’’میرے پیارے دوست‘‘ یہ الفاظ ہیں صدر پیوٹن کے، جو اُنھوں نے دورۂ بیجنگ کے دَوران صدر شی جن پنگ کے لیے کہے۔ یہ الفاظ چین اور روس کی مضبوط دوستی کا تاثر گہرا کرتے ہیں۔ صدر پیوٹن، شی جن پنگ سے اب تک25 ملاقاتیں کر چُکے ہیں، جب کہ وہ چالیس سے زیادہ مرتبہ بیجنگ آچکے ہیں، لیکن امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے فوراً بعد دونوں کی( پیوٹن/ شی جن پنگ) ملاقات نے دنیا کی بھرپور توجّہ حاصل کی۔
دونوں لیڈر مجموعی طور پر تقریبا چالیس سال سے اپنے اپنے ممالک پر حُکم رانی کر رہے ہیں، جب کہ دونوں کے نظامِ حکومت بھی یک ساں ہیں، اِس طرح انہیں ایک دوسرے کے قریب آنے میں بہت مدد ملی۔ روس، یوکرین کے ساتھ جنگ میں بُری طرح اُلجھا ہوا ہے، اِسی لیے اُس کا سارا زور معاشی تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر رہا۔
پیوٹن کی کوشش ہے کہ دنیا، یوکرین پر روسی جارحیت کی جانب کم توجّہ دے۔ بیجنگ میں ٹرمپ اور پیوٹن کا شان دار استقبال کیا گیا۔ گریٹ ہال کے سامنے پیوٹن کو سلامی دی گئی اور وہاں موجود بچّوں نے دونوں ممالک کے جھنڈے لہراتے ہوئے دوستی کے نعرے لگائے۔ روس، یوکرین جنگ کی وجہ سے تقریباً تنہا ہو گیا ہے۔
یورپ، جس کا وہ اہم حصّہ ہے اور جس کے ساتھ مل کر اس نے ہٹلر کے خلاف عالمی جنگ لڑی، اس کا شدید مخالف، بلکہ دشمن بن چُکا ہے، کیوں کہ وہ یوکرین پر جارحیت کو دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ پر سب سے بڑا حملہ قرار دیتا ہے۔ امریکا اور مغربی دنیا کی پے درپے پابندیوں نے روسی معیشت کو دلدل میں پھنسا دیا ہے۔ پیوٹن کی یہ حالت ہوچُکی کہ وہ ایران جنگ کے دوران تیل بیچنے کی اجازت پر ڈونلڈ ٹرمپ کے شُکر گزار ہیں، حالاں کہ ایران اُن کا قریبی دوست اور حلیف ہے۔ جب کہ دوسری طرف، روس، چین کو تیل سپلائی کر کے یوکرین جنگ کا خسارہ پورا کرنے پر مجبور ہے۔
اِسی لیے کسی موازنے میں جائے بغیر کہا جاسکتا ہے کہ بیجنگ میں پیوٹن کا استقبال شان دار تھا، تو ٹرمپ کا غیر معمولی۔ اور یہ ہونا بھی تھا کہ امریکا دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ اس کے ڈالر کا فی الحال کوئی نعم البدل نہیں۔ چینی صدر نے کہا کہ’’چین اور امریکا مل کر دنیا کو استحکام دیں گے‘‘، جب کہ اُنھوں نے روس کے لیے بھی اچھے الفاظ استعمال کیے۔ اب ایسا بھی نہیں کہ چین اور روس کی دوستی اہم نہیں ہے۔ اِن دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان ملاقاتیں مغربی دنیا کے لیے خبردار رہنے کا سگنل ہے۔ روس ایک بڑی ایٹمی طاقت ہے، جب کہ چین مال کا سب سے بڑا ایکسپورٹر۔
یہاں تک کہ اس نے باہمی تجارت میں امریکا کو خسارے تک پہنچا دیا اور اِسی سبب ٹرمپ، چین کے خلاف محاذ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین، امریکا کی اقتصادی پوزیشن سے واقف ہے اور شی جن پنگ کبھی نہیں چاہیں گے کہ کسی بھی تنازعے میں اُلجھ کر امریکا کے ساتھ بلین ڈالرز کی باہمی تجارت چھوڑ دیں۔ پھر یہ کہ امریکا اب بھی ٹیکنالوجی میں چین سے بہت آگے ہے اور ورلڈ لیڈر بھی فی الحال وہی ہے۔ سُپر کمپیوٹر اور آرٹی فیشل انٹیلی جینس میں اسے لیڈ حاصل ہے۔ چاند پر پہلے قدم سے انٹرنیٹ کی ایجاد تک، اُسی نے پہل کی۔
امریکا نے صرف بارہ ماہ میں کورونا کا پہلی ویکسین بنا کر دینا کو اس وَبا سے نجات دلائی۔ ماہرین کچھ بھی کہتے رہیں، لیکن خُود چین نے امریکا کے برابر آنے کی مدّت کا ہدف2050 ء رکھا ہے۔ چین نے اپنے اربوں ڈالرز امریکا میں رکھے ہوئے ہیں اور یوں وہ ڈالر کی قدر میں کمی برداشت نہیں کرسکتا۔ یہ اُن ماہرین کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، جو بغیر سوچے سمجھے’’ چین، روس بلاک‘‘ کے دعوے اور شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔
امریکا، مغربی دنیا کا لیڈر ہے اور یہ وہی مغرب ہے، جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں گزشتہ پانچ سو برس سے قیادت کر رہا ہے۔ جدید دنیا اِسی مغرب کے کارناموں کی مرہونِ منّت ہے اور یہ تعریف نہیں، حقیقت کا اعتراف ہے، جو کسی بھی مُلک و قوم کے لیے آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے۔ ویسے جدید چین کے قیام کو ابھی75 سال ہوئے ہیں۔ امریکی دفاعی بجٹ1000بلین ڈالرز کے قریب ہے، جب کہ چین کا بجٹ بمشکل 200بلین ڈالرز ہوگا۔ چین ہمارا سب سے قریبی دوست ہے اور اس نے پاکستانی قیادت کو ہمیشہ تدبّر اور مفاہمت کی پالیسی اپنانے کا مشورہ دیا ہے۔
شی جن پنگ اور اُن سے پہلے آنے والے چینی رہنماؤں نے امریکا سے اچھے تعلقات رکھنے ہی پر زور نہیں دیا، بلکہ اِس ضمن میں مدد بھی کی، کیوں کہ پاکستان کی کم زور معیشت کا، جو ہر وقت دیوالیہ ہونے کے قریب رہتی ہے، انحصار تارکینِ وطن کے بھجوائے گئے زر مبادلہ اور بیرونی قرضوں پر ہے، اِسی لیے پاکستان کو سب سے دوستی کی ضرورت ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کی سپورٹ بھی درکار ہے، جو امریکا کے بغیر ممکن نہیں۔
عمران خان کا معاشی گورنینس کے ضمن میں بدترین دور اِسی وجہ سے ناکام رہا کہ وہ اپنی کلٹ کی سیاست میں یہ نکتہ بھول گئے یا اِس کا ادراک ہی نہ کرسکے۔ چین، بھارت سے بھی تعلقات معمول پر رکھنے کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے، جب کہ سرحدی تنازعات کے باوجود خود اس کی بھارت سے تجارت ایک سو بلین ڈالرز سے زیادہ ہے۔ شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ایران کی اہم، چابہار بندرگاہ بھارت نے تعمیر کی، جو چین کی تعمیرکردہ گوادر پورٹ کی بدل ہے۔
ہمیں بین الاقوامی تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی آنکھوں کے لینسسز درست رکھنے چاہئیں۔ ایران جنگ میں پہلے ہی دن ایرانی قیادت کا ختم ہونا، وہاں کی سیاسی قیادت کے لیے مشکلات کا سبب بنا اور دنیا اُن کی اِس مجبوری سے اچھی طرح واقف ہے۔ ایران میں پاسدارانِ انقلاب کا کنٹرول ہے اور سیاسی قیادت پس منظر میں چلی گئی۔ امریکا، چین، روس اور یورپ سب ہی چاہتے ہیں کہ حسن روحانی کے دَور کی طرح ایران کی کوئی سیاسی قیادت سامنے آئے، وگرنہ دیرپا امن قائم نہیں ہوسکے گا۔
روس اور چین کی دوستی کا انحصار جیو پالیٹکس پر کم اور اقتصادی مفادات پر زیادہ ہے، جب کہ اِس معاملے میں روس، چین کا دستِ نگر ہے، اِسی لیے پیوٹن بڑے بڑے دعووں کے باوجود، شی جن پنگ سے ہمیشہ جُھک کر ملتے ہیں۔ صدر پیوٹن کے حالیہ دورۂ چین کے دوران 20ایم او یوز پر تو دست خط ہوئے، لیکن دورے کے بظاہر کوئی ٹھوس نتائج سامنے نہیں آئے۔
پیوٹن کا سب سے اہم ہدف سائبیریا سے مغربی چین تک گیس پائپ لائن کا معاہدہ کرنا تھا، لیکن چین نے اُن کی یہ خواہش پوری نہیں کی اور اسے مزید التوا میں ڈال دیا۔ پیوٹن اِس پائپ لائن کے ذریعے یوکرین جنگ کے نقصانات کم کرنا چاہتے ہیں، لیکن چین کبھی یہ نہیں چاہے گا کہ روس فوجی طور پر زیادہ طاقت ور ہو کہ اس کا ماضی اور حال جارحیتوں سے بھرا ہوا ہے۔
یاد رہے، بھارت، چین جنگ میں روس کمیونسٹ مُلک ہونے کے باوجود بھارت کے ساتھ تھا، اِسی لیے افغان وار میں چین نے کبھی بھی روس کا ساتھ نہیں دیا۔ پیوٹن، شی جن پنگ ملاقات کے مشترکہ اعلامیے میں یوکرین جنگ کا ذکر شامل نہیں تھا، شاید چین اس معاملے سے اپنا دامن بچانا چاہتا ہے۔ چین نے فی الحال مشرقِ وسطیٰ کو اپنی توجّہ کا محور بنا رکھا ہے، جہاں اُس کے توانائی سے متعلقہ مفادات وابستہ ہیں۔
پاکستانی وزیرِ اعظم کا حالیہ دورۂ چین بھی اس پس منظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ اسلام آباد نے عرصۂ دراز بعد امریکا کا اعتماد حاصل کیا ہے، وگرنہ ایران سے نیوکلیئر ڈیل میں پاکستان کو مکمل نظر انداز کیا گیا تھا، حالاں کہ اُس وقت بھی وہ خطّے کی بڑی ایٹمی طاقت تھا۔ اُسی زمانے میں امریکا نے بھارت سے سِول نیوکلیئر معاہدہ کیا۔ یہ ڈیموکریٹک صدر، اوباما کا دورِ حکومت تھا، جنہوں نے آٹھ دن بھارت میں گزار کر ایک ریکارڈ قائم کیا تھا۔ پاکستان اُس دَور میں خُود کو بہت تنہا محسوس کرتا رہا۔
یہی حال دوسرے ڈیموکریٹک صدر، جوبائیڈن کے دَور میں ہوا۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ری پبلکن دَور میں پاکستان اور امریکا کی قربتیں بڑھتی ہیں۔ پیوٹن روس کو سوویت یونین دَور کی شکل دینا چاہتے ہیں اور اِس ضمن میں اُن پر گویا جنون طاری ہے۔ چین یہ جنون بھی روک رہا ہے۔ بیجنگ، یوکرین جنگ میں نیوٹرل رہنے کے کوشش کرتا ہے کہ اپنے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر یورپ کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔
شی جن پنگ پندرہ سال سے چین کے صدر ہیں اور کمیونسٹ پارٹی سے تاحیات صدر رہنے کی منظوری لے چکے ہیں۔ روس کی تاریخ اچھی طرح جانتے ہیں اور اُن کے سامنے 1971ء کی پاک، بھارت جنگ بھی ہے، جس میں روس نے بھارت کا ساتھ دیا، جب کہ چین، پاکستان کے ساتھ تھا۔ روس کا افغانستان پر فوجی قبضہ، مشرقی یورپ پر تسلّط، وسط ایشیائی ممالک کو غلام بنائے رکھنا، کریمیا پر جارحیت، شام پر دوسالہ بم باری اور یوکرین پر یلغار اُس کی تاریخ کا حصّہ ہے، اس کے مقابلے میں چین اقتصادی برتری کی پالیسی پر چٹان کی طرح ڈٹا ہوا ہے۔ وہ امن چاہتا ہے کہ اِسی سے اقتصادی مفادات حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
ٹرمپ کے پُرجوش استقبال کے پس منظر میں اُن کا تاجر ہونا بھی شامل ہے۔ چین ہر حال میں آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتا ہے۔ اسے اگر ایران عزیز ہے، تو اتنے ہی سعودی عرب، یو اے ای، کویت، قطر، بحرین، اومان اور یہاں تک کہ اسرائیل کے مفادات بھی عزیز ہیں کہ وہ ہر چیز کو اپنے اقتصادی مفادات کے عینک سے دیکھتا ہے۔
یہ بات شاید اُن ماہرین کو سمجھ نہ آئے، جو ہر تنازعے کو مذہب، نظریے یا ذاتی خواہشات کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں رومانس ہوتا ہے، نہ مستقل دوستیاں اور نہ ہی لامتناہی دشمنیاں، مفادات کے ساتھ پالیسیز بدلتی رہتی ہیں۔ ہم کچھ عرصہ قبل تک کہتے تھے کہ جیو اسٹریٹیجی سب سے اہم ہے، تو پھر آج کیوں افغان طالبان حکومت اور پاکستان حالتِ جنگ میں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ سربراہی ملاقاتیں کسی نئے ورلڈ آرڈر کی تیاریاں ہیں یا موجودہ آرڈر قائم رکھنے پر اتفاق پیدا کیا جا رہا ہے۔ موجودہ ورلڈ آرڈر، دوسری عالمی جنگ کے بعد سے چل رہا ہے اور اس کی حُکم رانی وہ پانچ ویٹو پاورز کر رہے ہیں، جو انتہائی طاقت وَر اور لیڈر مانے جاتے ہیں۔ جب بھی دنیا میں کوئی بحران آئے، جیسے یوکرین، غزہ یا ایران جنگیں، تو اِن بڑی طاقتوں میں سے کوئی نہ کوئی حُکم ران طاقت اِن معاملات میں ملوّث ہوتی یا فیصلہ کُن کردارا دا کرتی ہے۔
غزہ کی دو سالہ بربادی کو کوئی طاقت ور ادارہ یا مسلم دنیا نہیں روک سکی۔ عوام ریلیاں نکالتے رہے، اسرائیل بم باری کرتا رہا اور غزہ کے باسی سسکتے، بِلکتے، مرتے رہے۔ یہ بحران ڈونلڈ ٹرمپ نے’’پیس بوڑد‘‘ قائم کر کے ختم کیا۔ دوسری عالمی جنگ اور اس کے بعد تک فوجی برتری کا زمانہ تھا۔ امریکا اور سوویت یونین نے اِسی برتری کے زیرِ اثر دنیا آپس میں بانٹ رکھی تھی۔
امریکا کا مغربی بلاک اور سوویت یونین کا سوشلسٹ بلاک۔ عرب اور افریقی ممالک کا یہ نقصان ہوا کہ وہاں کے عوام آمریتوں کے غلام بن گئے، جنہیں اقتدار سے بے دخل کرنا عوام کی طاقت سے باہر ہوگیا۔ اِس طرح غیر مسلم نوآبادیات بھی فوجی آمریت کے شکنجے میں جکڑ گئیں۔ یہ آمر دنیا کو اپنے ممالک میں ترقّی کا تاثر دیتے، جو کھوکھلا تھا، لیکن دونوں سُپر پاورز کو یہ ٹھیک لگتا، کیوں کہ بہت سے افراد کی بجائے ایک شخص سے معاملات طے کرنے میں اُنھیں آسانی ہوتی تھی۔
آج کی دنیا بدل چُکی ہے۔پہلے’’جاپان رائز‘‘، پھر چائنا کی بے داری اور اب جنوب مشرقی ایشیا میں حیرت انگیز ترقّی نے عوام کی دنیا ہی بدل دی۔ بلند معیارِ زندگی نے اُن کی زندگیاں آسودہ کردیں، جس کی ہر قوم آرزو مند تھی اور اب بھی ہے۔ متبادل انرجی کے مارکیٹ میں آنے سے مشرقِ وسطیٰ کے عالمی اثرات میں کمی واقع ہوئی، جس سے مسلم دنیا کے امیر اور لیڈر ہونے کا تاثر زائل ہوگیا۔ نیز، ایران اور عرب ممالک کی جنگوں نے بھی مسلم دنیا کے اتحاد کو سخت نقصان پہنچایا۔
فرقہ واریت کے زہر سے قومی یک جہتی پارہ پارہ ہوگئی اور یہ سلسلہ تھمنے کا نام بھی نہیں لے رہا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایران جنگ، مسلم دنیا کے زوال کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ ایسے میں پانچ بڑی طاقتوں کے علاوہ جاپان، بھارت اور شاید جنوبی افریقا بھی سلامتی کاؤنسل کی مستقل رُکنیت کے خواہاں ہیں۔ فوجی برتری کے ساتھ، اقتصادی اور ٹیکنالوجی میں غلبے سے بھی دنیا تبدیل ہو رہی ہے۔ ایسے میں جو ممالک اِن میدانوں میں نمایاں پیش رفت کریں گے، وہی نئی دنیا میں اپنا باوقار مقام حاصل کر سکیں گے۔