سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) کراچی میں ماہ مئی میں ہونے والی وارداتوں کے اعداد و شمار جاری کردیے۔
کراچی میں گزشتہ ماہ ساڑھے4 ہزار سے زائد وارداتیں ہوئیں، جن میں شہریوں سے گاڑیاں ، موٹر سائیکلیں اور موبائل فون چھین لیے گئے۔
رواں برس اب تک مجموعی طور پر 24 ہزار سے زائد وارداتیں ہوچکی ہیں۔
سی پی ایل سی کے ڈیٹا کے مطابق مئی میں 4 ہزار 682 وارداتیں ہوئیں، جن میں گاڑیاں چھیننے کی 20 اور چوری ہونے کی 106 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔
شہر کے مختلف علاقوں سے 445 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں جبکہ چوری ہونے کے 2 ہزار 240 واقعات پیش آئے، اسی طرح شہریوں سے 1 ہزار 860 موبائل فون چھینے گئے۔
بینک ڈکیتی کی ایک واردات ہوئی، اغوا برائے تاوان کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جبکہ بھتہ خوری کے 10 مقدمات بھی درج کیے گئے۔
اس سال کا مجموعی جائزہ پیش کریں تو سی پی ایل سی کے ڈیٹا کے مطابق رواں برس کے پہلے مہینے جنوری میں 5 ہزار 125 وارداتیں، فروری میں 4 ہزار 608، مارچ میں 4 ہزار 896، اپریل میں 4 ہزار 959 جبکہ مئی میں 4 ہزار 682 وارداتیں ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق سب سے زیادہ وارداتیں جنوری اور اپریل میں ہوئیں ان وارداتوں کا اگر گزشتہ برس سے موازنہ کیا جائے تو سال 2025ء کے ابتدائی 5 ماہ میں 27 ہزار سے زائد وارداتیں ہوئی تھیں جبکہ رواں برس یہ فیگر 24 ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔