• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ کے بعض ابواب ایسے ہوتے ہیں جنہیں پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت اپنے ہی ملبے پر کھڑا سوچ رہا ہو کہ انسان نے ہزاروں برس کی مسافت طے کرنے کے باوجود آخر سیکھا کیا ہے؟۔ مشرقِ وسطیٰ بھی تاریخ کا ایک ایسا ہی باب ہے جہاں صدیوں سے سلطنتیں جنم لیتی رہی ہیں، قافلے گزرتے رہے ہیں، تلواریں چمکتی رہی ہیں اور پھر انہی ریگزاروں میں فاتحین کی ہڈیاں بھی دفن ہوتی رہی ہیں۔ آج جب آبنائے ہرمز کے پانیوں پر امریکی جنگی بیڑوں کی گھن گرج سنائی دیتی ہے اور تہران کی فضاؤں میں مزاحمت کے نعرے بلند ہوتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے تاریخ نے ایک بار پھر پرانے زخم کھول دیے ہوں۔ایسےلگتاہےکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی دو ریاستوں کا تنازعہ نہیں۔ یہ طاقت اور خوف، غرور اور بقا، معیشت اور نظریے کے درمیان وہ قدیم معرکہ ہے جو ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں دنیا کے افق پر نمودار ہوتا رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کبھی جنگی گھوڑوں کے سم زمین ہلاتے تھے اور آج بحری بیڑے سمندروں کا سکون نگل رہے ہیں۔ کبھی تیر اور تلوار انسانی بستیوں کو ویران کرتے تھے اور اب میزائل اور اقتصادی پابندیاں قوموں کے اعصاب کو تھکا دیتی ہیں۔آبنائے ہرمز… یہ نام سنتے ہی ذہن میں صرف ایک سمندری راستہ نہیں پوری دنیا کی معیشت کی دھڑکن ابھرتی ہے۔ صدیوں پہلے انہی پانیوں سے عرب ملاحوں کی کشتیاں گزرتی تھیں۔ ہندوستان کی خوشبوئیں اور فارس کے قالین دنیا کے بازاروں تک پہنچتے تھے۔ آج انہی موجوں پر تیل بردار جہاز عالمی معیشت کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں۔ چنانچہ جب یہاں بارود کی بو پھیلتی ہے تو اس کی حدت صرف خلیج تک محدود نہیں رہتی بلکہ نیویارک کے بازاروں، لندن کے مالیاتی ایوانوں، ریاض کےمحلات اور بیجنگ کی صنعتی فضا تک محسوس کی جاتی ہے۔امریکہ اپنی عسکری طاقت کے ساتھ سمندر میں موجود ہے اور ایران اپنی جغرافیائی اہمیت کے حصار میں کھڑا ہے۔ دونوں جانتے ہیں کہ جنگ کی آگ اگر دوبارہ شدت کیساتھ بھڑک اٹھی تو اس کے شعلے عسکری تنصیبات تک ہرگز محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت کے در و دیوار بھی ان کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی کی سرگوشیاں بھی سنائی دیتی ہیں اور جنگی تیاریوں کی چاپ بھی۔ سفارت کاری کے ایوان آباد ہیں مگر بارود کے گودام بھی خاموش نہیں۔عجیب بات تو یہ ہے کہ جدید دنیا نے انسان کو چاند تک پہنچا دیا، مصنوعی ذہانت ایجاد کر لی، سمندروں کی تہ اور خلا کی وسعت ناپ لی مگر انسان کے باطن میں بیٹھا خوف اور اقتدار کی خواہش آج بھی ویسی ہی ہے جیسی فرعون،سکندر، چنگیز اور نپولین کے زمانے میں تھی۔ تہذیب ترقی کرتی رہی لیکن اس کےباجود انسان کی انا نے ہمیشہ اپنے لیے نئے ہتھیار تراش لئے۔ ایران اس کشمکش کو اپنی بقا کی جنگ قرار دیتا ہے۔ برسوں کی اقتصادی پابندیوں، سفارتی تنہائی اور داخلی دباؤ کے باوجود اس کے لہجے میں ایک عجیب ضد باقی ہے۔ دوسری طرف امریکہ عالمی طاقت ہونے کے باوجود اس حقیقت سے بے خبر نہیں کہ طویل جنگیں صرف محاذوں پر نہیں بلکہ معیشتوں کے اندر بھی لڑی جاتی ہیں۔ ویتنام، عراق اور افغانستان کی گرد ابھی مکمل طور پر تاریخ کے اوراق سے جھڑی نہیں کہ ایک نیا بحران دنیا کے سامنے آن کھڑا ہوا ہے۔اس تمام منظرنامے میں سب سے زیادہ قابلِ غور چیز وہ خاموش سفارت کاری ہے جو پسِ پردہ جاری ہے۔ قطر، پاکستان اور چند دیگر ممالک مسلسل یہ کوشش کر رہے ہیں کہ تصادم کی شدت کم ہو سکے۔ یہ خاموش کوششیں ہمیں ہمیشہ تاریخ کے اُن گمنام کرداروں کی یاد دلاتی ہیں جو جنگوں کے ہنگاموں میں انسانیت کے لیے کوئی مختصر سا راستہ نکالنے کی کوشش کرتے رہے۔ دنیا اکثر فاتح جرنیلوں کے نام یاد رکھتی ہے مگر اصل خدمت کبھی کبھی وہ تھکے ہوئے سفارت کار انجام دیتے ہیں جن کی آواز توپوں کی گھن گرج میں دب جاتی ہے۔آبنائے ہرمز کا پانی آج بھی بہہ رہاہے۔ سمندر کو شاید اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کی سطح پر کون سی طاقت اپنے جھنڈے گاڑ رہی ہے۔ لہریں ہمیشہ کی طرح ساحلوں سے ٹکراتی ہیں اور پھر واپس لوٹ جاتی ہیں۔ انسان اپنی خواہشات، خوف اور طاقت کے نشے میں ہر دور میں یہی سمجھتا آیا ہے کہ تاریخ صرف اسی کے ارادوں سے لکھی جائے گی۔ حالانکہ تاریخ کا مزاج اس کے برعکس ہے۔ یہ بڑے بڑے لشکروں، عظیم سلطنتوں اور آہنی قوتوں کو چند سطروں میں سمیٹ دیتی ہے۔ باقی رہ جاتی ہیں صرف ویران بندرگاہیں، جلے ہوئے شہروں کا عبرتناک ملبہ اور وہ انسانی آہیں جنہیں کوئی مورخ مکمل طور پر قلم بند نہیں کر سکتا۔آج دنیا ایک بار پھر تباہی کے اسی دہانے پر کھڑی ہے جہاں تدبر اور تباہی کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ گیا ہے۔ سفارت کامیاب ہوگئی تو شاید ہرمز کی لہریں پھر تجارت اور امن کے گیت سنائیں گی لیکن اگر انا غالب آگئی تو یہ آگ خدانخواسہ صرف تہران اور واشنگٹن تک محدود نہیں رہے گی۔ پھر شاید آنے والی نسلیں تاریخ کے کسی ویران کتب خانے میں بیٹھ کر یہ سوال کریں گی کہ انسان نے اپنی تمام تر ترقی کے باوجود آخر جنگ سے محبت کرنا کب سیکھا تھا؟۔

تازہ ترین