• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغان شہریوں کو پاکستانی پاسپورٹ کا اجراء FIA کی تفتیش جاری، اہم انکشافات

کراچی (ثاقب صغیر )افغان شہریوں کو پاکستانی پاسپورٹ کے اجراء کے معاملے پر ایف آئی اے کی تفتیش جاری ہے، اہم انکشافات سامنے آگئے،53پاسپورٹ فاروق سیال، اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے جبکہ باقی 19پاسپورٹ محمد باقر رضا (نائٹ شفٹ انچارج) نے پراسیس کئے۔حکام کے مطابق مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ ایک منظم مجرمانہ نیٹ ورک جس میں سہولت کار، ایجنٹس، فرضی شناخت رکھنے والے افراد اور محکمہ پاسپورٹ اور نادرا کے سرکاری اہلکار شامل ہیں غیر قانونی طور پر افغان شہریوں کو پاکستانی شہری ظاہر کر کے پاسپورٹ جاری کرانے میں ملوث ہے۔ یہ نیٹ ورک جعلی، بوگس، ردوبدل شدہ اور دھوکہ دہی پر مبنی دستاویزات مثلاً فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (FRC)، کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ اور دیگر شناختی دستاویزات تیار اور استعمال کرتا تھا تاکہ غیر ملکی شہریوں کو پاکستانی شہری ظاہر کیا جا سکے اور انہیں پاسپورٹ حاصل کرنے میں مدد دی جا سکے۔معلومات کے مطابق کل 72 افغان شہریوں کو کراچی کے پاسپورٹ آفس عوامی مرکز برانچ سے پاکستانی پاسپورٹ جاری کئے گئے۔ ان میں سے 53 پاسپورٹ فاروق سیال، اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے پراسیس کئے جبکہ باقی 19 پاسپورٹ محمد باقر رضا (نائٹ شفٹ انچارج) نے پراسیس کئے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ پاسپورٹ مقررہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور درخواست دہندگان کی شناخت و شہریت سے متعلق اہم حقائق کو چھپاتے ہوئے جاری کیے گئے۔اطلاع کی بنیاد پر ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کراچی میں انکوائری نمبر 13/2026 درج کی گئی۔ بعد ازاں تفتیشی افسر اور اسٹاف نے کراچی کے ریجنل پاسپورٹ آفس (صدر) سے تمام 72 درخواست فارم اور متعلقہ ریکارڈ حاصل کر کے موقع پر ہی قبضے میں لے لیا۔ ابتدائی جانچ سے ان درخواستوں میں متعدد مشکوک پہلو، منظم بے ضابطگیاں اور واضح ردوبدل سامنے آیا جو کسی ایک واقعہ کے بجائے ایک منظم مجرمانہ منصوبے کی نشاندہی کرتا ہے۔جانچ سے یہ بات سامنے آئی کہ کئی پاسپورٹ جعلی یا مشتبہ دستاویزات کی بنیاد پر جاری کیے گئے۔ متعدد کیسز میں فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس اور دیگر دستاویزات میں تضادات، بے قاعدگیاں اور مشکوک علامات پائی گئیں جن سے ان کی اصل حیثیت پر سنگین شکوک پیدا ہوئے۔ مزید یہ کہ کئی درخواستوں میں تصاویر میں ردوبدل یا ٹیمپرنگ کے شواہد بھی ملے جس کا مقصد اصل شناخت کو چھپانا تھا۔اسی طرح مختلف درخواستوں میں ایک جیسے اور بار بار استعمال ہونے والے رابطہ نمبرز پائے گئے جو بظاہر غیر متعلقہ افراد کے نام پر درج تھے۔ یہ ایک واضح منظم پیٹرن ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان درخواستوں کے پیچھے مشترکہ ایجنٹس یا سہولت کار سرگرم تھے، اور ان کے ساتھ پاسپورٹ اور نادرا کے اہلکاروں کی ملی بھگت شامل تھی۔

اہم خبریں سے مزید