• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

مضمون خُود پڑھنے پر اُکساتا رہا

’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں، ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی نے تعلیماتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ’’سوشل میڈیا کے درست استعمال اور فوائد‘‘ پر روشنی ڈالی۔ منیر احمد خلیلی نے یہودیوں کے خطرناک منصوبوں سے پردہ اُٹھایا، تو منور مرزا کا مضمون پاکستانی حُکم رانوں کے لیے بہترین سیکھ تھی۔ رؤف ظفر میزائلز کی کہانی لائے۔ پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک نے رعشے کو الزائمر کے بعد دوسری بڑی بیماری قرار دیا۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے ڈاکٹر امجد ثاقب کا تعارف اس انداز میں پیش کیا کہ مضمون خُود کو پڑھنے پر اُکساتا رہا۔

ڈاکٹر احمد حسن رانجھا (مرحوم) کی سنڈے میگزین کے لیے آخری تحریر پڑھ کر دل غم زدہ ہوگیا، اللہ تعالیٰ اُن کی کامل مغفرت فرمائے۔ فوزیہ حنیف کا مضمون بھی قابلِ غور تھا۔ رانا محمّد شاہد افسانے بھی لکھ رہے ہیں۔ ’’زعفرانی قطعات‘‘ پسند آئے۔ اگلے جریدے میں سوشل میڈیا کے مثبت، تعمیری استعمال کے ضمن میں لکھے گئے مضمون کی دوسری قسط پڑھی، معلومات میں اضافہ ہوا۔

منور مرزا تارکینِ وطن کے لیےفکرمند نظرآئے۔ ڈاکٹرسکندراقبال ٹی بی کےمرض پر کنٹرول کی تجاویز لائے۔’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے حسبِ معمول نجیبہ عارف کا تعارف بڑے خُوب صُورت انداز میں پیش کیا۔ ’’پیاراگھر‘‘ کے مضامین معلوماتی تھے۔ اور ’’ڈائجسٹ‘‘ میں سجاد جہانیہ اور سلیم عشرت کی نگارشات پسند آئیں۔ (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)

چار چاند لگانے کی کوشش

تازہ شمارہ دیکھا،بےحد اچھا لگا، میری طرف سے پوری ٹیم کی خدمت میں مبارک باد۔ آپ لوگ جس طرح میگزین کو چار چاند لگانے کی کوشش وسعی کرتے ہیں، قابلِ داد ہے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کے صفحے پر نظیر فاطمہ اور طلعت نفیس کی تحاریر عُمدہ تھیں۔

نیز، پہلی عالمی جنگ اور سلطنتِ عثمانیہ کی شکست وریخت کے اسباب اور آخرت کی کھیتی کے عنوانات سے شائع ہونے والی نگارشات بھی پسند آئیں۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر جلال عارف کے مضمون کا جواب نہ تھا۔

’’احسنِ تقویم‘‘ میں چوہدری اعتزاز احسن پر ایک نہایت شان دار تحریر لکھی گئی، جو یقیناً جریدے کی جان تھی، جب کہ منور مرزا بھی اپنے فکرانگیز تجزیے کے ساتھ موجود تھے۔ (اسلم قریشی، آٹو بھان روڈ، ٹھنڈی سڑک، حیدرآباد)

کسی سے مقابلہ نہیں

علم وادب کی چاشنی میں جو لذت اور لطف ہے، وہ کسی شے میں نہیں اور اس ضمن میں ’’سنڈے میگزین‘‘ سب پر بازی لے جاتا ہے، جنگ اخبار کا واقعتاً کسی سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ (سیّد شاہ عالم زمرد، راول پنڈی)

ج: آپ کی ہینڈ رائٹنگ دن بہ دن اس قدر ابتر ہوتی جارہی ہے کہ بخدا انتہائی مغزماری کے بعد، پورے خط میں سے کوئی ایک آدھ سطر ہی پلّے پڑتی ہے۔ پتا نہیں، آپ کیا لکھنا چاہتے ہیں اور کیا لکھتے ہیں، 99 فی صد خط تو ہمارے سر کے کئی فٹ اوپر ہی سے گزر جاتا ہے۔

اسٹول پر کیوں بیٹھی؟

منور مرزا ’’حالات و واقعات‘‘ کےتحت مشرق وسطیٰ کی صُورتِ حال پر تبصرہ کررہے تھے، بہت پسند آیا۔ عرفان جاوید تو غائب ہی ہوگئے ہیں۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس موجود تھے اور اُن کی آج کی تحریر بھی بہت ہی زیادہ پسند آئی۔ ویسے یہ سرورق کی ماڈل اسٹول پر کیوں بیٹھی تھی، سارا پوز خراب ہوگیا۔ آج ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ کا صفحہ بھی موجود تھا۔ نیز، کافی عرصے بعد ’’ناقابلِ اشاعت کی لسٹ‘‘ بھی شایع ہوئی۔

’’ڈائجسٹ‘‘ کے دونوں افسانے پسند آئے۔ رحمان فارس یہاں بھی ’’رو پڑے ہیں‘‘ کے ساتھ موجود تھے۔ ویسے جہاں بھی ہوں، اُن کا ہونا بہت ہی بھلا معلوم ہوتا ہے۔ راجا کا خط اچھا تھا، اُنھیں ہفتے کی چٹھی کا اعزاز بہت مبارک ہو۔ امریکا سے قرات نقوی کی بھی ایک ساتھ چار ای میلز پڑھنے کو مل گئیں۔ اگلے شمارے کے ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا کا ایران، امریکا جنگ پر بہترین تجزیہ پڑھنے کو ملا۔

’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے اعتزازاحسن کی کیا ہی عمدہ خاکہ نگاری کی۔ کچھ باتیں پڑھ کر حیرت بھی ہوئی ، مثلاً اعتزاز صاحب نے سول سروس کا امتحان ٹاپ کر کے بھی سروس جوائن نہیں کی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں نظیر فاطمہ کا ہُنر، طلعت نفیس کا فرض، عفّت مسعود کا نذرانۂ عقیدت اور شہزاد کے اقوالِ زریں نے ’’ڈائجسٹ‘‘ کو چار چاند لگا دیئے۔ اس بار تو ’’ناقابلِ فراموش‘‘ بھی موجود تھا، واہ بھئی۔ بلوچستان سے اسماء خان کا خط بھی ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں پڑھنے کو ملا اور ہمیشہ کی طرح ’’اِس ہفتے کی چٹھی‘‘ ہی قرار پایا، مبارک ہو۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)

ج: ’’ماڈل اسٹول پرکیوں بیٹھی؟‘‘ اب بھلا یہ بھی کوئی اعتراض کرنے والی بات ہے۔ آپ کی اطلاع کے لیے یک سانیت سے اُکتا کر سرِورق کا پوز دانستہ تبدیل کیا گیا اوراس پر تنقید کا کوئی پہلو کم ازکم ہمیں تو ہرگز دکھائی نہیں دیا۔

مَردوں کا تو بس نہیں چلتا، بس خواتین چرنوں ہی میں بیٹھی رہیں کہ ایک ماڈل کا انتہائی شائستہ انداز میں اسٹول پر بیٹھنا بھی کَھل گیا۔اور عرفان جاوید کا سلسلہ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ اختتام پذیر ہوا۔ اُمید رکھیں کہ جلد کسی اور منفرد و مختلف سلسلے کے ساتھ دوبارہ آئیں گے۔

نام کی لاج رکھ لیں

تازہ شمارے میں حافظ محمّد ثانی، منور مرزا، جویریہ کرن اور رؤف ظفر کی تحریریں پسند آئیں۔ ڈاکٹر سکندر اقبال تو جس موضوع پر لکھتے ہیں، کمال ہی لکھتے ہیں۔ اُن کا ٹی بی کے حوالے سے لکھا گیا مضمون خاصا معلوماتی تھا۔ واقعتاً 30- 20 سال قبل ٹی بی بہت بڑی بیماری تھی، اب تو ہر طرف بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، ذیابطیس کا شور ہے۔ موبائل کے بےدریغ استعمال اور اپنوں سے لاتعلقی کےموضوع پر لکھی گئی نگارش دل چُھو گئی۔

’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں بجیا، دادا ابو اور بابا جان کی کہانیاں خُوب تھیں۔ ڈاکٹر معین نواز دنیا بھر کی غمی، خوشی کی رسموں میں سے چُن کر ’’کینسے انیرا‘‘ پر مضمون لائے، پڑھ کے اچھا لگا۔ ایک ننّھی سی مخلوق، شہد کی مکھی سے متعلق باریک بینی سے لکھا گیا مضمون بھی لاجواب تھا اور آپ نے صفدر خان کو ’’نازک اندام‘‘ ہونے پر اچھا جواب دیا کہ نام ہی کی لاج رکھ لیں۔ (شمائلہ نیاز، دائرہ دین پناہ، تحصیل کوٹ ادّو، ضلع مظفّرگڑھ)

ج: ویسے صرف اُنہیں ہی نہیں، اور بھی بہت سے لوگوں کو اپنے اپنے ناموں کی لاج رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔

ساڑھے پندرہ سو کوس جرنیلی سڑک سے پیدل

شمارہ ملا، ’’اب اور مجھ سے کوئی خوش جمال کیا ہوگا…‘‘ عبارت کے ساتھ ماڈل، ٹائٹل سے سینٹر اسپریڈ تک رونقیں بکھیر رہی تھی، بلکہ اپنے حُسن جلووں سے چاند کو شرما رہی تھی۔ لگتا ہے، سچ ہی کہہ رہی تھی۔ ملبوسات میں سے سُرمئی رنگ پیراہن بہترین تھا۔ تحریر حسبِ سابق شائستہ اظہرنے لکھی اور لاجواب لکھی، موضوعِ تحریر ’’جمالیاتی ذوق‘‘رہا، سونے پہ سہاگا زینت شیخ کے کلام نے تحریر کو مزید زینت بخش دی۔

’’آپ کا صفحہ‘‘ کی محفل میں سلیم راجا ’’اعزازی کرسی‘‘ پر براجمان تھے۔ راجا صاحب نے واقعتاً تنقید و تبصرے کے فن کو ایک جدت دے دی ہے۔ دیگر شرکائے محفل بھی موجود تھے، بمعہ ہمارے۔ آج کل بےکار ملک کم کم نظر آ رہے ہیں، پتا کریں، کہیں رُس (ناراض) تو نہیں گئے؟ ٹیکساس سے قرآت نقوی بھی پیاری، پیاری باتوں کے ساتھ شاملِ محفل تھیں، خوشی ہوئی۔ دلی دُعا ہے ہمیشہ ہنستی مسکراتی، خوش باش رہیں، اللہ زمانے کی گرم و سرد ہواؤں سے محفوظ رکھے۔ 

ثانیہ انور کی کوئی تحریر شامل اشاعت نہ تھی، نہ ہی ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی کی۔ یہ کبھی کبھی آتی ہیں، لیکن جب آتی ہیں، ساری کسر نکال دیتی ہیں۔ اس بار جویریہ کرن دوا سازی کی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے کردار کے عنوان سے تفصیلی معلومات پر مبنی تحریر لائیں۔ ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ اچھا سلسلہ تھا۔ اس کے بند ہونے سے اک کسک سی ہے۔

متبادل کوئی نیا سلسلہ شروع کریں۔ خدیجہ طیّب نے علم وعمل اور عقل کا فلسفہ بڑی خُوب صورتی سے قرآن و سنت واحادیث کی روشنی میں سمجھایا، اور یوں صدقۂ جاریہ کی فضلیت حاصل کرلی۔ دیگر نگارشات میں نیا گھر اور کاغذ کا نشہ اچھی لگیں، رحمان فارس کی ’’رو پڑے ہیں…‘‘ کا تو کوئی ثانی، مول ہی نہ تھا۔ اور ہاں، ہم سے شاید ’’نازک اندام‘‘ کا مطلب و مفہوم سمجھانے میں تھوڑی گڑبڑ ہوگئی، ہماری مُراد اسمارٹ ہونے سے تھی، ورنہ اللہ کے فضل و کرم سے اس مصنوعی دَور میں بھی فولادی طاقت رکھتا ہوں۔ ہوش سنبھالتے ہی خُود اپنی ٹریننگ کمانڈو ٹائپ کی ہے۔

اگر کبھی’’جنگ‘‘کی طرف سے دعوتِ طعام دی جائے، تو بندہ، شیر شاہ سوری کی ساڑھے پندرہ سو کوس جرنیلی سڑک سے پیدل چلتا ’’سنڈے میگزین‘‘ کے آفس، آئی آئی چندریگر روڈ پہنچ سکتا ہے۔ (محمد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، محلہ شریف فارم، راہوالی، گوجرانوالہ)

ج: خادم ملک کے رُسنے رُسانے کا تو نہیں پتا، خدارا!آپ کچھ عرصے کے لیے ناراض نہیں ہوسکتے کہ اب آپ کی باتیں ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں۔ ’’جنگ‘‘ کو دعوتِ طعام کے لیے آپ ہی ملے ہیں، ادارے کا اپنا انتہائی محنتی، وفادار اسٹاف اس کارِ خیر کا کہیں زیادہ حق دار ہے۔

اپنی جگہ ایک بہترین کاوش

بعدسلام عرض کہنا یہ ہےکہ ہرہفتے’’سنڈے میگزین‘‘ کی باقاعدہ اشاعت ہی اپنی جگہ ایک بہترین کاوش ہے۔ مَیں تو مطالعے کا آغاز اوّل صفحے سے کرتا ہوں، تو اختتام تک کے تمام مضامین، سلسلے بہت شوق و لگن کے ساتھ پڑھتا ہی چلا جاتا ہوں۔

آپ کا ہر ایک مضمون حالاتِ حاضرہ، سماجی مسائل اور زندگی کے مختلف، اہم پہلوؤں پر خوب روشنی ڈالتا اور قارئین کے علم میں بہترین اضافہ کرتا ہے۔ نیز، مثبت سوچ کے فروغ میں بھی آپ کے ادارے اور قلمی معاونین کا کردارقابلِ صد ستائش ہے۔ (شری مرلی چند گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور، سندھ)

اشاعت کے لیے مالی معاونت

جنگ، سنڈے میگزین میں اعتزاز احسن کا خاکہ پڑھا۔ بخدا جریدے کےمطالعےکا لُطف دوبالا ہوگیا۔ رحمان فارس کے لیے بس اتنا ہی کہوں گا کہ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ ویسے مجھے بھی لکھنے لکھانے کا بہت شوق ہے۔ میرے استادِ محترم کو صدر عارف علوی نے صدارتی ایوارڈ سے نوازا تھا، جب کہ میرے ایک دوست کی غزلوں کی ایک کتاب بھی شایع ہوچُکی ہے، جب کہ مَیں نے 25-24 صفحات کا ایک کتابچہ لکھ رکھا ہے، اگرکوئی چھپوانے میں مالی معاونت کردے تو ازحد شکر گزار ہوں گا۔ (ماسٹر صفدر حسین صفی، حاصل پور)

ج: بطورِنمونہ جو ’’شاہ کارشعرونثر‘‘ آپ ہمیں روانہ کر رہے ہیں، اُسےدیکھ کر تو ہمارا انتہائی مخلصانہ وعاجزانہ مشورہ یہی ہے کہ اِسے شایع کروانے کی بجائے کہیں دفن کردیں، تو مُلک و قوم پراحسانِ عظیم ہوگا۔ ممکن ہے، آپ کے استاد اچھے لکھاری ہوں، دوست بھی شاعر ہوسکتے ہیں، لیکن بخدا آپ کی علم و ادب سے دُور دُور تک کوئی راہ و رسم نہیں ہے۔

                               فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

شمارہ موصول ہوا۔ سرِورق پر ماڈل سے منسوب مصرع ؎ اب اور مجھ سے کوئی خوش جمال کیا ہوگا…پڑھ کرخیال آیا، ہماری ’’نصف بہتر‘‘ کہیں بہتر ہیں۔ ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی تعلیماتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں سوشل میڈیا کے مثبت، تعمیری استعمال پر روشنی ڈال رہے تھے۔ بےشک، حضورﷺ کا اسوۂ حسنہ ہر مسلمان کے دین ودنیا کی بھلائی کے لیے کامل نمونہ ہے۔ منور مرزا نے تارکینِ وطن کو مشرق وسطیٰ کی جنگ میں نظرانداز کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ کیا یہ لوگ صرف زرِمبادلہ کی اے ٹی ایم مشینز ہیں، اِن کےمسائل پرفی الفور غورو خوض ہوناچاہیے۔

رؤف ظفر بلوچستان سے اقبالیات پر پہلے پی ایچ ڈی، ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی، ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی سے بات چیت کررہے تھے۔ سچ ہے، اقبالؒ صرف شاعرِ مشرق ہی نہیں، فلسفیٔ مغرب بھی ہیں۔ مغربی تہذیب کی بنیادوں میں پنہاں زلزلوں کو جیسا اُنہوں نے سمجھا، شاید ہی کسی اور نے سمجا ہو۔ عام لوگ تو بس ظاہری چمک دمک ہی سے مرعوب ہیں۔ یہ اقبال ہی تھے، جنہوں نے برملا کہا۔ ؎ تمہاری تہذیب اپنےخنجر سے آپ ہی خُودکشی کرے گی۔

جویریہ کرن دوا سازی کی صنعت میں مصنوعی ذہانت کا تذکرہ لائیں۔ ڈاکٹر سکندر اقبال ٹی بی کے خاتمے کا عزم ظاہر کررہے تھے، تو ڈاکٹر ایم عارف سکندری نے سرطان کی شناخت میں پیش رفت کی نوید سُنائی۔ رحمان فارس نے نجیبہ عارف کے حُسنِ کارکردگی کا احوال، بحُسن و خوبی بیان کیا۔ اتنی بڑی ادیبہ فوٹو شوٹ میں زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئیں، واقعی بڑے لوگوں کی بڑی باتیں، سادگی و شرافت کےساتھ عجز و انکساری کا سبق بھی ملتا ہے۔

انسان علم وعہدے سے نہیں، دل و دماغ ہی سے بڑا ہوتا ہے۔ خیال آیا، اگر ہمارے سب بیوروکرپٹ رحمان فارس جیسے ہوجائیں، توانتظامی ڈھانچےکی جو چُولیں ڈھیلی ہو کر بےترتیب ہوگئی ہیں، کسی کسائی، فٹ فاٹ ہوجائیں۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں ماڈل کے انداز دیکھ کر یوں لگا، جیسے ٹینس کھیلنے کی تیاری کررہی ہو۔ شائستہ اظہر کا رائٹ اَپ اشعار کے تڑکے کے ساتھ جوبن پر تھا۔

ساجد علی شمسی موبائل کی لت میں مبتلا نوجوانوں کو نقصانات سے آگاہ کررہے تھے، تو خدیجہ طیّب نے قرآن میں غوطہ زن ہونے کا درس دیا، ساتھ قرآن و حدیث سے معتبر حوالے بھی پیش کیے۔ ڈاکٹر معین نواز نے لاطینی امریکا کی رسم کینسے انیرا سے آگاہ کیا، پڑھ کر اچھا لگا۔

سجاد جہانیہ ’’نیا گھر‘‘ لائے۔ اکثر لوگوں کی یہی کہانی ہے۔ ہم نے بھی والد صاحب کا گھر بیچا، جہاں ہمارا بچپن، جوانی گزری اور شادی بھی ہوئی، سلیم عشرت کا کہنا تھا کہ کاغذ، کتاب کا نشہ کم نہ ہوگا۔ ہمارا بھی یہی ماننا ہےکہ یہ صدی، کتابوں کی آخری صدی ہرگز نہیں ہوسکتی۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص)

گوشہ برقی خطوط

* سال کا تازہ شمارہ وصول پایا اور اس میں گزشتہ سال پیش آنے والی خبروں کی جامع جھلکیاں پڑھ کر سالِ رفتہ کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ بےشک، جو قومیں اپنا ماضی بھول جاتی ہیں،وہ اپنی شناخت کھوبیٹھتی ہیں۔ موجودہ شمارہ بھی گزشتہ سال کی تلخ یادوں سے معمور رہا۔

وادیٔ جنت نظیر کو گزشتہ سال درپیش مسائل،عالمی معیشت کے خراب، غیریقینی حالات، عالمی سطح پر بےروزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ، شعبۂ صحت کا قومی ترجیح نہ بن پانا وغیرہ قابلِ توجہ موضوعات رہے۔ اگلے جریدوں میں منور مرزا کے تجزیات، خصوصاً ”وینزویلا میں امریکی آپریشن“پرمضمون خاصا فکر انگیزاورمتاثرکُن تھا۔ (محمد فیصل شہزاد،محلہ احمد پورہ، بھکھی روڈ، گلی سیداں، شیخوپورہ)

* ’’سال نامہ‘‘ اپنی تمام ترحشرسامانیوں کے ساتھ چمکتا دمکتا وصول ہوا۔ آپ کا ’’حرفِ آغاز‘‘ تویقین کریں، سُچّے موتیوں کی مالا جیسا لگا۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے مستقل برقی خطوط نگاروں میں اپنا نام دیکھ کے ازحد خوشی ہوئی کہ پچھلے برس میرا نام شامل ہونے سے رہ گیا تھا۔ دوسرے شمارے میں صدیق فنکار کا ڈرائی فروٹ کا تذکرہ اورآپ کا جواب پڑھ کے بہت ہی ہنسی آئی۔

پروفیسر سید منصور کا خط دلی مسرت دےگیا۔ میری ای میل بھی موجود تھی۔ اس بار’’کلر آف دی ایئر‘‘ کلاؤڈ ڈانسر (دودھیا سفید) ٹھہرا۔ اللہ کرے، یہ رنگ امن و آشتی کا پیام بر ثابت ہو۔ سال کے تیسرے شمارے میں افسانہ ’’آسیہ‘‘ کی تیسری قسط پڑھی۔ بےچاری بچیوں پہ رہ رہ کےافسوس ہورہا تھا،حقیقت میں ایسے کئی کردار ہمارےمعاشرے میں موجود ہیں۔

’’اسٹائل’’ کی تحریر خاموشی کے زبان میں بہت کچھ کہہ گئی۔ ویسےسارے ہی پہناوے اپنی اپنی جگہ خُوب تھے۔’’ایک پیغام‘‘ کےصفحے پرسرسری نظر ڈال کے گزررہی تھی کہ ایک دَم اپنے نام پر نظر پڑی۔ محمّد صفدر اور امین شیدائی کے پیغامات پڑھ کے اتنی خوشی ہوئی کہ لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی۔ کافی دیر تک آنکھوں سےآنسو رواں رہے اور پھر پوری رات ماضی کی راکھ کریدنے ہی میں گزرگئی۔ کتنی ہی بھولی بسری یادوں کے کارواں دل کے در کھٹکھٹاتے رہے۔ (قرات نقوی، ٹیکساس، امریکا)

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk