ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی (فُوآسٹ) میں گورننس، مالیاتی نظم و نسق، انتظامی امور اور تعلیمی معاملات سے متعلق جاری خدشات کے پیش نظر جامعہ کے معاملات کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے چار رکنی اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
ایچ ای سی کی جانب سے 30 جون 2026ء کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کمیٹی گزشتہ سال ہونے والے گورننس اور ہیومن ریسورس آڈٹ کے تسلسل میں قائم کی گئی ہے تاکہ پہلے آڈٹ میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور خامیوں کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکے اور مستقبل کے لیے مزید اقدامات کی سفارشات پیش کی جا سکیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ایچ ای سی کے ایڈوائزر (آئی ٹی) ناصر حسین کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے جوائنٹ سیکریٹری آفتاب راشد اور حمید نیازی کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔ ایچ ای سی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (کوآرڈینیشن) حماد بن سیف کمیٹی کے سیکریٹری کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے موجودہ گورننس ڈھانچے، مالیاتی نظم و نسق، تعلیمی، انتظامی اور انسانی وسائل سے متعلق معاملات کا تفصیلی جائزہ لے اور یہ تعین کرے کہ گزشتہ آڈٹ میں نشاندہی کی گئی خامیاں اب بھی برقرار ہیں یا ان میں بہتری آئی ہے۔
کمیٹی کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ گزشتہ انکوائری کے بعد سامنے آنے والی اہم پیش رفت، فیصلوں، شکایات اور دیگر معاملات کا جائزہ لے جو یونیورسٹی کے انتظامی و مالی امور پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی اپنی ضمنی رپورٹ 30 روز کے اندر ایچ ای سی کو پیش کرے گی، جس میں موجودہ صورتحال، برقرار رہنے والی یا نئی سامنے آنے والی بے ضابطگیوں، ذمہ داریوں کے تعین اور مزید ضروری اقدامات سے متعلق سفارشات شامل ہوں گی۔
ایچ ای سی کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل کو وفاقی اردو یونیورسٹی میں گورننس اور انتظامی اصلاحات کے عمل کا اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس رپورٹ کی روشنی میں مستقبل میں مزید انتظامی فیصلوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔