• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاک آسٹریا، انسٹیٹیوٹ کا حکومتی احکامات ماننے سے انکار، نئے پی ڈی کو گیٹ پر روک دیا

پشاور (ارشد عزیز ملک)خیبر پختونخوا حکومت اور پاک آسٹریا فاخوشولےانسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ہری پور کے درمیان پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ناصر علی خان کی برطرفی کے معاملے پر شدید تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔انسٹیٹیوٹ کی انتظامیہ نے صوبائی حکومت کے احکامات پر عمل درآمد سے انکار کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے تعینات نئے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو انسٹیٹیوٹ میں داخل ہونے سے روک دیا، جس کے بعد معاملہ حکومت اور ادارے کے درمیان اختیارات کا تنازعہ شدت اختیار کرگیا ہےیہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا نے چند روز قبل ڈاکٹر ناصر علی خان کو پراجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے فوری طور پر فارغ کر دیا تھا اور ساتھ ہی 2021میں ان کی برطرفی کی منظور شدہ سمری پر عمل درآمد میں تاخیر، سمری اور دیگر سرکاری ریکارڈ کے مبینہ طور پر غائب ہونے اور ذمہ دار افسران کے تعین کے لیے تین رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ذرائع کے مطابق نو تعینات پراجیکٹ ڈائریکٹر گریڈ 19 کے افسر سلیم خان چارج لینے کے لئے انسٹی ٹیوٹ پہنچے تو انھیں گیٹ پر روک لیا گیا سکیورٹی سٹاف نے انھیں اندر جانے کی اجازت نہ دی انھیں بتایا گیا کہ انتظامیہ نے ان کے ادارے میں داخلے پر پابندی عائد کررکھی ہے صوبائی حکومت نے انسٹی ٹیوٹ انتظامیہ کے غیرمناسب روئیے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پوری صورتحال ایک لحاظ سے مضحکہ خیز ہے، حکومت نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا، مگر انسٹیٹیوٹ نے حکومتی حکم پر عمل درآمد سے انکار کر دیا حالانکہ انسٹیٹیوٹ کے قیام اور دیگر اخراجات کے لئے اب تک صوبائی حکومت سات ارب 37 کروڑ روپے سے زیادہ فنڈز فراہم کرچکی ہے۔

اہم خبریں سے مزید