• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عبدالواجد، چیچہ وطنی، ساہیوال

روشنی محض اُجالے کا نام نہیں، یہ ایک باطنی نُور، ایک معنوی کشادگی اور ایک ایسا الوہی انکشاف ہے، جو انسان کے اندر کے جہلِ مرکب کو چیر کر بصیرت کے نئے در وا کرتا ہے۔ یہ وہی روشنی ہے جس کے بارے میں قرآن حکیم میں ارشاد ہوا۔ ’’اللّٰہُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ۔‘‘ یعنی کائنات کے ہرذرّے میں اللہ کا نور سانس لیتا ہےاوراسی نورکی جلوہ آرائیاں انسان کے اخلاق، کردار اور معاشرت میں اجالا کرتی ہیں۔

یہ روشنی گھروں کے قندیلوں میں نہیں، انسان کے باطن میں اپنا ڈیرہ ڈالتی ہے۔ جہاں نیت صاف، ارادہ مُصفّٰی ہو اور دل بغض وعناد کی غلاظت سے دھویا گیا ہو، وہاں نُور کی کرنیں خُود بخود جسم و جاں میں رچ بس جاتی ہیں۔ اندھیری راتوں میں کسی رہ رو کے لیے دُور جلتا ہوا چراغ بھی امید کی نوید بن جاتا ہے، تو پھر اُس نورِ قلب کی، جسے اِخلاص سے جلا کر رکھا جائے، تاثیر کیسے بے نتیجہ ہو سکتی ہے؟

ہمارا معاشرہ آج جس ذہنی پراگندگی، اخلاقی افلاس اور باہمی بے التفاتی کے بھنور میں گِھرا ہوا ہے، اِس کی اصل وجوہ میں سے ایک یہی ہے کہ ہم نے دِلوں کے چراغ نیم مُردہ کر دیے ہیں۔ زبانیں شعلے اگلتی ہیں، مگردِلوں میں کئی زمانوں سے سَرد پڑی راکھ کے سوا کچھ نہیں۔ گھروں کے بلب تو روشن ہیں لیکن طبیعتیں بُجھی ہوئی، ذہن دھندلائے ہوئےاور رویّے تاریک گلیوں جیسے ہوگئے ہیں۔

یہی وہ تاریک گوشے ہیں، جہاں معمولی سا اختلاف تپتا ہوا آتش دان بن جاتا ہے اور ذرا سی غلط فہمی رشتوں کی جڑیں کھوکھلی کر کے رکھ دیتی ہے۔ علم کا نُور بھی وہی تاثیر رکھتا ہے، جو صدیوں سے انسانوں کی تربیت کا موجب بنتا آیا ہے۔ 

استاد کا ایک جملہ، کتاب کا ایک ورق، یا شاگرد کی شبِ بےداری یہ سب وہی روشنی کے ہالے ہیں، جو نسلوں کے مزاج بناتے ہیں، لیکن ہم نے علم کو کسبِ معاش کا وسیلہ تو سمجھ لیا، مگر اس نورانی خاصیت سے منہ موڑ لیا، جو انسان کو انسانیت کے قالب میں ڈھالتی ہے۔ علم تو وہ مِشعل ہے، جو ہاتھ میں ہو، تو رستے صاف کرتی ہے اور دل میں اُتر جائے، تو زمانہ روشن کردیتی ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم زمانے کے اندھیروں کا رونا رونے کے بجائے اپنے حصّے کی شمع خود روشن کریں۔ روشنی غیب سے اترتی ہے، نہ کسی خارجی وسیلے کی محتاج ہوتی ہے۔ یہ وہ سادہ، خاموش مگر ہمہ گیر قوت ہے، جو دل کی دراڑوں سے بھی اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔ محبت، مروّت اور درگزر وہ تین چراغ ہیں، جو اگر روشن رہیں، تو معاشرہ کبھی تاریکی کے نرغے میں نہیں آتا۔

ایسے لوگ جودِلوں میں روشنی بسائے رکھتے ہیں، تعداد میں کم ہوں، تو بھی اُن کا وجود اندھیروں کے لیے باعثِ ندامت ہوتا ہے۔ گویا اِک شمع بُجھائی تو کئی اور جلا لیں اور آخر میں سوال یہی ہے کہ جب اللہ نے نُورِ ہدایت ہمارے دِلوں میں رکھنے کی قدرت ہمیں عطا کردی ہے، تو پھر ہم خُود اپنے ہاتھوں سے اپنے اندر کی یہ روشنی کیوں بُجھا دیتے ہیں؟

سنڈے میگزین سے مزید