• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی سرمایہ کار لیبیا میں سیمنٹ پلانٹس لگا رہے ہیں، وزیر تجارت کی تصدیق

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی سرمایہ کار لیبیا میں سیمنٹ پلانٹس لگا رہے ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تجارت کے اجلاس میں وزیر تجارت نے بتایا کہ پاکستان کے سرمایہ کار لیبیا میں جا کر سیمنٹ پلانٹس لگا رہے ہیں، وہاں بجلی سستی اور ٹیکس میں چھوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکنامک زونز آئی ایم ایف کی پالیسی اور دیگر محکموں کی پالیسی کے بعد فعال ہوسکتے ہیں، انرجی سیکٹر، انویسٹمنٹ سیکٹر، ٹیکسیشن بھی انویسٹمنٹ اور ایکسپورٹ کو اثر انداز کررہے ہیں۔

جام کمال نے مزید کہا کہ وزارت تجارت کو اس کا طریقہ کار قائم کرنے کے لیے غور کرنا پڑے گا۔

دوران اجلاس چیف ایگزیکٹو ٹی ڈیپ نے کہا کہ گزشتہ مالی سال ٹی ڈیپ نے برآمدات بڑھانےکےلیے 91 عالمی نمائشوں میں شرکت کی۔

انہوں نے بریفنگ میں بتایا گہ گزشتہ مالی سال 11 وفود باہر دوروں پر گئے، پاکستان 93 ممالک کے ساتھ ترجیحی تجارت کرتا ہے۔

چیف ایگزیکٹو ٹی ڈیپ نے مزید کہا کہ ایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ فنڈ سے ٹی ڈیپ کو فنڈنگ نہیں ملتی جبکہ پراجیکٹس کےلیے حکومت کی طرف سے فنانسنگ ملتی ہے۔

دوران اجلاس پیپلز پارٹی کی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کیا چین میں پاکستان کا تجارتی نمائندہ چینی شہری لگانے کے بارے کبھی سوچا گیا؟

انہوں نے کہا کہ پاکستانی افسران کونہ چینی زبان آتی ہے نہ چینی صنعت و تجارت بارے علم ہے، چین کے شہری کی تعیناتی سے پاکستانی برآمدات بڑھائی جا سکتی ہے۔

پی پی سینیٹر نے مزید کہا کہ وزارت تجارت چین کو برآمدات بڑھانے کےلیے چینی تجارتی نمائندہ لگانے کے بارے سنجیدگی سےغور کرے۔

اُن کا کہنا تھا کہ چین کا عالمی تعاون کا ادارہ سیٹا پاکستان کے صنعتی شعبے کے ساتھ کام کر رہا ہے، سیٹا پاکستانی اور چینی صنعتی شعبے کے درمیان اشتراک پر کام کر رہا ہے۔

سلیم مانڈوی والا نے یہ بھی کہا کہ سیٹا کے عملے کے باعث ہمارے چین میں تجارتی افسران سے زیادہ پاکستان کے صنعتی شعبے کی معلومات ہیں، سیٹا کی کوششوں سے ہر 2 ماہ بعد چین کے صنعتکار پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں گندم کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے، پاکستان اس سال 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کر رہا ہے، حکومت کاشتکاروں کو امدادی قیمت دینے کو تیار نہیں، حکومتی پالیسیوں سے ملک میں گندم کو کوئی بھی کاشت کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔

سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ پاکستان کے چین میں تعینات ٹریڈ افسران کو چینی زبان اور کاروبار کی سمجھ ہی نہیں، چین کے ساتھ مکئی کی دو طرفہ تجارت کا معاہدہ کیا گیا، چین پاکستان سے مکئی نہیں خرید رہا، آخری وقت تک سنتے رہے کہ گندم کی بمپر فصل ہوئی۔

قومی خبریں سے مزید