قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اراکین نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔ نبیل گبول نے کہا کہ کمیٹی کا وفد اسلام آباد سے نکل کر خود کوئٹہ جائے اور زمینی حقائق کا جائزہ لے۔
خرم نواز کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا، جس میں گفتگو کرتے ہوئے نبیل گبول کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا وفد اسلام آباد سے نکل کر خود کوئٹہ جائے اور زمینی حقائق کا جائزہ لے، بلوچستان صورتحال پر ان کیمرا بریفنگ اور ان ہاؤس میٹنگ بلائی جائے، امن و امان قائم کرنے والے اداروں کے ساتھ ہنگامی مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔
چوہدری نصیر عباس نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے، فوری طور پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے، اے پی سی میں پاکستان تحریکِ انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کیا جائے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات پر سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز کے ساتھ سیاسی حل بھی ضروری ہے، بلوچستان میں صرف پیرا ملٹری آپریشنز اور طاقت کا استعمال کافی نہیں، صوبوں کا کردار اہم ہے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کو بھی امن و امان کی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی کا اسلام آباد کے بجائے کوئٹہ جا کر بریفنگ لینے کا فیصلہ درست ہے، کوئٹہ میں تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیکیورٹی حکام کو بلا کر تفصیلی ان کیمرا بریفنگ دی جائے گی۔