• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ویلکور‘‘ کتب خانوں کے احیاء کی ایک منفرد کاوش

ڈیجیٹل مواد کی فراوانی کے باعث گہری ادبی، علمی اور فکری روایات کے امین، وطنِ عزیزمیں چمکتی اسکرینز توجّہ پر غالب آ رہی ہیں اور اس صورتِ حال میں ’’ویلکور‘‘ نامی مختصر دورانیے کی ادبی تھرلر فلم کاغذی مطبوعات کی وقعت و حُرمت کو ازسرِنو دریافت کرنے کی ایک منفرد کاوش ہے۔ چالیس منٹ کے دورانیے پر مشتمل اپنی نوعیت کی یہ منفرد مووی کُتب کی یاد کو سنسنی، فلسفے اور بصری شاعری میں ڈھالنے کا تہذیبی اظہار ہے۔

کراچی کی تاریخی اور شان دار فریئر لائبریری، جہاں تقریباً70ہزار کُتب محفوظ ہیں، اس فلم کا پس منظر ہے۔ یہ محض فلم نہیں بلکہ طباعتی ثقافت، ہاتھ سے لکھے خطوط، اخبارات اور روشنائی سے مہکتے کاغذ کی دُنیا کو ایک خراجِ تحسین ہے، جو بتدریج معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ مذکورہ فلم کا عنوان بھی شعری کیفیت کا حامل ہے۔ ’’ویلکور‘‘ اُس اداس مگر دل کش احساس کو کہتے ہیں، جو پُرانی لائبریریز اور سیکنڈ ہینڈ کُتب کی دُکانوں میں گھومتے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔

زرد پڑتے صفحات کی خوش بُو، دوبارہ دریافت ہونے کے منتظر علم کی خاموشی اور نسلوں سے اداس مانوس کہانیوں کے احساس کو فلم کے مصنّف، ہدایت کار اور پروڈیوسر، خالد حسن خان نے اپنے کیمرے کے ذریعے ناظرین تک منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری جانب یہ فلم ایک فرضی کردار، بیگم نورالنساء کے نام ایک جذباتی نذرانہ بھی ہے، جن کی یاد میں یہ لائبریری خواتین اور بچّوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے قائم کی گئی تھی۔

فلم کی عکس بندی کراچی کی شان دار اور تاریخی فریئر ہال لائبریری میں کی گئی ہے۔ نو آبادیاتی طرزِ تعمیر کی حامل یہ لائبریری فلم میں ایک زندہ کردار کی مانند سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔ لائبریری کی بلندوبالا الماریاں، دُھوپ اور سائے سے بَھری طویل راہ داریاں اور ہزاروں خاموش کُتب ایک ایسی فضا تشکیل دیتی ہیں کہ جو بیک وقت تقدیس اور اضطراب سے لب ریز ہے۔ یہ ستّر ہزارکتابیں ستاروں کی مانند چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور ان حقائق کو روشن کرتی ہیں، جنہیں جدیدیت دھندلانے کے در پے ہے۔

’’ویلکور‘‘ کے مصنّف، ہدایت کار اور پروڈیوسر، خالد حسن خان ہیں، جو نیویارک فلم اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہیں۔ اُن کی متعدّد فلمیں دُنیا کے تمام براعظموں میں منعقدہ ایک سو سے زاید فلمی میلوں میں نمائش کے لیے پیش کی جاچُکی ہے اور وہ 26سے زاید بین الاقوامی اعزازات حاصل کرچُکے ہیں۔ یہ فلم اُن کے تفریح پر ثقافتی تحفّظ کو ترجیح دینے کے مقصد پر مبنی ویژن کی عکّاسی کرتی ہے۔

یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس فلم کی اصل اہمیت اس کی ثقافتی بُنت میں مضمر ہے اور گرچہ پاکستانی شوبز انڈسٹری نے فلم اور ڈرامے کی دیگر اصناف میں تو نمایاں کام یابیاں حاصل کی ہیں مگر ادبی تھرلر فلم اس انڈسٹری کے لیے ایک نایاب صنف ہے اور خالد حسن خان نے اس میدان میں قدم رکھتے ہوئے ایک ایسی تخلیق پیش کی ہے کہ جو ناظرین کو وَرثے، تحفّظ اور تحریر کی نازک پائے داری پر غوروفکر کی دعوت دیتی ہے۔

اس فلم کا مرکزی کردار ایک کمرشل پائلٹ، کتابوں کا عاشق اور لائبریری کا باوقار نگہبان، ’’ہادی‘‘ ہے۔ اور یہ کردار سینئر پی اے ایس آفیسر، سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی سمیت متعدّد اہم انتظامی عُہدوں پر خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر سید سیف الرحمٰن نے ادا کیا ہے، جو اس وقت ’’نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن‘‘ کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

’’ہادی‘‘ ایک باوقار لائبریرین ہے، جو کتابوں سے جذباتی تعلق رکھنے کے علاوہ لائبریری میں موجود ہزاروں کُتب کا محافظ ہونے کی حیثیت سے کئی رازوں کا امین بھی ہے، جب کہ فلم کےدیگرکرداروں میں نواب علاؤالدین کی اہلیہ، بیگم نورالنساء، رمیش چٹرجی، عالیان اور ورقہ شامل ہیں۔ ’’ورقہ‘‘ ایک پُراسرار کردار ہے، جو رومن طرزکا ’’ٹوگا‘‘ پہنے ایک پُرہیبت اور علامتی صُورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

یہ کردار بنیادی طور پر کاغذ کی لازوال رُوح کا مجسّم استعارہ ہے اور ایک ایسی غیرمرئی مگر بااثر ہستی ہے، جو وقت کے ہاتھوں مِٹتے الفاظ کی مزاحمت کی نمائندگی کرتی ہے۔ ’’ورقہ‘‘ کےذریعےفلم میں ایک نہایت فلسفیانہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ’’ جب انسانی کہانیاں اپنی مادّی صُورت کھو دیں گی، توتہذیب کا کیا بنے گا؟‘‘ اس فلم میں یہ کردار شمیم شیرازی نے نبھایا ہے۔

مختصر دورانیے کی پاکستان کی پہلی ادبی تھرلر فلم کے حوالے سے جب ہماری مرکزی کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر سیّد سیف الرحمٰن سے بات چیت ہوئی، تو انہوں نے بتایا کہ ’’یہ فلم خالد حسن خان کا اچھوتا آئیڈیا اورکئی اعتبار سے فراموشی کے خلاف ایک مزاحمت ہے۔ ایک ایسے عہد میں کہ جب معاشرے ڈیجیٹائزیشن کی جانب بڑھ رہے ہیں، یہ فلم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کاغذ میں دوام ہے، جو ڈیجیٹل صُورتوں میں ممکن نہیں۔

کسی کتاب کے حاشیے پر لکھی تحریر، تہہ شُدہ خط اور مرورِ زمانہ سے بوسیدہ ہونے والا اخبار محض اشیاء نہیں بلکہ جیتی جاگتی تاریخ کے گواہ ہیں۔‘‘ فلم میں اپنے کردار کے حوالے سے بتاتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’’یہ پوری فلم ہی ’’ہادی‘‘ کے گرد گھومتی ہے اور حقیقی زندگی میں ایک سِول سروس افسر ہونے کے ناتے میرے لیے ایک ایسے لائبریرین کارُوپ دھارنا کہ جو ایک باوقار شخصیت کا مالک ہے اور ڈائیلاگز ادا کرنا کسی چیلنج سے کم نہ تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کا شُکر ہے کہ اپنے اہلِ خانہ، دوستوں کی حوصلہ افزائی اور ڈائریکٹر سمیت ٹیم کے دیگر ساتھیوں کی مدد سے مَیں نے اس کردار کو اِس کی رُوح کے عین مطابق ادا کرنے کی بھرپور سعی کی۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’’ایک اچّھی کتاب ہی انسان کی بہترین دوست ہے۔ یہ ہمیں جینے کا سلیقہ، اچھائی و برائی میں تمیز سکھاتی ہے۔ گرچہ آج دُنیا بَھر میں ڈیجیٹل مواد فروغ پذیرہے، لیکن یہ کاغذ پر طبع شُدہ الفاظ کی جگہ نہیں لے سکتا۔

اِسی طرح پرنٹ میڈیا ختم کرنے کا بھی کوئی جوازنہیں بلکہ ہمیں اِسے بچانے کے لیے پورے جوش و جذبے کے ساتھ کوشش کرنی چاہیے۔ دُنیا کے مہذّب اور ترقّی یافتہ ممالک میں آج بھی لوگ بالخصوص دورانِ سفر کُتب اور اخبارات کا مطالعہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دُنیا میں ہنوز کاغذ پر مطبوعہ مواد کی پذیرائی کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘

فلم کی ریلیز سے متعلق سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’’یہ اپنی نوعیت کی دُنیا کی پہلی ادبی تھرلر فلم اور کُتب، کُتب خانوں، اخبارات، میگزینز اور خواتین کی تعلیم کو بچانے کی کوشش ہے۔ اس فلم کو کسی نے اسپانسر نہیں کیا اور اس کا کوئی میڈیا پارٹنر نہیں۔ اور نہ ہی یہ کوئی کمرشل مووی ہے۔ اِسے ابتدا میں مختلف جامعات اور ادبی میلوں سمیت دیگر مقامات پرنمائش کےلیے پیش کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں، ہم نے اس فلم کی چھے زبانوں انگریزی، چینی، عربی، فرانسیسی، رُوسی اور ہسپانوی زبان میں ڈبنگ کا منصوبہ بنایا ہے اور اس ضمن میں کام جاری ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ مختلف ممالک میں اس فلم کی ریلیز سے پاکستان کا سافٹ امیج دُنیا کے سامنے آئے گا۔ ‘‘

المختصر، اس فلم میں گلیمر کی بجائے فضا سازی کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس میں سنسنی شور اور تماشے سے نہیں بلکہ خاموشی، سایوں اور تفکّر سےجنم لیتی ہے۔ ’’ویلکور‘‘ ایک اہم یاد دہانی ہے کہ لائبریریاں محض ماضی کے آثار نہیں، درحقیقت علمی وادبی، تہذیبی وثقافتی پناہ گاہیں ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید