(اداریے 1955ء تا 1993ء)
بانی مدیر: ڈاکٹر جمیل جالبی
ترتیب و تحقیق: ڈاکٹر خاور جمیل/گلناز محمود/مجید رحمانی
صفحات: 248، قیمت: 500 روپے
ناشر: ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری، جامعہ کراچی۔
یہ کتاب ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری کے سلسلۂ مطبوعات کی 28 ویں پیش کش ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی، جامعہ کراچی کے وائس چانسلر، مقتدرہ قومی زبان اور اُردو لغت بورڈ کے صدر رہے۔ علمی و ادبی حلقوں کو قومی انگریزی، اُردو لغت، پاکستانی کلچر: قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ اور تاریخِ ادبِ اردو سمیت درجنوں کتب عنایت کیں۔ اعلیٰ ادبی و تصنیفی خدمات پر ستارۂ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سمیت کئی اعزازات سے نوازے گئے۔ جالبی صاحب محقّق، مصنّف، نقّاد، ادیب، مؤرخ، مترجّم اور ماہرِ لسانیات کے ساتھ، مدیر کی حیثیت سے بھی نمایاں مقام کے حامل ہیں۔
اُنھوں نے 1949ء میں ہفتہ روزہ’’پیامِ مشرق‘‘ سے بطور مدیر خدمات کا آغاز کیا۔ شاہد احمد دہلوی کے’’ساقی‘‘ سے وابستہ رہے اور پھر 1955ء میں’’نیا دَور‘‘ جاری کیا۔ اِس جریدے کے کُل43 شمارے شایع ہوئے، جن میں خاص نمبرز بھی شامل ہیں۔ اب اِن تمام شماروں کے اداریے زیرِ نظر کتاب کی صُورت شایع کیے گئے ہیں، جن میں وہ22 اداریے بھی موجود ہیں، جو ڈاکٹر جمیل جالبی نے بطور مدیر تحریر کیے تھے۔ 1977ء کے ایک اداریے میں لکھتے ہیں۔
’’ہر آدمی کی طرح ہر زمانے کا بھی ایک شیطان ہوتا ہے۔ لوگ اپنے زمانے کی ساری برائیاں اُس کے سر منڈھ دیتے ہیں اور اپنے ضمیر کو یہ سوچ کر مطمئن کرلیتے ہیں کہ اگر یہ شیطان موجود نہ ہوتا، تو اُن کی زندگی جنّت ہوتی۔ ہمارے زمانے کا شیطان’’ٹیکنالوجی‘‘ ہے۔ اگر ہماری اخلاقی اقدار زوال پذیر ہیں، ہماری معاشرتی و تہذیبی روایات ٹوٹ رہی ہیں، ہمارے طرزِ عمل اور رویّے بدل رہے ہیں، تو ہم اِن سب چیزوں کی ذمّے داری ٹیکنالوجی کے سَر تھوپ دیتے ہیں۔
یہی صُورتِ حال ادب کے ساتھ ہے۔ آپ کسی ادیب سے بات کیجیے، تو وہ ادب کے زوال اور انحطاط کا ذمّے دار ٹیکنالوجی کو ٹھہرائے گا۔ کیا یہ ’’شیطان‘‘ واقعی اِس توڑ پھوڑ اور زوال و انحطاط کا ذمّے دار ہے؟‘‘ اُنھوں نے آگے چل کر اِس سوال کا جواب بھی دیا ہے۔
اِس طرح کی تحاریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نہ صرف اپنے دَور سے واقف تھے، بلکہ اُن کی نگاہوں کی بہت دُور تک رسائی تھی، یہی وجہ ہے کہ نصف صدی قبل لکھے گئے اداریوں میں آج کے حالات کی بھی عکّاسی ہوتی ہے۔ یہی وہ خُوبی ہے، جو اِن اداریوں سے آج بھی استفادے کی ترغیب دیتی ہے، جب کہ یہ کتاب، ایک ادبی و صحافتی تاریخی ریکارڈ تو ہے ہی۔