• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیرِ اعظم کی فیول ریلیف اسکیم سے استفادہ کیسے کیا جائے؟ وزراء نے تفصیلات بتا دیں

—’جیو نیوز‘ گریب
—’جیو نیوز‘ گریب

وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نے پیٹرولیم ریلیف کے لیے پروگرام کا اجراء کیا ہے، ٹارگیٹڈ سبسڈی دی جاری ہے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزراء عطاء تارڑ اور علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا ہے کہ ٹو ویلر، تھری ویلر اور 800 سی سی تک کی گاڑی والوں کو ریلیف دیا جائے گا، ٹو ویلر کے لیے 20 لٹر پیٹرول پر ریلیف ہے، 800 سی سی تک کے لیے 30 لٹر پیٹرول پر سبسڈی ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ ہم نے توازن رکھنا ہے کہ پروگرام سے زیادہ سے زیادہ شہری مستفید ہو سکیں، یہ پروگرام 2 حصوں میں تقسیم ہے، پہلے حصے میں رجسٹرڈ ہونا ہے۔

شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا ہے کہ آپ نے اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سم سے سی این آئی سی نمبر بھیجنا ہے، پھر آپ نے اپنی بائیک یا گاڑی کی رجسٹریشن بتانی ہے، آپ کو اپنے صوبے یا شہر کا بھی بتانا ہے، صوبہ آپ نے وہ ڈالنا ہے جس میں آپ کی گاڑی یا بائیک رجسٹرڈ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ بائیک یا گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ ضروری ہے، معلومات میں کوئی کمی ہوئی تو میسج آئے گا کہ کیا کمی ہے، یہ پراسس ایک بار ہی کرنا ہے، اس سے آپ رجسٹرڈ ہو جائیں گے، پھر جب آپ پیٹرول لینے جائیں گے تو آپ نے 9771 پر TOK لکھ کر میسج کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اپنا شناختی کارڈ نمبر یا کوئی بھی ڈیٹا کسی سے بھی شیئر نہیں کرنا، حکومت شہریوں سے نہ کوئی ڈیٹا مانگے گی، نہ ہی کوئی چارجز مانگے گی، اس میں جو بھی غلطیاں ہوں گی ان کو دیکھیں گے اور ٹھیک کرتے جائیں گے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات عطاء تارڑ کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نے اسکیم کا اجراء مستحق لوگوں کے لیے کیا ہے، تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، اسکیم سے صرف مستحق ہی مستفید ہو سکیں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ بڑا شفاف پراسس اپنایا گیا ہے، وزیرِ اعظم نے تمام وزارتوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں، تمام وزارتیں اور محکمے اس کے لیے 24 گھنٹے دستیاب رہیں گے۔

علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کبھی نہیں چاہیں گے کہ اپنے کسی شہری پر بوجھ ڈالیں، پاکستان 90 فیصد توانائی کی ضرورت درآمد کرتا ہے، حکومت اور وزیرِ اعظم نے پہلے بھی سبسڈی میں وسائل کا انتظام پیشگی کیا تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم نے ہمیں اضافی وسائل اکٹھے کرنے کی ہدایت کی تھی، اُس وقت بھی ٹارگیٹڈ ریلیف کا انتظام ترتیب دیا گیا تھا جو 30 جون تک چلا۔

قومی خبریں سے مزید