السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
چہاردانگِ عالم چرچا
بڑی بات ہے کہ’’جنگ، سنڈے میگزین‘‘ کا چہاردانگِ عالم چرچا ہے۔ میگزین کے سرِورق پر معصوم سی ماڈل کی تصویر میں بس ماسک کی کمی محسوس ہوئی۔ ’’فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے‘‘، منیر احمد خلیلی کی علمی وتحقیقی تحریر کا جواب نہ تھا۔ لیکن خُود مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، نیز، عرب ریاستوں کو اِس بات کا ادراک کیوں نہیں؟میرے خیال میں تو یہ عرب ممالک غیروں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔
رؤف ظفر جدید میزائلز تک کے سفر کی کہانی سُنا رہے تھے کہ ٹیپو سلطان نے بھی راکٹ سازی پرتوجّہ دی۔ بلاشبہ، یہ ہمارے اکابرین کی دانش مندی ہی کا ثبوت ہے۔ رحمان فارس ڈاکٹر امجد ثاقب سے ملاقات کا شان داراحوال لائے۔ فوزیہ حنیف ’’بداعمالیوں کے تاریک گڑھوں‘‘ کا ذکر کر رہی تھیں۔ اختر سعیدی مختلف کتابوں پرایک بہترین ایکسپرٹ کی طرح تبصرہ فرماتے ہیں۔
شہزادہ بشیر کے خطوط پر آپ کا ’’مختصر نویسی‘‘ کا کہنا تو ایسا ہی ہے، جیسے ڈاکٹر مریض کو 4-3اقسام کی دوا دے دیتے ہیں کہ کوئی تو اثر کرے گی، یہ جانے بغیر کے کیا کیا ’’سائیڈ ایفکٹس‘‘ ہوسکتے ہیں۔ ہر ہفتے ہی کوئی نہ کوئی لکھاری آپ کو زِچ کرنے کے لیے کوئی اگڑم بگڑم تحریر لکھ دیتا ہے، اب یہ آپ کی ذرہ نوازی ہی ہےکہ’’جاگدے رہنا‘‘ کہہ کر ٹرخا دیتی ہیں۔ (شمائلہ نیاز، دائرہ دین پناہ، تحصیل کوٹ ادّو، ضلع مظفر گڑھ)
ج:ہر وہ لفظ، جو تمھیں اِملا کے اعتبار سے یا ویسے ہی بولنے، پڑھنے میں اچھا لگے، ضروری نہیں کہ خط میں کہیں بھی ٹانک دو۔ یہ’’ چہاردانگِ عالم‘‘ میں کون سے ’’سنڈے میگزین‘‘ کا چرچا ہے بھئی، یہاں سروائیول کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔
وہ کیا ہے کہ ؎ نہ چھیڑ اے نکہت بادِ بہاری راہ لگ اپنی… تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں۔ اور یہ ڈاکٹر، مریض والی فلاسفی بھی قسمےککھ پلّے نہیں پڑی۔ وہ جو اکثر میمز کے ساتھ ایک کلپ لگایا جاتا ہے ناں’’کہنا کیا چاہتے ہو…؟؟‘‘ تو آج کل زیادہ ترخطوط پڑھ کے ہمارا دل بھی بس اِسی سوال کو مچلتا ہے۔
وجود کا ایک حصّہ...
سال میں ایک دفعہ حاضری کی روایت برقرار رکھتے ہوئے محفل میں حاضر ہوں۔ جب تک یہ خط شائع ہوگا، یقیناً سال کا وسط ہوگا، شاید جون، جولائی کا مہینہ اور پھر سال کے اختتام پذیر ہونے کا سفر تیزی سے طے ہونے لگے گا، جیسا کہ ’’سورۃ العصر‘‘ میں زمانے کی قسم کھا کر بتایا گیا ہے کہ ’’انسان خسارے میں ہے‘‘۔ میگزین کا سائز چھوٹا، مگر معیار بلند ہوگیا ہے، مَیں بھی اپنے پسندیدہ سلسلے، جن کا کئی بار ذکر کر چُکی ہوں، بے حد ذوق و شوق سے پڑھتی ہوں۔
خطوط میں راجا صاحب گدی نشین ہیں اور میلز میں قرات نقوی۔ رونق افروز کو پہلے مَیں بھی خاتون ہی سمجھتی تھی، نرجس مختار دل چھوٹا نہ کریں، ہم اُنہیں یاد رکھتے ہیں۔ نواب زادہ صاحب کی وجہ سے محفل میں رونق لگی رہتی ہے۔ اسماء دمڑ ہمیشہ کی طرح آئیں اور چھا گئیں۔ سارہ صاحبہ کشمیر کی وادیوں ہی میں کہیں گم ہوگئی ہیں۔ شائستہ اظہر کو آپ کی محفل میں تو پڑھتی تھی، مگر اب نہیں۔
عرفان جاوید کو تو پڑھتے اور سر دُھنتے ہیں، جب کہ رحمان فارس کا نام آپ ہی کے جریدے میں پہلی دفعہ سُنا اور پڑھا، ان دونوں حضرات کے بارے میں کیا کہوں، الفاظ تو جیسے اِن کے غلام ہیں، ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں۔ جس انداز سے یہ معروف شخصیات کےخاکے پیش کررہے ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے، جیسے وہ ہمارے سامنےموجود ہیں۔ اتنا تو شاید وہ لوگ خود بھی اپنے بارے میں نہ جانتے ہوں۔ ویسے حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے مُلک میں بھی کیسی نابغۂ روزگار ہستیاں موجود ہیں۔
موبائل کی پُرفریب دنیا، عمل سے زندگی بنتی ہے اور ناقابل فراموش میں شوکت محمود کا قصّہ سب دل کو بہت ہی بھائے۔ اب آجاتی ہوں اپنے پسندیدہ ترین موضوع، ماڑی انڈس پر، جہاں پورا بچپن، لڑکپن گزرا اورمَیں سنڈے میگزین میں اس حوالے سے لکھ بھی چُکی ہوں۔ پچھلے دِنوں منصور آفاق نے بھی اپنے کسی کالم میں ماڑی کے انڈس اور پرانی ماڑی میں ایک نمک کے غاز کا ذکرکیا، تو جیسے یادوں کی بارات آگئی، پھر محمد ریحان نے کالا باغ ڈیم سے متعلق باتصویر مضمون لکھا، کالا باغ اور ماڑی انڈس کوملانےوالا پُل اورنواب امیرمحمدخان کادریا کنارے آباد مہمان خانہ ہمارے گھر سے نظر آتا تھا۔
مضمون نگار نے ریل کی چھوٹی پٹریوں تک کا، جن پر چھوٹی ٹرین بنّوں تک چلتی تھی، ذکر کیا۔ ہم کندھوں پر بیگ لٹکائے یہی پٹریاں عبور کرکے اپنی مادرِعلمی تک جاتے تھے۔ ٹرین سے میرا عشق بچپن سے چلا آرہاہے، انجن کی وسل، ٹرین کی دھمک، پٹریوں کا شور… آج شادی کو تیس برس سے زیادہ عرصہ ہوگیا، مگر اب بھی ایسا لگتا ہے، وجود کا ایک حصّہ دریائے سندھ کے پانی، پہاڑیوں، پُل، ٹرین کی پٹریوں، پیپل کے درخت (جو گھر کے صحن میں تھا) اور دریائے سندھ کے کنارے آباد اُسی کالونی ہی میں کہیں رہ گیا۔ (مصباح طیّب، سرگودھا)
ج: ’’بے شک، انسان خسارے میں ہے‘‘۔ اور یہ بھی ہم انسانوں کی سرشت میں شامل ہے کہ ہم حال کی نسبت ماضی پسند، ماضی پرست رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔
قرأت کا نام بھی...
’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے انور شعور سے متعلق بہت عُمدہ، معلومات اور دل چسپی سے لب ریز خاکہ تحریر کیا، اُن کی رُباعیاں تو روزانہ ’’جنگ‘‘ میں پڑھتے ہی ہیں، اب ان کی ذاتی زندگی سے متعلق پڑھ کرازحد خوشی ہوئی۔ ’’ناقابلِ اشاعت کی لسٹ‘‘ بھی پڑھ ڈالی، جس میں شری مُرلی بھی موجود تھے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں اس مرتبہ چار عدد غزلیں پڑھنے کو ملیں، جبیں نازاں کی غزل بہت اچھی لگی، جو انہوں نے نئی دہلی، بھارت سے ہمارے لیے بھیجی، نئی کتابوں پر تبصرے کی ڈیوٹی دو حضرات نے نبھائی، حالاں کہ کتابیں تو زیادہ نہیں تھیں، ویسے دونوں ہی نے عُمدہ تبصرے کیے۔
’’آپ کا صفحہ‘‘ میں پھر راجا نے بازی مار لی، مبارک ہو۔ ’’گوشۂ برقی خطوط‘‘ میں آپ نے محمد فیصل شہزاد کو جواب دیا کہ ’’اتوار کو بچّوں کے لیے ایک بڑا صفحہ شائع ہوتا ہے۔‘‘ تو کہاں شائع ہوتا ہے۔ آج بھی موجود نہیں تھا۔ اگلے جریدے میں منور مرزا ’’عالمی اُفق‘‘ کے تحت موجود پائے گئے۔ چندا ماموں کا بتا رہے تھے، ہمیشہ کی طرح اچھی معلومات فراہم کیں۔
’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے راحت فتح علی خان پر کیا شان دار خاکہ آرائی کی۔ کافی عرصے بعد ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ بھی پڑھنے کوملا۔ آپ نے قرأت نقوی کا کلام بھی ناقابلِ اشاعت کی لسٹ میں شامل کردیا، آخر کیوں؟ قرأت نے’’امریکا کے موسم‘‘ پر تو بہت عُمدہ مضمون تحریر کیا تھا۔ راجا کے خطوط مسلسل پڑھنے کو مل رہے ہیں اور واقعی بہترین خطوط ہوتے ہیں۔(رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
ج: ’’بچّوں کا صفحہ‘‘ پندرہ روز میں ایک بار شائع ہورہا ہے۔ اگر اشتہارات زیادہ اور صفحات کی تعداد کم ہو تو کبھی کبھار ڈراپ بھی کر دیا جاتا ہے۔ تسلی نہیں ہورہی، تونیٹ ایڈیشن کے آرکائیوز سے چیک کرلیں۔ قرأت کی تحریر بلاشبہ اچھی تھی، لیکن متعدّد بار عرض کیا ہے کہ شعرو شاعری ہر ایک کے بس کا روگ نہیں اور قرأت بھی نثر ٹھیک لکھتی ہیں، لیکن وہ شاعرہ ہرگز نہیں ہیں۔ اُن کا کلام مستند شاعر سے چیک کروایا گیا اور اُنہوں نے ہی اُسے ری جیکٹ کیا، ہم نے نہیں کہ ہم خُود بھی شاعری کے اوزان، رموز و اقاف وغیرہ سے نابلد ہیں۔
بے خطا ہی نہ دھر لیا جائے
شمارہ ’’خوش بیاں، خوش رنگ، خوش خُو، خوش نظر، خوش دید ہے…‘‘ عبارت کے ساتھ مِلا۔ پیارے میگزین کو دوپیاری ماڈلز نے چار چارچاند لگا رکھے تھے، مگر ہم کچھ نہیں کہتےکہ اِک لاکٹ کی بات ہی پرتوبہ، توبہ ہورہی ہے، تواب اگر خدانخواستہ ہمارے منہ سے بکھری زلفوں پرکوئی بات نکل گئی تو نہ جانے کہاں تک جائے گی۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کی تحریر شائستہ اظہر نے لکھی اور بےمثال لکھی، ہم پر اعتراضاتِ بجا یا بےجا اُٹھانے، الزامات دھرنے والوں سے التماس ہے کہ ہمارا جواب بھی شائستہ کی تحریر ہی میں پڑھ لیں۔
وہ اُنھوں نے کیا لکھا کہ؎ بے خطا ہی نہ دھر لیا جائے۔ بلقیس متین کی تحریر بہترین تھی۔ گوپال نگر، لاہور سے نظیر فاطمہ بھی بعنوانِ ’’ہنر‘‘بڑی پیاری تحریر لائیں۔ ایک ’’شمشاد‘‘کو تو ہم نے گوجرانوالہ کی سڑکوں پر بھی رکشہ چلاتے دیکھا ہے۔ ویسے گیس وبجلی کے بلز کا یہی عالم رہا تو زندگی کی گاڑی دھکیلنے کے لیے کئی شمشادوں کو میدانِ عمل میں آنا ہی پڑے گا۔
طلعت نفیس کی تحریر ’’فرض‘‘ بھی کمال تھی۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی محفل خُوب سجی سنوری دکھائی دی، ہمارے سوا کئی ستارے جگمگا رہے تھے۔ کافی عرصے بعد خیرپور میرس سے نرجس مختار شاملِ محفل ہوئیں، تو پیارے صوبے بلوچستان سے اسماء خان دمڑ بھی اپنی پیاری، میٹھی میٹھی باتوں، شیرینی و شگفتہ بیانی کے ساتھ موجود پائی گئیں۔ (محمّد ساغر خان ساغر، نزد مکی مسجد، راہوالی، گوجرانوالہ)
ج: ایویں ای، بےخطا کوئی کم ہی دھرا جاتا ہے۔ اندرخانےکوئی نہ کوئی فتور پل ہی رہا ہوتا ہے، جو تعذیر کی نوبت آتی ہے۔
سونے پر سہاگے کے مثل
تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کو زیبا ہیں کہ اُس کی دی ہوئی توفیق ہی سے انسان اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتا اور کارہائے نمایاں انجام دے کر قابلِ تعریف کہلاتا ہے۔ جنگ، سنڈے میگزین میں شایع ہونے والی دینی و دنیاوی، سیاسی و سماجی، مقامی وعالمی، تاریخی و جغرافیائی، علمی و ادبی تخلیقات کے تمام تر تخلیق کار قابلِ تعریف ہیں۔ ہم اُن پرحاشیہ آرائی کی بجائے اُن کی تخلیقی کاوشوں کے ضمن میں فرداً فرداً سلام پیش کرتے ہیں۔
سب کے لیے دلی دُعا ہےکہ؎ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ خصوصاً مدیرہ کی صلاحیتوں کے اعتراف میں کسی کنجوسی کی گنجائش نہیں کہ اُنہوں نے نہ صرف ’’اسٹائل‘‘ کے صفحات کو علمی وادبی بنا ڈالا، بلکہ روایتی خطوط نویسی کے مُردے میں بھی جان ڈال کر زندۂ جاوید کردیا۔علاوہ ازیں، اب رحمان فارس کا اضافہ تو سونے پر سہاگے کے مثل ہے۔
موصوف نےجریدے کے توسّط سے اُردو ادب کوخواص سےعوام تک پہنچانے کاجو کارنامہ انجام دیا ہے،وہ یقیناً قابلِ صد ستائش، کئی توپوں کی سلامی کا متقاضی ہے۔ اللہ رب العزت رحمان فارس کو مثلِ ’’پارس‘‘ کردے۔ مَیں اپنی ایک غزل اُن کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔ نیز، میرے دلی جذبات و احساسات اور خیرسگالی کا پیغام سنڈے میگزین کے تمام لکھاریوں تک بھی پہنچا دیں۔ (امین شیدائی، اورنگی ٹاؤن، کراچی)
ج: آپ کےگراں قدر خیالات، جذبات سب تک بحفاظت پہنچ گئے ہیں۔
ادارے کی ایک بہترین کاوش
اللہ سے دُعاگو ہوں کہ جنگ، سنڈے میگزین کی اشاعت سدا یوں ہی جاری رہے۔ اللہ اِس کومزید ترقی وکام رانی عطا فرمائے۔ بلاشبہ، یہ جریدہ ادارے کی ایک بہترین کاوش ہے، خصوصاً قارئین کے خطوط، پیغامات کا سلسلہ تو اپنی مثال آپ ہے، جب کہ ’’اِس ہفتے کی چٹھی‘‘ کا سلسلہ بھی اپنی جگہ منفرد ہے۔ نیز، معلوماتی، تفریحی مواد کا بھی جواب نہیں۔ (شری مرلی چند گوپی چند گوگھلیہ، شکارپور)
فی امان اللہ
اس بار نیٹ پر ’’جنگ میگزین‘‘ سرچ کیا، تو دیکھا تو میرا افسانہ، کتاب پرتبصرہ اورخط، ’’اس ہفتے کی چٹھی‘‘ کی صُورت موجودتھا،توفوراً سے پیش تر جاکر میگزین اور اخبارِ جہاں خرید لایا۔ کچھ عرصے سے جنگ اخبار کے ساتھ اخبارِ جہاں بھی لازم و ملزوم ہوگیا ہے۔ پہلے اخبارِ جہاں لائبریری سے ایشو کروا کے پڑھ لیتا تھا، اب خُود لینا شروع کردیا ہے۔ سوشل میڈیا کے موضوع کے مثبت استعمال کے موضوع پر ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی کی تحریر کی پہلی قسط انتہائی مفید رہی۔
اب یہ ہر شخص کا انفرادی کردار ہے کہ وہ اس جدید پلیٹ فارم کا استعمال کیسے کرتاہے۔ منیراحمد خلیلی ’’فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے‘‘ کے عنوان سے اہم موضوع پر تحریر لائے۔ تاریخی موضوعات خصوصاً مشرقِ وسطیٰ، فلسطین اور فرنگ، یہود کی سازشوں پر ان کا قلم خُوب چلتا ہے۔ منور مرزا مشرقِ وسطیٰ میں عالمی سازشوں کا کھیل آشکار کر رہے تھے۔ جنگ بندی خوش آئند ہے، اس میں توسیع اور مستقل امن ہونا چاہیے، اس لیے کہ ہزاروں، لاکھوں بے گناہ لوگوں کو مارنے کے بعد بالآخر فریقین کو امن ہی کی طرف آنا ہے۔
ایک بات ہے، معاملات انفرادی ہوں یا اجتماعی، بدترین انسان وہ ہے، جسے حق اور سچ کاپتا ہو اور وہ پھر بھی جھوٹ کے ساتھ کھڑا رہے۔ رؤف ظفر کی تحریر ’’بارود بھرے بانسوں سے جدید ترین میزائل تک کا سفر‘‘ خاصی معلوماتی تھی۔ ڈاکٹرامجد ثاقب جیسی بےلوث شخصیت سے متعلق رحمان فارس نے عُمدہ لکھا۔ موسمِ بہار کی آمد پر ’’جلوے بکھرگئےہیں۔ یہ کس خوش جمال کے…‘‘ کے عنوان سے شائستہ اظہر کی تحریر رنگا رنگ مصرعوں، جملوں سے آراستہ تھی، تو ماڈل رنگین پیراہن سے۔
ڈاکٹر احمد حسن رانجھا کی سنڈے میگزین کے لیے آخری تحریر، اُن کی عظیم مادرِعلمی کی حسین یادوں سے لب ریز تھی۔ رانجھا صاحب کی رحلت کی خبر ہمیں بھی سوشل میڈیا ہی سےملی۔ سچ پوچھیں، تو خبر دیکھتے ہی جنگ میگزین میں چَھپے اُن کے متعدد افسانے ذہن میں گھوم گئے۔ ایک بہت عمدہ لکھاری اچانک ہی بچھڑ گیا، آپ نے انٹرو میں بہترین خراجِ عقیدت پیش کیا۔
سو فی صد سچ ہے کہ ؎ یوں بنی ہیں رگیں جسم کی… ایک نس ٹس سے مس اور بس۔ میرے افسانے کی اشاعت کا شکریہ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ڈاکٹر اطہر رانا کے مضامین کی فہرست پڑھ کر خاصے محظوظ ہوئے۔ میرے خیال میں صحت کے موضوع پر قارئین کو سادہ اور آسان الفاظ میں آگہی فراہم کی جانی چاہیے۔ ڈاکٹرز کی تحریریں مشکل، گنجلک الفاظ سے آزاد ہوں، تب ہی مقصد پورا ہوتا ہے۔ اور برقی خطوط میں ثناء توفیق کی میل کے جواب میں آپ نے جو تجاویز لکھیں، پڑھ کر بے اختیار ہنسی آگئی۔ (رانا محمد شاہد ،گلستان کالونی، بورے والا)
* ڈاکٹر محمّد زوہیب حنیف کا مضمون ’’مطالعۂ کتبِ تاریخِ اسلام اور غیرمسلموں سے مخاصمانہ رویہ‘‘پڑھا۔ بحیثیتِ مجموعی اچھی کوشش لگی، لیکن اس میں ذمی اورجزیہ کے الفاظ اس طرح استعمال ہوئے کہ خُود مجھے (مَیں نے اسلامک اسٹڈیز میں ماسٹرز کر رکھاہے) ایسےلگا، جیسے ’’ذمی‘‘ کے معنی ’’اچھوت‘‘ اور ’’جزیہ‘‘ کے معنی ’’غنڈہ ٹیکس‘‘ ہوں۔
سو، عام قاری اور آج کے غیرمسلموں کے لیے اِن کی وضاحت بہت ضروری ہے۔ ذمی کا مطلب ذمّے داری ہے، یعنی مسلمان مُلکوں میں رہنے والے غیر مسلموں کی جان ومال اور اُن کے حقوق کی ذمّےدارحکومت ہی ہوتی تھی۔ اور جزیہ غیرمسلموں پر عائد ہونے والا ایک ایسا ٹیکس تھا، جیسے کہ صاحبِ نصاب مسلمانوں پر زکوٰۃ، خمس، عشر، فطرہ وغیرہ ہیں۔
ویسےتو آج کل حکومت سب ہی سےانکم ٹیکسز، سیلز ٹیکسز (بشمول بجلی، گیس، پانی، کھانے پینے کی تمام اشیاء پر) سُپر ٹیکسز، پراپرٹی اور ود ہولڈنگ ٹیکسز وغیرہ وصول کرتی ہے، جس کےسبب اشیائےضروریہ کی قیمتیں آسمان پر رہتی ہیں، چاہے عوام غربت کی وجہ سے خُودکشیاں کریں یا ڈاکے ڈالیں، حکومت کواس سےکوئی غرض نہیں۔
خیر، ذمی کے حقوق کے حوالے سے علامہ اقبال کی نظم ’’محاصرۂ ادرنہ‘‘ کے دو اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎ ذمی کا مال لشکرِمسلم پہ ہے حرام… فتویٰ تمام شہر میں مشہور ہوگیا… چُھوتی نہ تھی یہود و نصاریٰ کا مال فوج… مسلم خدا کے حُکم سے مجبور ہوگیا۔ (تبسم خورشید)
ج: اس عُمدگی سے وضاحت کا بےحد شکریہ۔ آئندہ بھی کسی مضمون میں کوئی ابہام، کمی، کوتاہی محسوس کریں تو ضرور رہنمائی فرمائیں۔
* مَیں نےآپ کو کچھ خاص کھانوں کی تراکیب ای میل کی تھیں، اگر آپ کو پسند نہیں آئیں تو کیا مَیں کہیں اور بھیج دوں۔ (قراۃالعین فاروق، حیدرآباد)
ج: تراکیب کی پسند، ناپسند کا کیا سوال، ہم کون سا آفس میں ٹرائی کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ کسی بھی تحریر کی باری آنے میں وقت لگتا ہے۔ باری کا انتظار کر سکتی ہیں، تو ٹھیک، وگرنہ آپ کی مرضی۔
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk