عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے پاکستان کی طویل المدتی کریڈٹ ریٹنگ ’منفی بی‘ سے بڑھا کر ’بی‘ کر دی ہے، پاکستان کا آؤٹ لک بھی مستحکم قرار دیا ہے۔
اس اپ گریڈ کے بعد پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ تقریباً 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، پاکستان اس سے قبل 31 اکتوبر 2016 سے 3 فروری 2019 تک بی کیٹیگری میں رہا تھا۔
ایس اینڈ پی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ دو برسوں کے دوران ادارہ جاتی استحکام، آئی ایم ایف اصلاحاتی پروگرام پر عمل درآمد اور مالیاتی نظم و ضبط نے معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا اور بیرونی مالی دباؤ میں کمی آئی۔
ایجنسی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور محصولات میں اضافے کی کوششوں سے مالیاتی خسارے میں کمی آئی، جس کے باعث حکومتی قرضوں کے بوجھ میں بتدریج کمی متوقع ہے۔ ایس اینڈ پی کے مطابق پاکستان کے معاشی اور مالیاتی اشاریوں میں بہتری کے باعث ریٹنگ میں اضافہ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق جون 2026 کے اختتام تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 25.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو دسمبر 2022 میں 6.7 ارب ڈالر کی کم ترین سطح پر تھے۔
ایجنسی کے مطابق یہ ذخائر آئندہ 12 ماہ کے دوران بیرونی ادائیگیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
ایس اینڈ پی نے کہا کہ آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام اور دوطرفہ شراکت داروں کی مالی معاونت نے پاکستان کی معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان اب تک آئی ایم ایف پروگرام کے بیشتر اہداف پورے کرنے میں کامیاب رہا ہے جس سے بروقت فنڈز کی فراہمی ممکن ہوئی۔
ایجنسی نے مالی سال 2027 میں پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کے تسلسل سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، تاہم مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے محدود دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
ایس اینڈ پی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں ناکام رہی، بیرونی مالی معاونت کم ہوئی یا سودی اخراجات دوبارہ نمایاں طور پر بڑھ گئے تو پاکستان کی ریٹنگ پر منفی دباؤ آسکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس سے بی کیے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشرفت ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ یہ کامیابی حکومت کی مؤثر معاشی پالیسیوں، مالیاتی نظم و ضبط، اصلاحاتی اقدامات کا مظہر ہے، کامیابی قومی معیشت کو مستحکم بنانے کی مسلسل کوششوں پر عالمی اعتماد کا اظہار ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری حکومت کے معاشی اقدامات کے درست سمت میں ہونے کا ثبوت ہے، حکومت نے مشکل مگرضروری معاشی فیصلے کیے جن کے مثبت نتائج عالمی سطح پر تسلیم کیے جا رہے ہیں، اس پیشرفت سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔
وزیراعظم نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، اقتصادی ٹیم اور متعلقہ اداروں کی پزیرائی کی، حکومت معاشی اصلاحات کے سفر کو پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ جاری رکھے گی۔