• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دوا سازی کے شعبے میں بائیوٹیکنالوجی کی اہمیت

بائیو ٹیکنالوجی، حالیہ برسوں کے دَوران ہونے والی حیرت انگیز پیش رفت کے بعد جدید فارماسیوٹکس میں ایک نہایت انقلابی قوّت کے طور پر اُبھری ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یہ جدید فارماسیوٹکس کا ایک ناگزیر جزو بن چُکی ہے۔ اس نے ادویہ کی دریافت سے لے کر اُن کی تیاری اور ترسیل تک، ہر مرحلے کو بہتر بنایا ہے۔

اِس ٹیکنالوجی نے ادویہ کی دریافت، تیاری، پیداوار اور ترسیل کا طریقۂ کار تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ بائیوٹیکنالوجی حیاتیات، کیمیا، جینیات اور انجینئرنگ کے اصول یک جا کرتے ہوئے مختلف امراض کے علاج کے ایسے جدید حل فراہم کرتی ہے، جن کا چند دہائیوں قبل تصوّر بھی ممکن نہیں تھا۔ بائیو ٹیکنالوجی سے مُراد انسانی فلاح کے لیے مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کی تیاری میں جان داروں، خلیات یا حیاتیاتی نظام کو استعمال کرنا ہے۔

فارماسیوٹکس میں اِس کا اطلاق حیاتیاتی عمل کے ذریعے ادویہ کی تیاری پر ہوتا ہے، خصوصاً وہ ادویہ جو پروٹینز، نیوکلیک ایسڈز یا زندہ خلیات سے حاصل کی جاتی ہیں، جیسے ویکسینز، مونوکلونل اینٹی باڈیز، ری کومبیننٹ پروٹینز، جین تھراپی اور خلیاتی علاج۔ روایتی ادویہ کے برعکس، جو عموماً کیمیائی طریقوں سے تیار کردہ چھوٹے سالمات(molecules) پر مشتمل ہوتی ہیں، بائیو فارماسیوٹیکلز بڑے اور پیچیدہ سالمات ہوتے ہیں، جو بیکٹیریا، خمیر یا ممالیہ خلیات جیسے جان دار نظاموں کے ذریعے تیار کیے جاتے ہیں اور یہی فرق بائیوٹیکنالوجی پر مبنی ادویہ کو بیماریوں کو جینیاتی اور سالماتی سطح پر نشانہ بنانے کی صلاحیت دیتا ہے، جس سے زیادہ درست اور مؤثر علاج ممکن ہو پاتا ہے۔

ماضی میں ادویہ کی دریافت ایک طویل، منہگا اور اکثر آزمائش و خطا( trialـandـerror )پر مبنی عمل تھا۔ بائیو ٹیکنالوجی نے جینیاتی انجینئرنگ، جینومکس، پروٹیومکس اور بائیوانفارمیٹکس جیسی جدید تیکنیکس کے ذریعے اِس عمل کو زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔ بائیو ٹیکنالوجی کی اہم خوبیوں میں سے ایک، ادویہ کی دریافت کے میدان میں انقلاب برپا کرنا ہے۔

جینومکس کے ذریعے سائنس دان کسی جان دار کے تمام جینز کا مطالعہ کرتے ہیں، جس سے بیماری پیدا کرنے والے جینز اور ممکنہ ادویاتی اہداف کی شناخت ہوتی ہے۔ پروٹیومکس پروٹینز کی ساخت اور افعال کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، جو حیاتیاتی عمل اور بیماریوں میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

بائیو انفارمیٹکس وسیع حیاتیاتی ڈیٹا کے تجزیے کے ذریعے نئے علاجی اہداف کی تلاش تیز کرتا ہے۔ بائیو ٹیکنالوجی کی اس ترقّی سے نہ صرف وقت اور لاگت میں نمایاں کمی آئی ہے، بلکہ کام یابی کے امکانات میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ مزید برآں، اس سے ہائی تھروپٹ اسکریننگ(High throughput screening) کے ذریعے ہزاروں مرکبات بیک وقت مخصوص حیاتیاتی اہداف کے خلاف جانچے جا سکتے ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ بائیوٹیکنالوجی نے ادویہ کی ایک نئی قسم، یعنی بائیوفارماسیوٹیکلز یا بائیولوجکس کی ترقّی کو ممکن بنایا ہے۔ ان میں انسولین، گروتھ ہارمونز، ویکسینز اور مونوکلونل اینٹی باڈیز شامل ہیں۔

اس کی ایک نمایاں مثال ری کومبیننٹ انسانی انسولین ہے، جو جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بیکٹیریا کے ذریعے تیار کی جاتی ہے اور جس نے جانوروں سے حاصل کردہ انسولین کی جگہ لے کر ذیابطیس کے مریضوں کے لیے زیادہ محفوظ علاج فراہم کیا ہے۔ مونوکلونل اینٹی باڈیز کینسر، خودکار مدافعتی بیماریوں اور متعدّی امراض کے علاج میں ایک بڑی پیش رفت ہیں۔

یہ اینٹی باڈیز مخصوص اہداف، مثلاً کینسر کے خلیات سے جڑنے کے لیے تیار کی جاتی ہیں، جس سے صحت مند خلیات کو کم نقصان پہنچتا ہے۔ نیز، ویکسینز کی تیاری میں بھی بائیوٹیکنالوجی نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ جدید ویکسینز، خصوصاً MRNA پر مبنی ویکسینز، جینیاتی تیکنیکس کے ذریعے تیزی سے تیار کی جا سکتی ہیں۔

بائیوٹیکنالوجی شخصی یا دقیق علاج(Precision Medicine) کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اِس طریقۂ علاج میں ہر مریض کی جینیاتی ساخت، طرزِ زندگی اور ماحول مدّ ِنظر رکھتے ہوئے علاج ترتیب دیا جاتا ہے۔ جینیاتی ٹیسٹنگ اور مالیکیولر تشخیص کے ذریعے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کوئی مریض کسی خاص دوا پر کس طرح ردّ ِعمل ظاہر کرے گا۔ یوں سب سے مؤثر دوا کے انتخاب میں مدد ملتی ہے اور ضمنی اثرات کم ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر، بعض کینسرز کے علاج مخصوص جینیاتی تبدیلیوں والے مریضوں کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ فارماکو جینومکس بائیوٹیکنالوجی کی ایک شاخ ہے، جو بتاتی ہے کہ جینز ادویہ کے ردّ ِعمل کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔ اِس علم کی مدد سے ایسی ادویہ تیار کی جا سکتی ہیں، جو مخصوص مریض گروہوں کے لیے زیادہ مؤثر ہوں۔

ادویہ کی ترسیل کے نظام میں ترقّی

بائیوٹیکنالوجی نے ادویہ کی ترسیل کے نظام کو بھی نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔ روایتی طریقوں میں حل پذیری، کم حیاتی دست یابی (bioavailability) اور ہدفی خصوصیت کی کمی جیسے مسائل ہوتے ہیں، جب کہ بائیوٹیکنالوجی ان مسائل کے جدید حل پیش کرتی ہے۔ نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے نینو ذرّات استعمال کر کے ادویہ کو براہِ راست ہدفی مقام تک پہنچایا جاتا ہے، جس سے نہ صرف ادویہ کی خوراک کم درکار ہوتی ہے بلکہ ضمنی اثرات بھی کم ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر، کیموتھراپی کی ادویہ براہِ راست کینسر کے خلیات تک پہنچائی جا سکتی ہیں۔ اِسی طرح، کنٹرولڈ ریلیز سسٹمز کے ذریعے ادویہ آہستہ آہستہ جاری کی جاتی ہیں، جس سے علاجی سطح برقرار رہتی ہے اور مریض کی بار بار دوا لینے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے۔

اینٹی بائیوٹک مزاحمت

بائیو ٹیکنالوجی نے متعدّی امراض کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جدید تشخیصی آلات، جیسے PCR، بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کی تیز اور درست شناخت ممکن بناتے ہیں۔ پھر ویکسینز کی دریافت نے دنیا بَھر میں بیماریوں کا بوجھ کم کیا ہے، جب کہ اینٹی وائرل اور اینٹی بیکٹیریل ادویہ کی تیاری میں بھی بائیوٹیکنالوجی اہم ہے۔

بائیوٹیکنالوجی اینٹی بائیوٹک مزاحمت جیسے بڑھتے عالمی مسئلے کے حل میں بھی مدد فراہم کرتی ہے، کیوں کہ یہ مزاحمت کے جینیاتی اسباب پر تحقیق کے بعد نئی ادویہ کی تیاری میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

ادویہ کی تیاری میں بہتری

بائیوٹیکنالوجی نے فارماسیوٹیکل پیداوار کو زیادہ مؤثر اور ماحول دوست بنایا ہے۔ ری کومبیننٹ ڈی این اے ٹیکنالوجی کے ذریعے مخصوص جینز کو خلیات میں داخل کر کے مطلوبہ پروٹین تیار کیے جاتے ہیں۔ بائیو ری ایکٹرز اِن خلیات کو بہترین حالات میں بڑھاتے ہیں، جس سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ طریقۂ کار نہ صرف پیداوار کا وقت اور لاگت کم کرتے ہیں، بلکہ عالمی سطح پر ادویہ کی بڑھتی طلب بھی پوری کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

جین اور خلیاتی علاج

جین اور خلیاتی علاج بائیوٹیکنالوجی کے سب سے اُمید افزا میدانوں میں سے ہے۔ جین تھراپی کے ذریعے مریض کے خلیات میں جینیاتی تبدیلی لاکر بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے، جب کہ خلیاتی علاج میں زندہ خلیات استعمال کر کے خراب بافتوں کی مرمّت کی جاتی ہے۔ اسٹیم سیل تھراپی اس کی ایک اہم مثال ہے، جو پارکنسن جیسے امراض اور ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہے۔ یہ طریقے بیماری کا اصل سبب ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اِس امر میں کوئی شک نہیں کہ بائیوٹیکنالوجی نے فارماسیوٹیکل صنعت اور عالمی معیشت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس نے نئی منڈیاں پیدا کیں، تحقیق و ترقّی کو فروغ دیا اور روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ کینسر، امیونولوجی اور نایاب بیماریوں کے شعبوں میں اس کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اِس طرح کہا جا سکتا ہے کہ بائیوٹیکنالوجی کا مستقبل نہایت روشن ہے۔ نیز، مصنوعی ذہانت، CRISPR جین ایڈیٹنگ اور سنتھیٹک بائیولوجی جیسی نئی ٹیکنالوجیز ادویہ کی تیاری کو مزید بہتر بنائیں گی۔

اگرچہ بائیوٹیکنالوجی کے بے شمار فوائد ہیں، مگر اس سے کچھ اخلاقی اور قانونی مسائل بھی جنم لیتے ہیں، جیسے جینیاتی تبدیلی، ڈیٹا کی رازداری اور علاج تک مساوی رسائی، لہٰذا اِس ضمن میں سخت قوانین اور اخلاقی رہنما اصول وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ٹیکنالوجی کا محفوظ اور ذمّے دارانہ استعمال یقینی بنایا جا سکے۔