(سفرنامہ برطانیہ و کینیڈا)
مصنّف: بشیر سدوزئی
صفحات: 370، قیمت: 1500 روپے
ناشر: فرید پبلشرز، 12، مبارک محل، نزد مقدس مسجد، اردو بازار، کراچی۔
فون نمبر: 2360378 - 0345
بشیر سدوزئی کا یہ تیسرا سفرنامہ ہے، اِس سے پہلے تُرکیہ کا سفرنامہ’’روشنی کے تعاقب میں‘‘اور آذربائیجان کا سفرنامہ’’ کوہِ قاف کی چوٹیاں‘‘کے عنوان سے شایع ہوچکا ہے۔ نیز، اُن کی کراچی کی تاریخ پر شایع ہونے والی کتاب’’بلدیہ کراچی: سال بہ سال(1844ء تا 1979ء)‘‘کے حصّے میں بھی کافی داد آئی تھی۔ چوں کہ اُنھیں کشمیر سے بہت لگاؤ ہے اور مسئلۂ کشمیر سے وابستہ معاملات سے گہری آگاہی بھی رکھتے ہیں، تو اِس موضوع پر بھی اُن کی اب تک چھے کتب منظرِ عام پر آچُکی ہیں۔
اِس تفصیل سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مصنّف اور محقّق کے طور پر اُن کی مضبوط شناخت ہے۔ بشیر سدوزئی نے گزشتہ برس اپریل میں لندن اور کینیڈا کے لیے اُڑان بَھری اور پونے تین ماہ بعد واپس اپنی سرزمین پر اُترے۔ اِس سفر سے متعلق اُن کا کہنا ہے کہ’’زندگی کے پونے تین ماہ کا نچوڑ یہ سفرنامہ اُن دو ممالک کے واقعات کا بیان ہے، جو ہمارے نوجوانوں کے لیے خواب نگر ہی ہیں۔ جنہیں دنیا ترقّی، امن، نظم، تہذیب اور امکانات کی علامت مانتی ہے۔
ایک وہ سرزمین جہاں سورج کبھی غروب نہ ہوتا تھا، جہاں تاریخ، سلطنت اور ثقافت کی پرتیں آج بھی لندن کی گلیوں میں سانس لیتی ہیں، دوسرا وہ مُلک، جہاں نئی دنیاؤں کے خواب، نئی نسلوں کی اُمیدیں اور مختلف قوموں کی خوش بُو ایک دوسرے میں گُھلی ملی ہوئی ہے۔
ہر مقام ایک خواب تھا اور ہر خواب ایک سوال کہ’’اگر یہ حقیقت ہے، تو پھر ایسی روشنی ہمارے ہاں کیوں نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی وہ سب کچھ عطا کیا ہے، جو اِن ممالک کو حاصل ہے، تو پھر ہمارے خوابوں کی تعبیر کب ممکن ہوسکے گی؟‘‘
مصنّف کے سابقہ سفرناموں کی طرح، اِس رُوداد میں بھی قاری کو سیر و سیّاحت کے ساتھ، تاریخی معلومات سے مصافحے کے بھرپور مواقع تو ملتے ہیں، لیکن اُنھوں نے اِسے’’معلوماتِ عامّہ کی کتاب‘‘ بنانے کی بجائے، سفرنامہ ہی رہنے دیا ہے، جو اُن کی فنی مہارت کا ثبوت ہے۔ جب کہ اُنھوں نے ان ممالک کی سماجی و تہذیبی زندگی کے وہ پہلو بھی آشکار کیے ہیں، جن کی طرف دہائیوں سے وہاں رہنے والوں کی نظریں بھی کم ہی گئی ہیں، اِس سے مصنّف کی قوّتِ مشاہدہ اور تجزیاتی صلاحیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اِس سفرنامے میں برطانیہ اور کینیڈا کی تاریخ و ثقافت، طرزِ حُکم رانی، ترقّی، نظم و ضبط اور ہر شعبے میں انصاف و قانون کی بالادستی کی مثالیں پڑھنے کو ملتی ہیں، تو ساتھ ہی مصنّف نے اُن کا پاکستان کے حالات سے تقابلی جائزہ بھی لیا ہے کہ وہ ایسی ہی حکم رانی، تعمیر و ترقّی اور قانون کی بالادستی یہاں بھی دیکھنے کے خواہش مند ہیں اور اِس ضمن میں مسائل کی نشان دہی کے ساتھ، ہلکے پُھلکے انداز میں حل بھی تجویز کیے ہیں۔
ہمیں نہیں معلوم کہ بشیر سدوزئی شعر کہتے ہیں یا نہیں، مگر اُن میں شعرگوئی کی تمام نشانیاں بہرحال موجود ہیں، بالخصوص نثری نظم کی تو درجنوں مثالیں اِس کتاب سے پیش کی جاسکتی ہیں۔ ایک ایسے دَور میں، جب لوگ سفرناموں کے مطالعے کی بجائے، ڈیجیٹل میڈیا پر ٹریولنگ ولاگ دیکھ لیتے ہیں، اِس سفرنامے کی اشاعت بڑی ہمّت اور خُود پر اعتماد کی علامت ہے، جس کی پذیرائی ہونی چاہیے کہ نوجوان نسل کو اِس طرح کی کتب کے ذریعے مطالعے کی جانب راغب کیا جاسکتا ہے۔