صوبۂ سندھ اور صوبۂ پنجاب میں بالخصوص مئی، جون اور جولائی کے مہینوں میں جِلد کو جُھلسا دینے والی گرمی پڑتی ہے اوراس عرصےمیں انسان تو درکنار، چرند پرند بھی اذیت و تکلیف میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ شدتِ گرمی کے باعث پسینہ کثرت سے آتا ہے اور نمکیات کے جسم سے اخراج کی صُورت میں بہت زیادہ پیاس لگتی ہے، جس کے نتیجے میں جسمانی قوّت و استعداد کم ہوجاتی ہے۔
نیز، انسانی کارکردگی وفعالیت پر بھی منفی اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ درجۂ حرارت میں اضافے کے سبب بعض افراد کی زبان خُشک ہو کرتالو سے جا لگتی ہے اور ہونٹوں کی سُرخی سیاہی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
اگر شدید گرمی کے ساتھ حبس بھی ہو، تو جسم پسینے میں شرابور ہونے کی وجہ سے، جِلد کی سب سے بیرونی جِھلی کے نیچے آبی رطوبت کے چھوٹے چھوٹے قطرے موتیوں کی طرح جمع ہو کر گرمی دانوں کا سبب بنتے ہیں۔ اگر ان دانوں کو دبایا جائے، تو درد اور جلن محسوس ہوتی ہے، جب کہ شدید گرمی اور بہت زیادہ حبس میں بھی ان گرمی دانوں میں بہت زیادہ جلن اورچُبھن محسوس ہوتی ہے، جو خاصی تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ یہ گرمی دانے سُرخی مائل اور سفید رنگ کے ہوتے ہیں اور عام طور پر کمر، گردن اور بغلوں کے درمیان نمودار ہوتے ہیں۔
ان دانوں کو ’’پِت‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور جب ان دانوں کا بالائی حصّہ الگ ہوجائے، تو انفیکشن کے باعث یہ پھوڑے پھنسیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جو مزید تکلیف کا سبب بنتے ہیں۔ عام طور پر بچّوں کو گرمی دانے زیادہ نکلتے ہیں، کیوں کہ مدافعتی نظام کم زور ہونے کے سبب اُن کا جسم گرمی کے اثرات جلدی قبول کر لیتا ہے اور جب بچّوں کو پِت نکلتی ہے، تو وہ شدید بے چینی اوراُلجھن کا شکار ہوجاتے ہیں، کیوں کہ ان گرمی دانوں کی وجہ سے اُنہیں شدید خارش، چبھن اور گھبراہٹ ہوتی ہے۔
اس صورتِ حال میں بچّے پنکھے، ائیرکُولر یا ائیرکنڈیشنر کے بغیر سو نہیں پاتے۔ علاوہ ازیں، گرمی دانوں کی کمی بیشی کا تعلق خوراک اور طرزِ زندگی سے بھی ہے۔ مثال کےطور پر زیادہ مِرچ مسالے والے کھانے، انڈے، مچھلی اور گوشت سمیت دیگر گرم اشیاء کا حد سے زائد استعمال کرنے والے، تنگ و تاریک مکانات میں رہنے والے اور پانی کی قلّت کا سامنا کرنے والے افراد کو گرمی دانے نکلنےکا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ مزیدبرآں، گرم علاقوں میں رہنے والے افراد کو بھی یہ شکایت زیادہ ہوتی ہے، جب کہ ٹھنڈے اور پُرفضا مقامات پر رہنے والے افراد عام طور پر پِت سے محفوظ رہتے ہیں۔
ذیل میں گرمی دانوں سے بچاؤ کی چند تدابیر پیش کی جا رہی ہیں، جنہیں اختیار کر کے موسمِ گرما میں پریشانی و اذیّت سے بچا جا سکتا ہے۔
٭ گرم اور محرّک اشیا سے پرہیز کریں۔٭ خُود کو شدید گرمی سے محفوظ رکھیں، کیوں کہ یہ گرمی دانے پسینے کے سبب ہی پیدا ہوتے ہیں۔٭ روزانہ صُبح وشام غسل کریں تاکہ جسم میل کچیل سے محفوظ رہے اور مسامات بند ہونے کا امکان کم ہو جائے۔٭ ریشمی یا دیگر مصنوعی ریشے دار اشیاء سے بنے ملبوسات پہننے سے گریزکریں٭ اپنی روزمرّہ کی خوراک میں گھیا، توری، مونگ کی دال اور ٹماٹر کا استعمال کثرت سے کریں۔٭ آم کھانے کے بعد کچی لسی ضرور پئیں تاکہ اس کے نتیجے میں جسم میں پیدا ہونے والی گرمی کے اثرات سے بچا جا سکے۔٭ شدید گرمی میں بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔٭ پسینہ زیادہ آنے کی صُورت میں اُسے تولیے یا کسی سوتی کپڑے سے صاف کریں۔٭ شدید گرمی کی صُورت میں انڈے، مچھلی، اچار، چائے اور کافی کا استعمال ترک کردیں، کیوں کہ یہ تمام اشیاء خون میں حدّت پیدا کرتی ہیں۔ اس کے برعکس اس موسم میں آلو بخارے، جامن، تربوز، اسکنجبین اور دیگر ٹھنڈی اشیاء کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔
موسمِ گرما میں جب پیاس کی شدّت میں اضافہ ہوتا ہے، تو عموماً لوگ ٹھنڈے ٹھار مشروبات سے اُسے بجھاتے ہیں۔ اِن دنوں بازار میں رنگارنگ مشروبات دست یاب ہیں، جو ایسڈز سے بنتے ہیں اور ان کا استعمال گُردوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس موسم میں گرمی کے اثرات سے محفوظ رہنے اور پیاس بجھانے کے لیے سب سے مفید اور سستا قدرتی مشروب ستّو کا شکر مِلا شربت ہے، جو ہمارے پیارے نبی حضرت محمّدﷺ کو بھی بہت مرغوب تھا۔
رسولِ اکرمﷺ عام طورپرگرمی کا روزہ ستّو کے شربت سے افطار فرماتے تھے۔ اس شربت سے نہ صرف پیاس ختم ہوتی ہے بلکہ غذائی کمی بھی رفع ہوتی ہے اور جسم سے پانی کی کمی بھی دُور ہوجاتی ہے، نیز ستّو کا شربت دِل کو تسکین، طبعیت کو فرحت بخشتا اور ہاتھ، پاؤں اور پیشاب کی جلن ختم کرتا ہے۔ علاوہ ازیں، یہ گرمی دانوں سمیت موسمِ گرما کے دیگر عوارض سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔
ستّو ایک قسم کا آٹا ہے، جو مختلف اقسام کی گندم اور جَو سے تیارکیاجاتا ہےاور پھراس آٹے کو شکر مِلا کر شربت کی صُورت پیا جاتا ہے۔ چند سال قبل تک یہ خطّۂ پنجاب کا مرغوب شربت تھا۔ جب لُو چلتی تھی، تو لوگ ستّو کا شربت ہی پیتے تھے اور موسمی عوارض سے مخفوظ رہتے تھے۔
یہ لذیذ ہونے کے علاوہ گرمی کا مؤثر توڑ بھی ہے اور اس موسم کے امراض کا علاج بھی۔ بدقسمتی سے جدید مشینی زندگی اور مصنوعی لوازمات کے باعث روایات و ثقافت دم توڑ رہی ہے اور نئی نسل تو شاید ستّو کے نام سے بھی نا آشنا ہے۔
یاد رہے، ہم فطرت سے دُور ہونے کی وجہ سے صحت کے مختلف مسائل کا شکار ہورہے ہیں۔ ستّو میں بڑی مقدار میں فائبر موجود ہوتا ہے، جو قبض کُشا ہے۔ یہ جسم میں کولیسٹرول کی مقدار نارمل اور یورک ایسڈ ختم کرتا ہے، جب کہ یہ گرمی دانوں کے علاج کے لیے بھی مفید ہے۔ لہٰذا بازاری مشروبات ترک کرکے ستّو جیسے قدرتی مشروبات کا استعمال شروع کریں اور گرمی کے عوارض سے محفوظ رہیں۔