ایرانی سُپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی بھی امن معاہدے کی بنیادی شرط لبنان پر اسرائیلی حملوں کا مکمل اور غیر مشروط خاتمہ ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ لبنان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور صہیونی حکومت کی جارحیت کا مکمل اور غیر مشروط خاتمہ امریکا کے ساتھ مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی معاہدے کی اولین شرط ہے۔
انہوں نے اپنے متعدد پیغامات میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ، اس کے سابق سربراہ حسن نصراللّٰہ اور جنوبی لبنان کے عوام سے بھی اظہارِ یکجہتی کیا ہے، جہاں اسرائیلی حملوں کا زیادہ تر مرکز رہا ہے۔
خامنہ ای نے کہا کہ ایران ان مظلوم مگر طاقت ور مجاہدین کے دفاع کو اپنی تزویراتی ذمے داری سمجھتا ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی اور کشیدگی میں ممکنہ کمی کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔
تہران اس مؤقف پر قائم ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل کا لبنان پر حملے روکنا ناگزیر شرط ہے۔
ایران نے جون میں واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق میں بھی اس مطالبے کو شامل کیا تھا، تاہم بعد ازاں آبنائے ہرمز سے متعلق اختلافات کے باعث یہ مفاہمتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
دوسری جانب لبنانی فوج نے گزشتہ روز الزام عائد کیا کہ اسرائیلی افواج انخلاء کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی اور طے شدہ علاقوں سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر رہی ہیں۔
لبنانی فوج کے مطابق اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے زیرِ قبضہ علاقوں میں اب بھی بلڈوزنگ، گولہ باری اور مشین گنوں سے سرچ آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تازہ جھڑپوں میں لبنان میں اب تک کم از کم 4,329 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل کے 37 فوجی اور چار شہری بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔