انصار عباسی
اسلام آباد :پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر سنجیدہ خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ملک میں موجود ’’ہائبرڈ نظام‘‘ 2027ء کے اوائل میں ہونے والے سینیٹ انتخابات کے بعد مزید مستحکم اور مضبوط ہو سکتا ہے، کیونکہ توقع ہے کہ حکمران اتحاد ایوانِ بالا میں اپنی پوزیشن نمایاں طور پر بہتر بنا لے گا۔ پی ٹی آئی کے سینئر ذرائع کے مطابق، پارٹی کے اندر یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ آئندہ سینیٹ انتخابات کے بعد حکمران اتحاد، خصوصاً نون لیگ اور پیپلز پارٹی ایوان میں زیادہ مضبوط حیثیت کے ساتھ ابھرے گا۔ پارٹی کے کئی حلقوں کو خدشہ ہے کہ ایسی صورتحال حکمران اتحاد اور اس کے حامیوں کو وسیع آئینی اور قانونی تبدیلیاں لانے کیلئے درکار پارلیمانی قوت فراہم کر سکتی ہے۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ فروری 2024ء کے عام انتخابات کے تقریباً ڈھائی سال بعد بھی پی ٹی آئی اپنے لیے سیاسی میدان کو پھیلانے میں ناکام رہی ہے، اور بدستور سیاسی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ اسی دوران تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات میں بہتری کے آثار بھی نظر نہیں آ رہے، جس سے مستقبل کے سیاسی امکانات پر خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق، پارٹی قیادت کے ایک بڑے حصے کا خیال ہے کہ اگر سینیٹ انتخابات سے قبل پی ٹی آئی اپنی سیاسی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی نہیں لاتی تو 2027ء کے بعد اسے مزید محدود سیاسی ماحول کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں مضبوط حکمران اتحاد پی ٹی آئی کی قانون سازی اور آئینی معاملات پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ وہ (طاقتور حلقے) نظام کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرنے کیلئے کھلا اختیار حاصل کر لیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پارٹی کے سینئر رہنما نجی طور پر سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاسی تعطل کو توڑنے کیلئے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں کے ساتھ بامعنی رابطہ ناگزیر ہو چکا ہے، تاہم کسی بھی بڑی پالیسی تبدیلی کیلئے بانی چیئرمین عمران خان کی منظوری ضروری ہوگی، جو اس وقت جیل میں قید ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، کئی رہنماؤں کا خیال ہے کہ جب تک عمران خان مذاکرات اور سیاسی مفاہمت پر مبنی حکمتِ عملی کی حمایت نہیں کرتے، اس وقت تک سینیٹ انتخابات سے قبل موجودہ حالات بدلنا مشکل ہوگا۔ انہیں خدشہ ہے کہ بصورتِ دیگر پارٹی ایک ایسے سیاسی نظام میں مزید محدود ہو جائے گی، جسے وہ پہلے ہی اپنے خلاف سمجھتی ہے۔ سینیٹرز کی مدت 6؍ سال ہوتی ہے اور ہر 3؍ سال بعد نصف ارکان ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ آئندہ سینیٹ انتخابات مارچ 2027ء کے قریب متوقع ہیں، جب تقریباً نصف سینیٹرز اپنی مدت مکمل کریں گے۔ چونکہ سینیٹ کی نمائندگی بڑی حد تک صوبائی اسمبلیوں کی ساخت کی عکاسی کرتی ہے، لہٰذا موجودہ پارلیمانی صورتحال سے حکمران اتحاد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔