وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری نے پاکستان میں شارک کے تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کے فروغ کے لیے 10 سالہ قومی منصوبہ پیش کر دیا۔
اس حوالے سے جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان 2035ء تک پائیدار شارک ماہی گیری میں نمایاں مقام حاصل کرے گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ منصوبے کے پہلے 5 سال کے لیے 50 لاکھ ڈالرز تک درکار ہوں گے، جبکہ شارک کے غیر قانونی طور پر فنز کاٹنے کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ شارک کی حادثاتی ہلاکتیں روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے اور ان کے سمندری مسکن کو محفوظ بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ شارک کی تعداد اور ذخائر کا ہر سال جائزہ لیا جائے گا، جبکہ ماہی گیر برادریوں کو متبادل روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
جنید انوار چوہدری کا کہنا ہے کہ شارک کے تحفظ سے متعلق قوانین پر عمل درآمد مزید مؤثر بنایا جائے گا، شارک کا تحفظ عالمی ماحولیاتی معاہدوں کے تحت پاکستان کی ذمے داری بھی ہے۔