• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سویٹزرلینڈ کے سیّاحتی شہر، برگن اسٹاک میں پاکستان کی میزبانی میں امریکا، ایران کے تاریخ ساز مذاکرات ہوئے، جن کی کام یابی میں پاکستان اور قطر کی کلیدی معاونت شامل رہی۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم، میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل، سیّد عاصم منیر نے دو’’دشمنوں‘‘ کو آمنے سامنے بٹھا کر دشمنی کا زہر بڑی حد تک زائل کیا اور اِن مذاکرات کی وجہ سے پاکستان کی اہمیت بھی دنیا بھر میں تسلیم کی جارہی ہے۔

فیلڈ مارشل ایک فوجی سپاہی اور افواجِ پاکستان کے سربراہ ہیں، لیکن اُن کی فراست، دانش اور ڈپلومیٹک صلاحیتوں کا ساری دنیا میں شُہرہ ہے، جب کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنی سیاست کاری کا عالمی سطح پر لوہا منوا لیا۔ امریکی صدر ٹرمپ ہمارے اِن دونوں زعماء کی مسلسل تعریفیں اور خراجِ تحسین پیش کر تے نہیں تھکتے۔

ایرانی صدر، وزیرِ خارجہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی ان پر تحسین کے پھول برسا رہے ہیں۔ اکیسویں صدی کے اِس تیسرے عشرے میں جو تاریخ رقم ہو رہی ہے، اس میں ہمارے وزیرِ خارجہ، اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی شٹل ڈپلومیسی کا ذکر بھی سنہرے حروف میں کیا جائے گا۔ اُن کی محنت اور قائل کرنے کی صلاحیت تسلیم کی جا رہی ہے۔

یہ کاوشیں واقعی رنگ لائیں گی یا صدر ٹرمپ کے لااُبالی پن، تلوّن، غیر سنجیدگی اور ہر روز بدلتے فیصلوں کی نذر ہو جائیں گی؟ ان مذاکرات یا مصالحتی عمل میں لبنان کا پیچیدہ مسئلہ بھی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ حالیہ جنگ اسرائیل ہی نے ایران پر حملے کر کے چھیڑی تھی، لیکن پاکستان چوں کہ اُسے ایک جائز ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا، اِس لیے مصالحتی مذاکرات میں اسرائیل کو شامل نہیں کیا گیا۔ وہ اپنی سبکی مٹانے کے لیے لبنان پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔

اس نے جنوبی لبنان کے دس کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر اپنی فوجیں بٹھا دی ہیں۔ یہی علاقہ ایران کی پراکسی تنظیم حزب اللہ کا گڑھ ہے۔ 1982ء کی خانہ جنگی کے عرصے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی تحریک اور مدد سے یہ تنظیم وجود میں آئی تھی۔ عباس موسوی اور حسن نصراللہ اس کے بانیوں میں سے تھے۔ 1992ء کے پارلیمانی انتخابات کے موقعے پر تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے حسن نصراللہ ہی نے اسے ایک سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹر کروایا۔

دل چسپ بات یہ کہ ان انتخابات میں باقی جماعتوں کو پانچ، پانچ، چھے، چھے نشستیں ملیں اور حزب اللہ نے آٹھ نشستیں جیتیں۔ اِس سے مُلک میں سیاسی توازن بگڑ گیا اور پارلیمنٹ حزب اللہ کی رہینِ منّت بن گئی۔ امن و امان کے ساتھ سیاسی عدم استحکام بھی بڑھ گیا۔ ریاست کے لیے اس کا ایک اکثریتی پارلیمانی پارٹی ہونے سے زیادہ ریاستی فوج جتنی طاقت رکھنے والا عسکری دھڑا بن جانا مشکلات پیدا کر رہا تھا۔

وزیرِ اعظم یا صدر کی بجائے، حزب اللہ، ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے ہدایات لیتی تھی، یوں مُلکی نظام جمود کا شکار ہو گیا۔ اِسی دوران مُلک کے صدر بشیر جمائل، وزیرِ اعظم رشید کرامے اور حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل عباس موسوی ہلاک کر دیئے گئے۔ دیگر متعدّد سیاسی شخصیات بھی مسلسل خطرے میں رہیں۔ 1989ء میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے طائف معاہدہ ہوا، جس کے نتیجے میں1992 ء میں ایک کھرب پتی سیاست دان، رفیق حریری وزیرِ اعظم بنے، لیکن 2005ء میں وہ بھی مار دیئے گئے۔

اقوامِ متحدہ کے’’اسپیشل ٹریبونل برائے لبنان‘‘کی تحقیقات میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ شام کے صدر کے ایما پر حزب اللہ کا ایک سرگرم ایکٹویسٹ، سلیم عیاش، وزیرِ اعظم حریری کے قتل میں ملوّث تھا۔ گویا؎ اس گھر کو آگ لگ گئی، گھر کے چراغ سے۔ نیز، لبنان میں اسرائیل کے وحشت ناک اقدامات بھی جاری رہے اور خانہ جنگی کے عرصے میں اسرائیل کی ہلاکت خیز کارروائیاں تنظیمِ آزادیٔ فلسطین پر مرتکز رہیں۔

ہم ماضی کے واقعات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے حالیہ ایران، امریکا، اسرائیل جنگ کی طرف لَوٹیں، تو یہ الم ناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ جنگ اسرائیل نے ایران کے خلاف چھیڑی اور امریکا اس میں شامل ہو گیا۔ معاملہ عراق پر امریکا اور برطانیہ کے حملے میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے خطرناک ایٹمی ہتھیار سے ملتا جُلتا ہے۔ امریکا اور اسرائیل، دونوں کا الزام تھا کہ ایران خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے۔

جنگ میں وحشت ناک بم باری کے باوجود ایسے ہتھیاروں کا کوئی سراغ نہیں ملا، لیکن اُدھر امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا ڈول ڈالا جا رہا تھا اور دوسری طرف، اسرائیل کی بم باری سے لبنان تباہ ہو رہا تھا اور یہ سلسلہ ابھی تک کسی نہ کسی صُورت جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کے خون کے پیاسے اور اُن کی تباہی و بربادی کی خواہاں، نیتن یاہو اور اس کی حکومت امن معاہدہ قائم رہنے دے گی یا اپنی تخریب کارانہ کارروائیوں سے ہلاکت و تباہی کے نئے رُوح فرسا مناظر پیش کرے گی؟

اِس وقت جنوبی لبنان کے اندر دس کلو میٹر تک کا علاقہ اسرائیل نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے اور مزید علاقوں پر قبضے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ لبنان کے جنوب میں بہنے والے دریائوں پر بھی اسرائیل نے اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ شہروں، قصبوں اور دیہات کی بربادی کے مناظر اِتنے لرزہ خیز ہیں کہ لگتا ہے، منگول برباد کاروں، چنگیز خان اور ہلاکو خان کے لشکر ابھی یہاں سے گزرے ہیں۔

فتحیہ، نباطیہ، بحرِ متوسّط کے کنارے یونیسکو کی طرف سے عالمی اثاثہ قرار دیئے جانے والا قصبہ صور(Tyre)، جس کا ذکر بائبل میں بھی آیا ہے، الجزیرہ نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق بڑے قصبوں کے علاوہ حنین، طیری، غربی صبرا، القوزح، بیت لیف شرقی اور غربی زوطر، شقراء، تولین اور سکسکیہ، کفرحتی، میس جبل، کونین اور یاطر نام کے گائوں بھی تباہ کر دیئے گئے۔ میس الجبل، بلیدا، محیبیب، طیبہ، بنت جبل، الخیام اور ناقورہ وغیرہ بھی صفحۂ ہستی سے مِٹ گئے ہیں۔ جیو نیوز کے سینئر اینکر، حامد میر نے ٹی وی اسکرین پر جو لائیو مناظر دِکھائے، اُن سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔

بعض بڑے قصبات کی سڑکیں، پُل، رہائشی عمارتیں، دفاتر، مساجد، اسکول اور اسپتال وغیرہ کھنڈرات کے مناظر پیش کر رہے ہیں۔ زیادہ تر لوگ مر گئے یا شدید زخمی ہیں اور وہ بھی ٹوٹے پُھوٹے اسپتالوں میں زمین پر پڑے ہیں۔ عثمانی خلافت کی یادگار مساجد اور دیگر کئی عمارات زمیں بوس ہوگئی ہیں۔ صدر ٹرمپ کا دوست، نیتن یاہو برملا کہتا ہے کہ لبنان کے جو شہر، قصبات، دیہات اور دیگر مقامات قبضے میں لیے ہیں، وہ نہ صرف یہ کہ اُنھیں آزاد نہیں کریں گے، بلکہ جنوبی لبنان کے کچھ دیگر حصّوں پر بھی قبضہ کیا جائے گا۔

16سے 18 ستمبر1982ء کے درمیان اِسی لبنان میں صابرا اور شتیلا کے فلسطینی کیمپس میں فلسطینیوں کا قتلِ عام ہوا تھا، جو اسرائیل کے تعاون اور سرپرستی سے رُونما ہونے والا المیہ تھا، جس میں پینتیس ہزار فلسطینی شہید ہوئے۔مارونی فرقے (Maronite Catholic)کے عیسائیوں کی کتیبہ پارٹی اس سانحے کی ذمّے دار تھی۔ یہ حقیقت پیشِ نظر رہے کہ عثمانی خلافت کے دوران یہودیوں نے بہت زیادہ ترقّی کی تھی، اُن میں اُس زمانے کے لحاظ سے کروڑ پتی افراد خاصی بڑی تعداد میں تھے، لیکن مسلمانوں نے عثمانی عہد میں یہودیوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے والا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

عثمانی عہد میں1860 ء میں قتلِ عام کا ایک سانحہ ہوا تھا، لیکن اُس میں بھی مسلمانوں کا کوئی کردار نہیں تھا۔ یہ دروز فرقے نے مارونی عیسائیوں کا قتلِ عام کیا تھا، جس میں دس ہزار عیسائی تہہ تیغ کر دیئے گئے تھے۔ لبنان میں صفوی سلطنت کے قیام سے بھی پہلے گیارھویں، بارھویں عیسوی صدی میں شیعہ مسلک متعارف اور مقبول ہوچُکا تھا۔ عباسی خلافت کے ابتدائی اور وسطی عہد میں شیعہ مسلک سے متعلق حکم رانوں کی پالیسی سخت رہی، لیکن آخری دَور میں داخلی خلفشار، شورشوں، بغاوتوں اور بیرونی حملوں نے سلطنت بہت کم زور کر دی تھی۔

اس کا ڈھانچا قائم رہا، لیکن رُوح نکل گئی تھی۔ خلافتِ عباسیہ میں ہارون الرّشید کے عہد تک سلطنت کا اصل اثر و اقتدار ایرانی نسل کے برمکی خاندان کے پاس تھا۔ برامکہ، علانیہ شیعہ نہیں تھے، لیکن وہ علویوں(اہلِ تشیع) سے ہم دردی رکھتے تھے۔ اُن کے عروج و زوال کی کہانی بڑی عبرت انگیز ہے۔ برامکہ کے الم ناک انجام کے بعد مامون اور امین سے لے کر آخری دَور تک اثر و رسوخ شیعہ عقائد کے حامل، بویہیہ خاندان کے ہاتھ میں چلا گیا۔

اسے تاریخ میں’’بویہیہ عہد‘‘سے تعبیر کیا گیا۔ تین بھائیوں علی بن بویہیہ، حسن بن بویہیہ اور احمد بن بویہیہ نے شیراز کو دارالحکومت بنا کر اپنے اقتدار کا آغاز کیا تھا۔ اسی اقتدار میں شیعہ مسلک نے زور پکڑا اور انہوں نے خاص طور پر لبنان کے جبل عمل(عامل) میں قوّت حاصل کر لی۔ یہ علاقہ اِس کمیونٹی کا اعتقادی، علمی اور ثقافتی گڑھ بن گیا۔ دیلمیہ کے پہاڑی خطّے سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ بڑے جنگ جُو اور بہادر سمجھے جاتے تھے۔934 عیسوی سے 1062ء تک کے عرصے کو ’’بویہیہ عہد‘‘ ہی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

بنیادی طور پر یہ ساسانی عہد کی روایات سے جُڑے ہوئے تھے۔ یہ بہت ذہین لوگ تھے۔ ابنِ مسکویہ اور ابو سلیمان سجستانی جیسے مفکّروں و فلسفیوں نے اِس مسلک کو منطق و فلسفے کی قوّت فراہم کی۔ ابنِ مسکویہ کو کائنات کے موجودات پر سائنسی نظر رکھنے والا پہلا شخص سمجھا جاتا ہے۔ نباتات میں زندگی دریافت کرنے والا یہ پہلا سائنس دان تھا۔ وہ ماہرِ سماجیات اور معاشرت بھی تھا۔ فرائڈ سے بہت پہلے ابنِ مسکویہ نے عِلم نفسیات میں نام پیدا کر لیا تھا۔ ابو سلیمان المنطقی السجستانی فلسفی اور ماہرِ منطق تھا۔

یہ علمی روایت جدید دَور میں بھی قائم رہی۔ مشہور عربی، انگلش ڈکشنری ’’المُنجد‘‘ ایک لبنانی عیسائی ماہرِ لُغت، لوئیس معلوف نے لکھی۔ خانہ جنگی اور بد امنی پھیلنے سے پہلے بیروت، مصر کے بعد نشر و اشاعت اور طباعتِ کتب کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ بارھویں صدی میں صلیبی لشکر جب فلسطین پر حملہ آور ہونے کے لیے نکلے، تو اُنہوں نے لبنان کی اہم بندرگاہوں بیروت، طرابلس، صیدون اور صور پر قبضہ کر لیا اور یوں لبنان صلیبیوں کا گڑھ بن گیا۔ لبنان کے مارونی عیسائی، صلیبی لشکروں میں شامل ہوئے اور فلسطین جاتے، آتے اُن کی مہمان نوازی بھی کرتے۔

یورپی اقوام کے طرزِ معاشرت، لباس اور خور و نوش کے طور طریقوں کا اثر اِسی وجہ سے لبنان پر مرتّب ہوا۔ باقی کسر 20 ویں کے تیسرے عشرے میں فرانس نے پوری کردی کہ لیگ آف نیشنز کی طرف سے فرانس کو شام اور لبنان پر مینڈیٹ ملا، تو فرانس نے کُھل کر اپنے تمدّن کی ترویج کا کام کیا۔ دل چسپ بات یہ تھی کہ تقریباً پورے شمالی افریقا پر فرانس کی تمدّنی گرفت تھی۔ یاد رہے، ایران ساتویں صدی عیسوی سے سولھویں صدی تک ایک سُنّی مسلمان مُلک تھا۔ اسماعیل صفوی نے، جس کے آباء و اجداد سُنی مسلک کے صوفی تھے، 1501ء میں ایران کو ایک شیعہ مُلک قرار دیا۔

بویہیہ کا علاقہ، بحیرۂِ روم اور وادیِ تائم کے درمیان دریائے لیطانیہ کے دونوں طرف پھیلا ہوا ہے۔ یہاں بہت نام وَر شیعہ علماء، فقہاء، فلسفی اور دانش وَر پیدا ہوئے اور آج تک یہ اُن کا مرکزہے۔ جب صفوی سلطنت کی بنیاد رکھی گئی، اُس وقت تک شیعہ آبادی موجود ہونے کے باوجود ایران ایک سُنّی مُلک تھا اور وہاں سُنّی علماء، شعراء اور ادباء کی اکثریت تھی، پھر اسماعیل صفوی نے اپنے مسلک کی دعوت و تبلیغ کے لیے لبنان سے کئی بوہیوی علماء بلوائے۔

لبنان کا سیاسی و سماجی تعطّل، حزب اللہ کی تشکیل کے بعد پیدا ہوا۔ وزیرِ اعظم، کابینہ اور پارلیمنٹ کو یا تو فیصلے کرنے ہی نہیں دیئے جاتے اور اگر کوئی فیصلہ ہو بھی جائے، تو اُس کے نافذ ہونے کی نوبت نہیں آنے دی جاتی تھی۔ وہاں اہلِ تشیع، سُنّی مسالک رکھنے والوں اور مارونی عیسائیوں کی تعداد تیس، تینتیس فی صد یعنی تقریباً برابر، برابر ہے، جب کہ دروز پانچ فی صد ہیں، لیکن حزب اللہ نے عسکری طاقت سے یہ توازن جبراً اپنے حق میں کیا ہوا ہے۔ فوج، مُلک کے وزیرِ اعظم اور صدر کے تابع ہے، لیکن حزب اللہ باہر سے ڈکٹیشن لے کر ایسے اقدامات کرتی رہی ہے، جن سے لبنان کو بھاری جانی، مالی اور انفراسٹرکچر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

ایک غیر ریاستی عامل (Non State Actor)کی حیثیت سے یہ ریاست کی رِٹ قائم نہیں ہونے دیتی، یہاں تک کہ مُلک کی فوج سے بھی طاقت وَر ہو گئی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے علاوہ شام کا صدر حافظ الاسد اور بعد میں اُس کا بیٹا بشارالاسد، ہمیشہ حزب اللہ کی پُشت پر رہے۔ اسرائیل بلاشبہ مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن ہے، فلسطین کے بعد وہ لبنان کو بھی ہڑپ کرنا چاہتا ہے اور جنوبی لبنان کا خاصا حصّہ اُس نے قبضے میں لے بھی لیا، لیکن اس کے جواز میں وہ حزب اللہ کے اقدامات ہی پیش کرتا ہے۔

اسرائیل کے خلاف کیے جانے والے اقدامات کی لبنانی شیعہ کمیونٹی کی اکثریت حمایت کرتی ہے، لیکن سُنی مسلمان، مارونی عیسائی اور دروز ان کے مخالف ہیں۔ مقتول وزیرِ اعظم رفیق حریری اور ان کے صاحب زادے، سعد حریری، سعودی عرب کے موقف کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ ایران کی اسرائیل کے خلاف سیاسی اور عسکری پالیسیز کو پوری اُمّت کی حمایت حاصل ہے، لیکن حالیہ جنگ سے پہلے ایران نے حماس، حزب اللہ اوریمنی حوثیوں کے ذریعے اسرائیل کے خلاف جو اقدامات کروائے، اُس کے نتیجے میں ان تنظیموں کو بھاری نقصانات اُٹھانے پڑے۔

(مضمون نگار، لگ بھگ 40 برس تک شعبۂ تعلیم سے وابستہ رہے۔ معروف مذہبی اسکالر اور کئی کتب کے مصنّف ہیں)