• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

100 سال بعد پہلی جنگِ عظیم کے 9500 پنجابی فوجیوں کو جنگی شہداء کا درجہ مل گیا

---فوٹو جنگ
---فوٹو جنگ 

پہلی جنگِ عظیم میں برطانوی افواج کے لیے خدمات انجام دینے والے تقریباً 9 ہزار 500 پنجابی فوجیوں کو ایک صدی بعد باضابطہ طور پر جنگی شہداء کی سرکاری فہرست میں شامل کر لیا گیا، یہ فوجی جنگ کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔

نو آبادیاتی دور کی پالیسیوں کے باعث ان شہداء کو طویل عرصے تک جنگی ہلاکتوں میں شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان کی قبروں کو جنگی قبرستانوں کا درجہ ملا تاہم تاریخی ریکارڈ کی ازسرِنو جانچ کے بعد ان کی قربانیوں کو سرکاری طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ان فوجیوں کا اصل ریکارڈ ہاتھ سے لکھی دستاویزات کی صورت میں لاہور عجائب گھر کے تہہ خانے میں محفوظ تھا جو برسوں تک نظر انداز رہا، بعد میں تحقیق کے ذریعے ان ریکارڈز کی بنیاد پر فوجیوں کی شناخت کی گئی اور انہیں سرکاری فہرست میں شامل کیا گیا۔

تاریخی ریکارڈ کے مطابق ان فوجیوں میں مسلمان، سکھ اور ہندو شامل تھے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ برصغیر کے مختلف علاقوں اور برادریوں کے لاکھوں افراد نے عالمی جنگوں میں حصہ لیا۔

تاریخ دانوں کے مطابق پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران متحدہ ہندوستان سے لاکھوں افراد نے برطانوی افواج میں خدمات انجام دیں جن میں سے بڑی تعداد نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاہم نوآبادیاتی دور کے باعث کئی دہائیوں تک ان کی قربانیوں کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ فیصلہ ان فوجیوں کی قربانیوں کے اعتراف کے ساتھ عالمی جنگوں میں برصغیر کے سپاہیوں کے اہم کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
برطانیہ و یورپ سے مزید