• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّف: اقبال اے رحمٰن مانڈویا

صفحات: 438، قیمت: 1500 روپے

ناشر: فضلی بُک، اردو بازار، کراچی۔

فون نمبر: 2633887 - 0336

کراچی میں لاکھوں افراد بستے ہیں، جب کہ کچھ افراد کے اندر کراچی بستا ہے اور ایسے ہی چند افراد میں ایک نمایاں نام، اقبال اے رحمٰن کا ہے۔ بلاشبہ وہ’’مؤرخِ کراچی‘‘ کہلائے جانے کے مستحق ہیں کہ اُنھوں نے شہرِ قائد کی سیاسی، سماجی، تہذیبی اور مذہبی تاریخ اِس خُوب صورتی سے محفوظ کی ہے کہ کوئی محقّق اُسے نظرانداز کرکے آگے نہیں بڑھ سکتا، بلکہ اُن کے تحقیقی کام سے استفادے کے بغیر، اب کراچی کی تاریخ سے کماحقہ آشنائی بھی تقریباً ناممکن سی ہوگئی ہے اور اِس کی ایک مثال زیرِ نظر کتاب ہے۔

اقبال اے رحمٰن کی کراچی پر پہلی کتاب’’اِس دشت میں اِک شہر تھا‘‘ کے عنوان سے منظرِ عام پر آئی، جس میں کیماڑی سے سینٹرل جیل تک کے علاقے کا احاطہ کیا گیا تھا۔ گویا، پورا اولڈ سٹی اور پھر انگریزوں کی آمد(1839ء) سے قیامِ پاکستان(1947ء) تک قائم ہونے والی بستیوں کا احوال اُس میں قلم بند کیا گیا تھا، جب کہ اِس کتاب میں اُن بستیوں کا ذکر ہے، جو قیامِ پاکستان کے بعد آباد ہوئیں۔

مصنّف کا طریقۂ تحریر یہ ہے کہ وہ کسی ایک سڑک پر چل پڑتے ہیں اور پھر اُس کے اطراف بسی آبادیوں، وہاں کی شخصیات، رہن سہن، تاریخی عمارتوں، درس گاہوں، شفاخانوں، عبادت گاہوں، کتب خانوں، باغات، پارکس، بازار، ہوٹلز اور یادگار واقعات وغیرہ کا تذکرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ تذکرہ، اپنے اندر ماضی اور حال کی پوری تاریخ لیے ہوتا ہے۔

اِس کتاب میں دہلی کالونی، حیدرآباد کالونی، مارٹن کوارٹرز، پیر الہٰی بخش کالونی، یونی ورسٹی روڈ، عالم گیر روڈ، پی ای سی ایچ ایس، اسٹیڈیم روڈ، سرشاہ محمّد سلیمان روڈ، لیاقت آباد، لالو کھیت، شاہ راہِ پاکستان، فیڈرل بی ایریا، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی اور مہاجر کیمپ کو، ولاگرز کی زبان میں، ’’ایکسپلور‘‘ کیا گیا ہے۔ اِن شاہ راہوں کی ذیل میں دیگر سیکڑوں چھوٹی بڑی سڑکیں اور اُن سے ملحقہ آبادیاں بھی کتاب سے جھانک رہی ہیں۔

اِس کتاب کے مطالعے سے جہاں تاریخ سے آگاہی ہوتی ہے، وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شہر، قومیں اور تہذیبیں کیسے تشکیل پاتی ہیں۔ جدید کراچی کی بنیاد 1729ء میں ایک ہندو تاجر نے رکھی، گو کہ اُس سے قبل بھی یہاں ماہی گیروں کی چھوٹی سی بستی موجود تھی، پھر اُنہی ہندوؤں نے اِسے ایک قلعہ بند شہر کی شکل دی۔ اِس نے خان آف قلّات اور تالپوروں کے عہد دیکھے، پھر یہاں انگریز آگئے، جن کی آمد تک شہر اور مضافات کی اچھی خاصی آبادی ہوچُکی تھی۔

انگریزوں نے اِسے ایک ترقّی یافتہ شہر بنانے کی کوشش کی، جس کی نشانیاں آج بھی جگہ جگہ موجود ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھارت سے لاکھوں افراد نے یہاں کا رُخ کیا، جب کہ اندورنِ مُلک سے بھی یہاں منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔ اقتدار کی تبدیلیوں اور ہجرتوں نے شہر کی سیاسی و تہذیبی زندگی پر کیا اثرات مرتّب کیے، وہ اقبال اے رحمٰن کی کتابوں میں بہت گہرائی و گیرائی کے ساتھ دیکھے جاسکتے ہیں۔

اُنھوں نے اِس کتاب میں محض مختلف کتابوں کے حوالہ جات جمع نہیں کیے اور نہ ہی گوگل یا چیٹ جی پی ٹی سے معلومات اکٹھی کرکے اپنے الفاظ میں پیش کردیں، بلکہ وہ خُود گلی گلی گئے، بڑے بوڑھوں سے ملاقاتیں کیں، تاریخی عمارات دیکھیں، کتبے/تختیاں پڑھیں، تاریخی ریکارڈ کھنگالا، سرکاری دفاتر کے چکر لگائے، اخبارات کی فائلز کا مطالعہ کیا، سرحد پار تک کے لوگوں سے رابطے کیے، پھر کہیں جاکر یہ کتاب وجود میں آئی، اِسی لیے اِسے کراچی کی تاریخ کا ایک اہم ماخذ اور حوالہ قرار دیا جا رہا ہے کہ اِس میں شامل بہت سا مواد کہیں اور دست یاب نہیں۔

اِس کتاب کا پہلا ایڈیشن گزشتہ برس شایع ہوا تھا اور اب ترمیم و اضافہ شدہ دوسرا ایڈیشن کراچی سے دل چسپی رکھنے والوں کے لیے پیش کیا گیا ہے، جس میں ایک چوتھائی، یعنی125 صفحات پر مشتمل نیا مواد بھی شامل ہے۔