• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خالد عیاض

چائے بہ طور ’’مشروبِ مغرب‘‘ ہماری زندگیوں میں شامل ہوئی اور تہذیبِ مشرق کا دِل نواز اسلوب بن کر ٹھہر گئی۔ زندگی کے سفر کے تمام دِل نواز اور دِل سوز مراحل اب اسی کی معیت ہی میں طے ہوتے ہیں۔ یہ وہ خاموش رفیق ہے کہ جو طبیعت، کیفیت اور مزاج کے ہر موڑ پر انسانی سرشت میں اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔

یہ خوشیوں کی محفل میں ہنسی کو اور بھی زیادہ شوخ و چنچل بنا دیتی ہے اور غم کی ساعتوں میں دِل کے بوجھ کو خاموشی سے اپنے اندر جذب کر لیتی ہے۔ کبھی یہ ماں کے ہاتھوں کی محبّت بن کر صُبح کی پہلی کرن کے ساتھ آنکھیں مَلتی ہوئی آن موجود ہوتی ہے، کبھی دوستوں کی بے تکلف محفلوں میں قہقہوں کا رنگ بن جاتی ہے اور کبھی رات گئے تنہائی میں دِل کے راز سُننے والی ایک خاموش ہم راز کا رُوپ دھار لیتی ہے۔

چائے کی بھاپ میں بے شمار یادیں بھی گُھلی ہوتی ہیں۔ کسی کو اس میں بچپن کی بارشیں یاد آتی ہیں، کسی کو والد کی شفقت بَھری آواز، کسی کو کسی بچھڑے ہوئے ساتھی کی چہکار اور کسی کو اپنے خوابوں کی وہ تعبیر، جو ابھی وقت کے پردے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ چائے عجب تاثیرِ رِندانہ رکھتی ہے، انسان چاہے ہجوم کے درمیان کھڑا ہو یا تنہائی کے آخری کنارے پر، ایک کپ چائے دِل کی ترنگ بڑھا دیتی ہے اور اُمید کو اِک دِل افروز دُلہن کی طرح نئے انداز میں سجا کر کہتی ہے کہ ’’ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔‘‘

غم کے لمحات میں جب دِل ٹوٹ کر خاموش ہوجائے، لفظ ساتھ چھوڑدیں اور آنکھیں نم ہوجائیں، تب چائے کا ایک گھونٹ ہی دِل کو گرم جوشی عطا کرکے کہتا ہے کہ ’’صبر کرو، وقت بدل جائے گا۔‘‘ اور خوشی کے لمحات میں یہی چائے زندگی کے رنگوں کو مزید روشن کر دیتی ہے۔

کام یابی کی خبر ہو یا کسی اپنے کی آمد کی نوید یا سرد موسم میں اہلِ دِل کی محفل، چائے کے بغیر خوشی ومسرّت کاہر لمحہ، ہر مجلس ہی نامکمل، ادھوری رہتی ہے۔ چائے صرف پی نہیں جاتی، محسوس بھی کی جاتی ہے۔ اس کی خوش بُو تھکے ماندے اور بوجھل ذہن کو سکون دیتی ہے اور اس کا ذائقہ بکھرے ہوئے جذبات سمیٹنے لگتا ہے۔

کتنی ہی شامیں ایسی ہوتی ہیں کہ جب سورج ڈھل رہا ہوتا ہے، ہوا میں اُداسی کی نمی شامل ہوتی ہے اور انسان اپنی زندگی کے حساب کتاب میں گُم بیٹھا ہوتا ہے اور ایسے میں چائے کا ایک کپ ہاتھ میں آ جائے، تو ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے ڈھلتے سورج نے نور کی قبا اوڑھ لی ہو۔

چائے اُمّید کی وہ ننّھی سی شمع ہے، جو دِل کے اندر بُجھتی ہوئی ہمّت کی روشنی کو پھر سے روشن کر دیتی ہے۔ یہ محبّت کی داستانوں میں بھی شامل رہی ہے۔ ممتاز مفتی کی مشہورِ زمانہ تصنیف، ’’علی پور کا ایلی‘‘ میں شہزاد اکثر یہ فقرہ دُہراتی ہوئی ملتی ہے کہ ’’چائے بناؤں؟‘‘

کئی اَن کہی باتیں چائے کے بہانے کہی گئیں، کئی رشتے اس کی محفلوں میں مضبوط ہوئے اور کئی جدائیاں بھی اس کی ٹھنڈی ہوتی پیالی کے ساتھ خاموشی سے محسوس کی گئیں۔ کبھی محبوب کے انتظار میں ٹھنڈی ہوتی چائے دِل کی بے قراری بیان کرتی ہے اور کبھی کسی اپنے کے ساتھ بانٹی گئی گرم چائے زندگی کی سب سے خُوب صُورت یاد بن جاتی ہے۔

چائے صرف خوش بُو اور ذائقے کا نام نہیں، بلکہ تھکے ہارے دِن کا سکون، سرد رات کا سہارا، بارش کی رومانیت اور تنہائی کی خاموش دُعا بھی ہے۔ یہ زندگی کے ہر موسم میں انسان کی رفیق رہتی ہے، خوشی میں مسکرا کر، غم میں چُپ رہ کر، اُداسی میں سہارا بن کر اور امید و یاس کے درمیان ایک نرم سی روشنی کی طرح۔ شاید اسی لیے چائے سے محبّت کرنے والے لوگ صرف اس کے ذائقے سے لطف اندوز نہیں ہوتے بلکہ اس میں اپنی زندگی کے کئی ادھوری داستانیں، کئی خاموش دُعائیں، کئی ٹوٹے خواب اور کئی امیدیں بھی گھول کر پیتے ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید