• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹرمپ کے دورہ چین سے دنیا میں استحکام آئے گا؟

گزشتہ ہفتے امریکا کے صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کا دورہ کیا، جس کے دوران اُن کی چینی قیادت سے ملاقاتیں ہوئی۔ چین کے صدر شی جن پنگ کا اِس ضمن میں کہنا تھا کہ’’یہ ملاقات تاریخی اور ایک سنگِ میل ہے‘‘جب کہ صدر ٹرمپ نے بھی اِسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا۔ صدر ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ نے دس سال بعد بیجنگ میں ملاقات کی، جب کہ اِن دس سالوں میں دنیا بہت بدل چُکی ہے۔ 

اِنہی برسوں میں دنیا نے کورونا کی تباہ کاریاں برداشت کیں، روس، یوکرین جنگ دیکھی، جو چار سال سے جاری ہے۔ پھر غزہ کا بحران اور پاک، بھات جنگ بھی اہم عالمی واقعات میں شامل ہے اور اب دنیا ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے نتائج بُھگت رہی ہے۔

اِن عالمی واقعات نے اِتنا کچھ بدل دیا کہ عالمی لیڈر شپ اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اب ورلڈ آرڈر تبدیل ہونے کو ہے۔ مختلف ممالک اور اقوام میں نئی صف بندیاں ہوں گی، لیکن یہ سب کچھ اُن طاقتوں پر منحصر ہے، جو اِس وقت دنیا کی سمت طے کر رہی ہیں اور اِن قوّتوں میں چین اور امریکا مرکزی اہمیت کے حامل ہیں۔ گزشتہ دہائی میں عالمی اقتصادیات کو بار بار جھٹکے لگے۔

پہلے کورونا وبا، پھر یوکرین کی جنگ اور اب آبنائے ہرمز کی غیر قانونی بندش سے عالمی اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ ایک طرف توانائی کا بحران ہے، تو دوسری طرف منہگائی کا بڑھتا عفریت، جو بڑے ممالک کے لیے چیلنج، کم زور ممالک کے لیے قیامت بن گیا ہے اور پاکستان بھی ایسے ہی ممالک میں شامل ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے فوراً بعد صدر پیوٹن چین پہنچے اور وہاں کی قیادت سے گرم جوش ملاقات کی۔ یہ ملاقات بھی بہت سے اشارے دے رہی ہے۔

روس خود ایک جارح مُلک ہے کہ اس نے یوکرین پر جنگ تھوپی ہوئی ہے۔ اس کی معیشت شدید دباؤ میں ہے، اِس لیے فیصلہ کُن قوّت اس کے پاس نہیں رہی۔ ایران جنگ کے پس منظر میں اکثر تجزیہ کار امریکا اور چین کے صدور کی ملاقات کے اصل نکتے پر فوکس نہ کرسکے اور ایسا ہونا بھی تھا کہ ہر خطّہ اور مُلک اسے اپنے مفادات کے تحت دیکھ رہا ہے۔ امریکا اور چین دنیا کے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر ہیں اور ان کے درمیان کسی بھی قسم کے معاشی عدم توازن سے دنیا ہل کے رہ جاتی ہے۔

دیکھا جائے تو یہ معاملہ آبنائے ہرمز کی بندش سے بھی کہیں اہم ہے۔ آبنائے کی بندش اور جنگوں کا معاملہ، توانائی کے ہر شعبے پر مرتّب ہونے والے گہرے منفی اثرات کے باوجود ایک علاقے یا کچھ ممالک تک محدود ہے، لیکن چین اور امریکا کے درمیان اقتصادی معاملات کا بگاڑ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اِسی لیے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ’’چین اور امریکا مل کر دنیا کے استحکام میں اہم کردار ادا کریں گے۔‘‘ اور شاید یہی اِن ملاقاتوں، مذاکرات کا حاصل تھا۔

امریکا، چین سربراہ ملاقات کا ایجنڈا خاصا متنوّع رہا، جس میں باہمی اور عالمی اقتصادی معاملات، خاص طور پر صدر ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی اہم تھی۔ عالمی تنازعات میں تائیوان کا معاملہ چین کے لیے اوّلیت رکھتا ہے، پھر یہ کہ وہ یوکرین پر حملہ آور روس کا اسٹریٹجک پارٹنر ہے، جب کہ امریکا، یوکرین اور یورپ کے ساتھ ہے۔

اِس ملاقات میں ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش پر بھی بات ہوئی، جن سے توانائی کی قیمتوں اور سپلائی پر گہرے اثرات مرتّب ہو رہے ہیں۔ امریکا، اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ آور ہے، جس کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کردی اور اپنے پڑوسی عرب ممالک پر مسلسل حملے کرکے اُنہیں بھی اِس جنگ میں ملوّث کر لیا۔

اِس ضمن میں وہ یہ جواز پیش کرتا ہے کہ اِن عرب ممالک میں امریکی اڈّے ہیں۔ چین کی آبنائے ہرمز کی بندش ختم ہونے میں غیر معمولی دل چسپی ہے، کیوں کہ وہ ایران کے برآمدی تیل کا 80فی صد خریدار ہے، جب کہ عرب ممالک بھی اُس کی تیل کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ عرب ممالک سے تعلقات، چین کی معیشت میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ امریکی صدر کے ساتھ دورے میں ایک اعلی سطحی بزنس وفد بھی موجود تھا، تو ظاہر ہے، ٹریڈ ٹیکنالوجی ٹاپ آف ایجنڈا تھی۔ یوں اِس دورے میں تجارتی معاہدے اور ٹیرف کے معاملات سرِفہرست رہے۔

صدر ٹرمپ نے دورے سے قبل اپنی ٹیرف پالیسی میں چین کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا اور اس کی درآمدات پر پچاس فی صد تک ٹیرف عاید کیے، جس کا چین نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا، لیکن یہ رنجش بہت کم عرصے کے لیے تھی۔ بعدازاں، دونوں بڑی طاقتوں میں ٹیرف پر’’جنگ بندی‘‘ ہوگئی۔ چین کی خواہش تھی کہ اِس’’جنگ بندی‘‘ میں توسیع ہوجائے، جو غالباً حاصل کرلی گئی۔ چین گزشتہ برسوں میں اپنی اندرونی معیشت کے پھیلائو پر توجّہ دے رہا ہے کہ ماضی میں اس کے ریئل اسٹیٹ معاملات مشکلات کا سبب بنے، جس سے ایکسپورٹ کم اور گروتھ ریٹ میں سُستی نوٹ کی گئی تھی۔

اس نے صرف دو سیکٹرز میں تیزی دِکھائی، ایک الیکٹرک کارز کی تیاری میں، جن کا وہ دنیا میں سب سے بڑا تیارکنندہ ہے، جب کہ دوسرا سیکٹر، سولر پینلز کی برآمدات ہے، جس سے اُس نے پوری دنیا بھر دی۔ پاکستان کے ہر شہر، گاؤں کی چھتوں پر اس کی کام یاب سولر برآمدی پالیسی کی مُہر ثبت ہے۔ اس سے فوسل فیولز پیدا کرنے والے ممالک کو بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ چین، امریکا سے دو سو بوئنگ طیارے خریدے گا، اس کے علاوہ 750طیاروں کے سودے پر بھی پیش رفت ہوئی، جب کہ کمپنی کے ذرائع نے اِن ڈیلز کی تصدیق کی۔ یہ تاجر صدر ٹرمپ کی بڑی کام یابی ہے۔

امریکا نے چین سے اربوں ڈالرز کا سویا بین خریدنے کے بھی معاہدے کیے کہ اِن دنوں امریکی کسانوں کو اِس کی کمی کا سامنا ہے۔ چین نے اِن معاہدات پر کہا کہ’’چین، امریکی تعلقات میں تجارت مرکزی نکتہ ہے۔‘‘ یاد رہے، ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں چین پر امریکی اکانومی کو نقصان پہنچانے کے الزامات لگاتے رہے، لیکن اب یہ آواز مدہم پڑ گئی ہے۔

یہ تبدیلی باہمی اہمیت کی حامل ہے اور دنیا کے لیے بھی خوش کُن، جس سے گلوبل معیشت میں استحکام آئے گا۔ جب امریکی صدر کا ایئر فورس وَن بیجنگ کے ہوائی اڈّے پر اُترا، تو ایلون مسک اور NVIDIA چپس بنانے والے، جنسن ہوانگ پہلے اشخاص تھے، جو طیارے سے باہر آئے۔ ماہرین کے نزدیک، یہ’’امریکا، چین ٹریڈ‘‘ کی علامت تھی۔

امریکا، دنیا کی سب سے بڑی مارکیٹ پر نظریں گاڑے ہوئے ہے اور اس کے کاروباری افراد چین کی مارکیٹس میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانا چاہتے ہیں۔ اِس ضمن میں صدر شی جن پنگ کا بھی کہنا ہے کہ چین، امریکا کو اپنی مارکیٹس تک رسائی دے گا۔ وہ دوسرے شعبوں جیسے زراعت، صحت اور سیّاحت کے شعبوں میں بھی باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیتے رہے ہیں۔

اِس سے واضح ہوگیا کہ چین، اپنے سب سے بڑے مقابل سے بھی اقتصادی پالیسی کے تحت تعاون جاری رکھے گا تاکہ معیشت مضبوط کی جاسکے۔ یہ یقیناً چھوٹے ممالک کے لیے ایک بہترین مثال ہے، جو اپنی توانائیاں تنازعات اور جنگوں پر ضائع کرتے ہیں، جس کا خمیازہ اُن کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

اگر عالمی تنازعات کی بات کریں، تو اِس ضمن میں تائیوان، چین کی ریڈ لائن ہے۔ صدر شی جن پنگ نے دو ٹوک الفاظ میں امریکا پر واضح کیا کہ وہ تائیوان کے معاملے میں مداخلت نہ کرے۔ چین اسے اپنا باغی حصّہ تصوّر کرتا ہے، جب کہ امریکا کے نزدیک تائیوان ایک خود مختار ریاست ہے۔ تائیوان دنیا میں اعلیٰ ترین سیمی کنڈکٹرز بنانے کا مرکز ہے، جو امریکا اور مغربی دنیا کے لیے ٹیکنالوجی میں پیش رفت کی بنیاد ہے۔ اِسی لیے امریکا کے سابقہ صدور ہمیشہ تائیوان کی حمایت کرتے رہے۔

تاہم، اِس معاملے پر کبھی جنگ کی نوبت نہیں آئی کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ دونوں کی تباہی کا راستہ ہے۔ یہ نہیں کہ جذبات میں آکر حملہ کردیا، یہ بند کردیا، وہ کھول دیا، اِدھر ڈرون بھیج دیئے، اُدھر میزائل برسا دیئے اور پھر دنیا کے سامنے مظلوم بن گئے۔ یہ عظیم قوموں یا سمجھ دار ریاستوں کے اطوار نہیں۔

لیڈرشپ وہ ہے، جو اپنے عوام کی بھلائی چاہے۔ وہ تنازعات کی بجائے مفاہمت کے راستے تلاش کرتی ہے۔ اُسے معلوم ہوتا ہے کہ اپنے عوام کی خوش حالی اور بہتری کے لیے کہاں لچک دِکھانی ہے۔ سوکھی لکڑی دباؤ سے ٹوٹ جاتی ہے، جب کہ لچک دار شاخ پر پھول کِھلتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے واپسی پر تائیوان کی قیادت کو صبر اور شانتی کا مشورہ دیا، گو اُسے امریکی ہتھیاروں کی فراہمی حسبِ معمول جاری ہے۔ چین اور امریکا کی قیادت کے درمیان یوکرین جنگ پر بھی بات ہوئی۔ صدر پیوٹن نے قومی دن کی پریڈ میں کہا کہ’’ اُن کے خیال میں یوکرین کا معاملہ جلد طے ہونے والا ہے۔‘‘ اس کے پس منظر میں کچھ عرصہ قبل ہونے والی ٹرمپ، پیوٹن ملاقات ہے، جو بظاہر تو ناکام رہی تھی، لیکن اس کے فیصلے اب سامنے آرہے ہیں۔

چین، ایران کا قریبی دوست اور اُس سے سب سے زیادہ تیل خریدنے والا مُلک ہے، لیکن چینی لیڈرشپ کو معلوم ہے کہ حملہ آور امریکا ہے، تو ایران سے تعاون میں کہاں تک جانا ہے۔ پھر وہ اسرائیل سے تعلقات کی وجہ سے بھی فوجی اقدامات سے گریز کر رہا ہے۔ ویسے بھی چین جنگوں کا مخالف ہے۔ ٹرمپ نے چین سے کہا کہ وہ ایران پر اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے اور آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد کرے۔

یہ اچھی بات ہے کہ جنگ کی دھمکیوں کی بجائے چین جیسے مُلک سے مدد لی جائے، تو دنیا سُکھ کا سانس لے سکے گی۔ چین کے عرب ممالک سے بہت اچھے تعلقات ہیں، اِس لیے بھی اس کی خواہش ہے کہ ہرمز کا معاملہ جلد حل ہو۔ چین کے صدر نے کہا کہ وہ ہرمز کھلوانے کے لیے جو مدد کرسکے، کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ بحری راستے عالمی برادری کے مطالبات کے مطابق کُھلے رہنے چاہیئں۔ چین نے جنگ کے آغاز ہی میں واضح کردیا تھا کہ وہ سیاسی طور پر تو ایران کی مدد کرے گا، لیکن اُسے ہتھیار نہیں دے گا۔ یاد رہے، غزہ پیس بورڈ پر بھی چین نے ٹرمپ کا ساتھ دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے چینی دورے کی داستان نامکمل رہے گی، اگر اُس شان دار استقبال کا ذکر نہ کیا جائے، جس کا اہتمام چینی صدر نے خود اُن کے لیے کیا۔ یہ ذاتی تعلقات کو بے تکّلفی کی سطح تک لے جانا ہے، جہاں معاملات خوش گوار انداز میں سمجھے اور حل کیے جاسکیں۔ یہ صدر شی جن پنگ کی’’ہوم ڈپلومیسی‘‘ کا خاصّہ ہے، جو وہ بڑے اور اہم رہنماؤں کے لیے بڑی احتیاط سے اختیار کرتے ہیں۔ چینی میڈیا کے مطابق، صدر ٹرمپ کا غیر معمولی اور انتہائی شان دار استقبال کیا گیا، جب کہ مغربی میڈیا نے اسے’’ pomp and pageantry‘‘ قراد دیا۔ صدر شی جن پنگ اُنہیں قدیم، فاربڈن سٹی(Forbidden City) لے کر گئے، جو پانچ سو سالہ چینی بادشاہوں کا مسکن رہی۔

وہاں عام آدمی تو کیا، بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں کو بھی نہیں لے جایا جاتا، مگر صدر شی جن پنگ نے خاص طور پر صدر ٹرمپ کو وہاں کی سیرکروائی۔ اِس دوران صدر ٹرمپ بے حد تجسس سے سوالات کرتے رہے، جن کے چینی صدر نے تفصیل سے جوابات دیئے۔ یہ سیر ایک واضح پیغام اور ڈپلومیٹک پیش رفت تھی، جس کے ذریعے دنیا، خاص طور پر امریکا کو بتانا مقصود تھا کہ چین کی تایخ اور اس کی تہذیب کتنی پرانی اور پُرشکوہ ہے۔

چین مغربی تصوّر کے مطابق صرف’’ نیشن اسٹیٹ‘‘ نہیں، بلکہ ایک شان دار تاریخی تسلسل کا امین ہے، جہاں کی شان وشوکت، علم و ہنر اور کلچر ایک حقیقت ہے۔ چین ہمیشہ سے دنیا میں اہم رہا اور موجودہ چین بھی ایسا ہی ہے۔ صدر شی جن پنگ کا ایک اور مقصد صدر ٹرمپ کے ساتھ ذاتی تعلقات کو فروغ دینا تھا، جو برابری کی سطح پر ہوں تاکہ اپنے قوم کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔ اِس موقعے پر صدر ٹرمپ نے صدر شی جن پنگ کو امریکا کے دورے کی دعوت دی، جو اُنہوں نے قبول کرلی اور اب ستمبر میں وہ امریکا جائیں گے۔