیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قومی اتحاد، موثر پالیسی اور جدید منصوبہ بندی کے بغیر مستقبل کے چیلنجز کا سامنا ممکن نہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی آبی پالیسی مضبوط نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن اور مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ سندھ طاس معاہدے پر پاکستان نے ہر مشکل وقت میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جبکہ بھارت کی جانب سے بارہا ایسے اقدامات سامنے آئے جنہوں نے اس معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود پاکستان نے قانونی اور سفارتی راستہ اختیار کیا، کیونکہ ایک ذمہ دار ریاست یہی طرز عمل اپناتی ہے۔ مگر امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنا بھارت کی سب سے بڑی غلطی ہے۔ پاکستان اپنے قومی مفادات اور آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، سفارتی اور آئینی راستہ اختیار کرنے کا حق رکھتا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی میڈیا، دانشور، ماہرین ماحولیات اور سفارتی حلقے دنیا کو یہ باور کرائیں کہ پانی کا مسئلہ صرف دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں بلکہ انسانی بقا کا سوال ہے۔ اگر ایک ایٹمی خطے میں پانی کو جنگی ہتھیار بنایا گیا تو اس کے اثرات صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن بھی متاثر ہوگا۔ دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ ’’واٹر ٹیررازم‘‘ صرف ایک سیاسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک حقیقی خطرہ ہے جو کروڑوں انسانوں کے مستقبل کو متاثر کر سکتا ہے۔

پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست ہے مگر اپنی بقا، اپنی زراعت اور اپنے عوام کے بنیادی حقوق پر کبھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ بھارت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ مستقل امن دھونس، دھمکیوں اور آبی جارحیت سے نہیں بلکہ برابری، انصاف اور معاہدوں کے احترام سے قائم ہوتا ہے۔ اگر جنوبی ایشیا کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو پانی کو جنگ کا نہیں بلکہ تعاون کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ بصورت دیگر آنے والے برسوں میں یہ مسئلہ خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

تازہ ترین