• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خطے میں پائیدار امن افغان طالبان کے زیر تسلط زمین پر بھارتی پراکسیز کی روک تھام سے مشروط ہے: کور کمانڈرز

کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام افغان طالبان کے زیر تسلط زمین پر بھارتی پراکسیوں کی روک تھام سے مشروط ہے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی عوام کے تحفظ اور دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے۔

کور کمانڈرز فورم نے دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ جائز پانی کے حصے کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے سے قطعاً گریز نہیں کریں گے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی زیر صدارت 276ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔ 

فورم نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام افغان طالبان کے زیر تسلط زمین پر بھارتی پراکسیز کی روک تھام سے مشروط ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی عوام کے تحفظ اور دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے۔

اجلاس کے دوران مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی غیر متزلزل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا گیا اور کہا گیا کہ کشمیریوں کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ان کا ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دیا جائے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس کے شرکاء نے سندھ طاس معاہدہ سے متعلق بھارت کے بیانات کا نوٹس لیا اور کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ 

اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

شرکا نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی 24 اپریل 2025 کی ہدایت اس بارے میں مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ جائز پانی کے حصے کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے سے قطعاً گریز نہیں کریں گے۔

فورم نے کہا کہ معرکہ حق میں عبرتناک شکست کے بعد دشمن چاہتا ہے کسی طرح ہائبرڈ وارفیئر اور جھوٹے بیانیوں سے بےامنی پھیلائی جائے۔ بیرونی مدد سے انتشار پھیلانے والی ہر ایسی کوشش کو بغیر کسی پس و پیش کے سختی سے کچلا جائے گا۔

کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران علاقائی استحکام کو فروغ دینے اور کشیدگی میں کمی پر پاکستان کے تعمیری کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی۔ فورم نے مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ آبادیاتی تبدیلی کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

فورم نے کہا کہ مسلح افواج افغان طالبان کے زیر قبضہ علاقوں سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ یہ لازم ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں بہترین گورننس کا نظام مہیا کیا جائے۔

شرکاء کانفرنس کا کہنا تھا کہ ایسا مضبوط انتظامی ڈھانچہ ہو جو عوامی خدمت اور فلاح و بہبود پر مرکوز ہو۔ ایسا مضبوط انتظامی ڈھانچہ ہو جو مذموم سیاسی پشت پناہی میں پنپنے والے دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو توڑے۔

قومی خبریں سے مزید