• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تُرکی ہمارا برادر مُلک ہے۔ پاکستان کے اس سے بہت قریبی اور گہرے تعلقات ہیں۔ سیٹو(SEATO)اور سینٹو(CENTO)جیسے معاہدوں میں بھی دونوں مُلک ساتھ تھے۔ گو کہ تُرکی سیٹو کا رُکن نہیں تھا، تاہم یہ معاہدے امریکا کی تحریک، سرپرستی اور ایما پر ہوئے، جن کا مقصد کمیونزم کا راستہ روکنا تھا۔ پاکستان ستمبر1955 ء میں جب سینٹو کا رُکن بنا، اُس وقت چوہدری محمّد علی وزیرِ اعظم اور اسکندر مرزا مُلک کے مختصر مدّت کے لیے صدر تھے۔

امریکی ’’ڈکٹیشن‘‘ قائدِ اعظم کی رحلت کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی۔ اسکندر مرزا اور ایّوب خان دونوں امریکی اشاروں پر چلتے تھے۔ تُرکی میں جلال بایار(بیار) صدر اور عدنان مندریس وزیرِ اعظم تھے۔ ایران میں رضا شاہ پہلوی بادشاہ اور حسین علاء وزیرِ اعظم تھے۔ تینوں مُلک پڑوسی ہیں، اس کے علاوہ ان میں بہت سے تہذیبی و تمّدنی اور ثقافتی، نسلی رشتے بھی ہیں۔ یہ دونوں معاہدے کمیونزم کے آگے آہنی دیوار کی بجائے ریت کے ٹیلے ثابت ہوئے۔ سوائے دامن پر داغ کے تینوں مسلمان ممالک کو ان معاہدوں سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔

تُرکوں نے اسلام کسی جبر سے قبول نہیں کیا تھا۔ اموی عہد کے دوران تُرک علاقوں میں اسلام کے فروغ کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی۔ وہ صرف خُوب صُورت تُرک عورتوں کو پکڑ کر لاتے اور لونڈیاں بنا کر رکھتے یا کسی سے نکاح کر لیتے۔ عباسی سلطنت نے تُرکوں کے ساتھ تعامل و توافق (interaction) شروع کیا۔ انھیں بڑے بڑے عُہدوں پر مامور کیا اور فوج میں باقاعدہ تُرک یونٹ قائم کیے۔

ہم نے اِنہی صفحات پر شائع ہونے والے مضامین میں جہاں صیہونیت اور فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کے المیے کا ذکر کیا تھا، وہیں عثمانی خلافت کا تذکرہ بھی ساتھ چلتا رہا۔ سلجوقی سلطنت کے خاتمے کے بعد جب تُرک نظام بکھر گیا اور ایک عظیم سلطنت کی جگہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم ہو گئیں، تو اُنہی چھوٹی ریاستوں میں سے عثمان اوّل کی قیادت میں عثمانی ریاست ابھری۔ بے حد مقبول اور متعدّد زبانوں میں ڈب ہونے والے ڈرامے کا نام’’ارطغرل‘‘ فرضی نہیں، بلکہ یہ عثمان اوّل کے مجاہد اور بہادر والد کا نام تھا۔

یہ نئی ریاست و حکومت، زوال پذیر سلجوقی سلطنت اور لرزتی کھڑکھڑاتی بازنطینی سلطنت کے درمیان سے اُبھری۔ یہ دل چسپ بات ہے کہ رومن ایمپائر سے عام مُراد مشرقی یا بازنطینی سلطنت ہے، لیکن سلجوقی سلطنت بھی اپنے عہد میں رومی سلطنت کہلاتی تھی۔ عثمانی دراصل ایک معروف اور طاقت وَر، اوغز تُرک قبیلے کی ایک شاخ تھے، جو منگولوں کے حملوں سے بچاؤ کے لیے وسط ایشیا سے ہجرت کر کے اناطولیہ اور ارد گرد کے علاقوں میں آباد ہوئے۔

لفظ ’’ تُرکی‘‘ کا مطلب جمال اور قوّت ہے، اِسی لیے عرب اپنے بیٹوں کے نام’’ترکی‘‘ رکھتے ہیں۔ تُرکی میں عثمانی خلافت 1299ء میں قائم ہوئی۔ اس سے پہلے تُرکی کو اناطولیہ، ایشیائے کوچک یا اناضول کہا جاتا تھا۔ یہ صوبہ حطائے یا ہاتے کا دارالحکومتی شہر ہے، جس کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ تُرکی کے شام کے ساتھ ملنے والے اِس صوبے، انطاقیہ کا ذکر بائبل میں بھی آیا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے حواریوں کو اِسی مقام پر، عیسائی (Christiana) کا نام دیا گیا تھا۔ گیارہویں صدی کے نصفِ آخر تک تُرکی پر سلجوق قوم کی حکومت تھی۔ سلطان الپ ارسلان نے جنگِ ملازکرد میں بازنطینیوں کو فیصلہ کُن شکست دی۔ اِس لڑائی کے بعد تُرک قبائل اناضول(اناطولیہ)میں آباد ہونا شروع ہوئے۔ یورپی سیّاحوں اور صلیبی جنگ جوؤں نے تُرکی کو لاطینی زبان کے لفظ’’Turchia‘‘ پکارنا شروع کیا۔

وہی گیارہویں، بارہویں صدی تھی، جب صلیبیوں کی یلغار ہوئی، تو سلجوق تُرک اور کُرد مل کر لڑتے رہے۔ منگولوں نے عباسی سلطنت کا خاتمہ کیا، تو سلجوقی سلطنت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی اور یوں علاقائی سرداروں نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنی حکومتیں قائم کر لیں۔ اُنہی سرداروں میں سے قائی قبیلے کا سردار ارطغرل (Ertughrul)تھا، جس کے نام پر وہ مشہور و مقبول ڈارما بنا، جو متعدّد زبانوں میں ڈب ہو چُکا ہے۔

اُنہی کے بیٹے، سلمان اوّل نے عثمانی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ عثمانیوں نے کئی منازل طے کرنے کے بعد مصر کی فتح کے بعد عثمانی خلافت کی بنیاد رکھی۔ صلاح الدین ایّوبی کچھ عرصے تک آخری فاطمی خلیفہ کے وزیر بھی رہے تھے، لیکن جب اُنھوں نے دیکھا کہ فاطمی خلافت لڑکھڑا رہی ہے، تو اُنھوں نے فاطمی خلیفے کو معزول کر کے مصر پر قبضہ کر لیا۔ صلاح الدّین ایوبی اصل میں صلیبیوں سے برسرِ پیکار زنگی بادشاہوں کی فوج کے کمانڈر تھے۔

وہ عراق کے شہر، تکریت کے ایک کُرد خاندان میں پیدا ہوئے، جب کہ اُن کی والدہ تُرک تھیں۔ زنگی سلطنت جتنا عرصہ قائم رہی، اُس کے سلطان، صلیبی طوفان کے آگے بند باندھنے میں مصروف رہے۔ زنگی خاندان کے زوال کے بعد صلاح الدّین ایّوبی کی سربراہی میں’’ایوبی سلطنت‘‘ کی بنیاد پڑی اور وہ سلطان صلاح الدّین ایوبی کہلائے۔ اُنھوں نے 1187ء میں معرکۂ حطین میں صلیبی لشکر کو شکست دے کر القدس (یروشلم، بیتُ المقدِس) صلیبیوں سے چھین لیا۔

مسلم اقتدار اور طاقت سلجوقوں، زنگییوں، ایوبییوں سے گزرتی ہوئی مملوک سلاطین کے ہاتھ آئی۔ آخر میں مصر، شام اور حجاز میں مملوک سلطنت کا خاتمہ عثمانی تُرکوں کے ہاتھوں ہوا اور سلطان سلیم اوّل نے1250ء میں قائم ہونے والی مملوک سلطنت کا1517ء میں خاتمہ کیا۔ آخری مملوک سلطان الملک الاشرف تامان بے کو شکست ہوئی اور اُسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ساتویں عثمانی سلطان، محمّد فاتح نے مشرقی رومن ایمپائر کے مذہبی، تاریخی اور تہذیبی مرکز، قسطنطنیہ پر29 مئی 1453ء کو قبضہ کیا اور یہاں سے عثمانی سلطنت کی گویا نئی تاریخ شروع ہوئی۔

عثمانی سلطنت کو اسلامی خلافت قرار دے کر سلاطین، خلیفہ اور امیرُ المومنین کہلانے لگے۔ عثمانی تُرکوں کی پیش قدمی اور فتوحات سے متعلق معروف انگریز مؤرخ، ایڈورڈ گِبن (Edward Gibbon) نے اپنی شہرۂ آفاق تاریخی کتاب’’ The History of the Decline and Fall of the Roman Empire‘‘ میں عثمانی تُرکوں کی اُٹھان، عروج و کمال اور پیش قدمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور لکھا کہ قسطنطنیہ کے سقوط کی وجہ صرف تُرکوں کی خُوبیاں نہیں تھیں، بلکہ بازنطینی سلطنت بھی اندر سے کھوکھلی ہو چُکی تھی۔

اُنھوں نے عثمانی تُرکوں کے عروج، ایشیا و یورپ میں فتوحات اور سلطان محمّد فاتح کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا۔’’اُن میں ایک تو گہرا دینی جذبہ اور ایمانی شعور تھا اور دوسرے، اُن میں کمال درجے کی عسکری صلاحیت، نظم و ضبط، زبردست ادارہ جاتی اور انتظامی مہارت تھی۔‘‘

پندرہویں صدی پر تُرک خلافت کا سفر رُک نہیں گیا، بلکہ اس پر دفاعِ اُمّت کی ذمّے داری بھی آ پڑی۔ اگرچہ کئی تُرک خلفاء بھی ہندوستان کے مغل بادشاہوں کی طرح خواتین کے زیرِ اثر رہے۔ سولہویں اور سترہویں صدی کے درمیانی عرصے کو تُرک خلفاء پر ماؤں، بیویوں اور داشتاؤں کے اثر کی وجہ سے’’خواتین کی حُکم رانی‘‘ کا زمانہ کہا جاتا ہے، لیکن تُرک خلفاء نے کوئی تاج محل تعمیر نہیں کروایا۔ البتہ، اُن خواتین کی وجہ سے ولی عہدی کے جھگڑے ضرور پیدا ہوئے، بدعنوانی پھیلی، نظامِ حُکم رانی میں تعطّل اور جمود پیدا ہوا۔ اِس ضمن میں نور بانو سلطان، صفیہ سلطان، حلیمہ سلطان، کوسم سلطان(جو عثمانی سلطنت کی سب سے بااثر اور طاقت وَر خاتون تھی) وغیرہ کے نام نمایاں ہیں۔

یہ کوسم، سلطان احمد اوّل کی بیوی تھی۔ یہ وہ خواتین تھیں، جن کے نام کے ساتھ سلطان کا لقب آتا ہے۔ اُنہوں نے تُرک سلطنت پر پورا کنٹرول رکھا۔ اِن خواتین نے اپنے مشیروں اور وزیروں کے ذریعے سفارتی مہمّات کے علاوہ جنگی معاملات پر بھی بڑے بڑے فیصلے کیے۔

یہ بہت مال دار خواتین تھیں۔ اُنہوں نے اپنی ذاتی دولت سے مساجد، شفاخانے اور عوامی فلاح و بہبود کے بڑے بڑے منصوبے مکمل کروائے۔ اس خواتین سلطانی دَور میں سازشیں بھی ہوئیں اور ولی عہدی کے جھگڑے بھی ہوئے، لیکن تقریباً ایک سو سال تک گہرے اثرورسوخ کے باوجود اُنہوں نے تُرک سلطنت کی بقا پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔

سترہویں، اٹھارہویں صدی میں جب یورپی استبداد نے پاؤں پھیلانے شروع کیے اور اپنی کالونیاں قائم کرنی شروع کیں، تو یہ عثمانی خلافت ہی تھی، جو اُمّت کے دفاع میں لڑ رہی تھی، زخم کھا رہی اور جانیں دے رہی تھی۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب’’مسئلۂ خلافت‘‘ میں لکھا ہے۔’تمام کرّۂ ارض کے مسلمان آرام و عیش کے دن بسر کرنے اور فارغ البالی کے بستر پر سونے کے لیے ہیں، لیکن صرف وہی ایک (تُرک) ہیں، جو سارے مسلمانوں کی عزّت کے بچاؤ کے لیے صدیوں سے تلوار کے سائے تلے زندگی کے دن کاٹ رہے ہیں اور چاروں طرف سے دشمنوں کی زَد میں ہیں۔

کامل پانچ صدیوں سے یورپ اور ایشیا کا سب سے بڑا رقبہ اُن کے خون سے رنگین ہو رہا ہے۔ ایک چوتھائی صدی بھی آج تک ایسی نہیں گزری کہ دشمنوں کی تلواروں نے اُنہیں مہلت دی ہو۔ اُن کا جرم اِس کے سِوا کچھ نہیں کہ اسلام کا محافظ دنیا میں کوئی نہ رہا، ساری تلواریں ٹوٹ گئیں، سارے بازو شل ہو گئے، تو پانچ صدیوں سے وہ کیوں اسلام کے بچاؤ کے لیے باقی ہیں اور کیوں وہ وقت آنے نہیں دیتے، جب اسلام کی پولیٹیکل طاقت کا بالکل خاتمہ ہو جائے؟‘‘

تُرکی کی سلطنتِ عثمانیہ میں کل چھتیس سلطان ہوئے، جنہیں مذہبی پیشوا بھی سمجھا جاتا تھا اور سیاسی رہنما بھی۔ اس سلطنت کا شمار ایک وقت میں دنیا کی سب سے طاقت وَر سلطنتوں میں ہوتا تھا۔ یہ جنوبی یورپ، مغربی ایشیا اور شمالی افریقا تک پھیلی ہوئی تھی۔ تیرہویں صدی کے آخری سال، یعنی 1299ء سے 1922ء تک، تقریباً چھے سو سال میں چھتیس سلطان سلطنت کے سربراہ اور پاسبان بنے۔

اِس عرصے میں طاقت وَر اور بہت مال دار یہودیوں نے برطانوی عیسائی دماغ خرید لیے تھے۔ سلطان عبدالحمید ثانی کا عہدِ حکومت انہی کی باریک چالوں کے توڑ اور ریشہ دوانیوں کے مقابلے میں گزرا۔ سلطان عبدالحمید ثانی نے اپنی حکومت فلسطین اور قبلۂ اول پر قربان کر دی تھی۔ یہودیوں نے فلسطین میں اپنی ریاست کے قیام کے لیے سلطان کو بہت بھاری پیش کشیں کیں۔

صیہونی تحریک کے بانی، تھیوڈور ہرتزل نے یہاں تک پیش کش کی کہ عثمانی سلطنت پر چڑھے سارے قرض یہودی ادا کر دیں گے، بس بدلے میں فلسطین میں یہودی ریاست قائم کرنے کی اجازت دے دیں، لیکن سلطان نے کہا کہ’’مَیں فلسطین کا ایک انچ بھی نہیں دے سکتا۔

فلسطین میرا نہیں، ساری اُمّت کا ہے۔ میری قوم نے اس کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ تم اگر مجھے ساری دنیا کی دولت بھی دو، تب بھی مَیں فلسطین کا ایک انچ دینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔‘‘ ہم سلطان عبدالحمید ثانی کی معزولی، نظربندی کے علاوہ پہلی جنگِ عظیم اور اسرائیل کے قیام تک کے حالات پہلے ہی بیان کر چُکے ہیں۔

عظیم الشّان عثمانی سلطنت ایک وقت میں دنیا کی سب سے بڑی اور طاقت وَر سلطنت تھی۔ یہ تین مراحل سے گزری۔1299ء میں قائم ہوئی اور 1453ء تک اس کی توسیع ہوئی۔ اس دَور میں چھے سلطان حُکم ران رہے۔1453ء سے 1566ء تک کی تقریباً ایک صدی میں اس نے طاقت اور عظمت وعروج حاصل کیا۔

اس ایک صدی میں سلطان محمّد فاتح نے قسطنطنیہ فتح کر کے بازنطینی عیسائی سلطنت کا خاتمہ کیا۔ اس دَور میں چار تُرک سلطان بر سرِ اقتدار رہے۔ ہر عروج کے پیچھے زوال ہے، تو اس عرصے میں عثمانی سلطنت میں زوال کے آثار نمایاں ہوئے اور یہ جمود و تعطّل کا شکار ہوئی۔ اس دَور میں سلطان سلیم دوم سے سلطان عبدالحمید دوم تک تیرہ سلاطین نے حکومت کی۔

یہودی طویل عرصے سے رومی عیسائیوں کے ہاتھوں ذلّت و رسوائی اور تحقیر و تذلیل کے سخت طمانچے کھا رہے تھے، لیکن انیسویں صدی میں یہودی اور عیسائی گٹھ جوڑ ہو گیا۔ قرآن کے اصول کے مطابق’’یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کے ساتھی اور دوست ہیں۔‘‘ برطانیہ اُس وقت سُپر پاور تھا، جس نے فلسطین میں یہودی ریاست کا سارا انتظام کیا۔ مصطفیٰ کمال، نوجوانانِ انقلابِ تُرک(Young Turk Party) میں صفِ اوّل کے رہنما تھے۔ نیز، کچھ فوجی فتوحات نے اُنھیں ہیرو بنا دیا اور وہ ترک قوم کے’اَتا‘‘(باپ)بن گئے۔ اُس زمانے میں یہودیوں کی خفیہ تنظیمیں تُرکی میں بہت متحرّک تھیں۔ ینگ تُرک پارٹی، فری میسن نامی تنظیم کے زیرِ اثر تھی۔

مصطفیٰ کمال نے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد اصلاحات کے نام پر پے در پے ایسے قوانین نافذ کیے، جن کا مقصد تُرک قوم کو اپنی تہذیب اور دِین سے کاٹنا تھا۔ یہ اصلاحات اس رفتار سے ہو رہی تھیں، جیسے پہلے سے کسی نے تُرک معاشرے کو جدید مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگنے اور اسلام کے سارے نقوش مِٹانے کی حکمتِ عملی تیار کر رکھی ہو۔

عربی زبان اور دینی مدارس پر پابندی عاید کردی گئی۔ سر پر سوتی اور اونی ٹوپیوں کی بجائے مغربی ہیٹ اور ٹوپیاں پہننے کا حکم دیا گیا۔ اسلامی کیلنڈر کی جگہ مغربی کیلنڈر جاری کر دیا گیا۔ مذہبی شناخت رکھنے والی بہت سی شخصیات کو سزائے موت دی گئی یا پھر اُنھیں جلاوطن یا مرکزی دھارے سے کاٹ دیا گیا۔

ایک روحانی پیشوا، شیخ سعید قاسم، مصطفیٰ کمال کی پالیسیز کے ناقد تھے، تو اُنھیں سزائے موت دے دی گئی۔ بدیع الزماں نورسی ایک مذہبی شخصیت تھی، جنہوں نے شیخ سعید کی بغاوت میں حصّہ نہیں لیا تھا، لیکن اُنھیں بھی قید، جلاوطنی، گھر میں نظربندی، مُلک کے دُور دراز ویران علاقوں میں تنہائی کی سزائیں دی گئیں۔

تُرک فوج نے کمال ازم کی یہ سخت پالیسی اپنا مستقل ایجنڈا بنا لیا۔ عدنان مندریس، سیکولر اپروچ رکھنے والے منتخب وزیرِ اعظم تھے، لیکن تُرک فوج نے اُن کی حکومت کا تختہ اُلٹا اور اُنہیں چند وزرا سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ بعدازاں، فوجی ٹریبونل نے اُنھیں دو وزرا سمیت سزائے موت سُنائی، جب کہ اُن کی جماعت کے سیکڑوں افراد جیلوں میں ٹھونس دیے گئے۔

تُرک فوج نے اپنی بالادستی اور سختی قائم رکھی۔ کوئی وزیرِ اعظم فوج کے ڈر سے ٹھیک کام نہیں کر سکتا تھا۔ موجودہ صدر طیّب اردوان کے خلاف بھی فوج کے ایک حصّے نے بغاوت کی تھی، لیکن عوام کی مدد سے اُسے کچل دیا گیا۔ (مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)