تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) حوثی جنگجوؤں کے حملوں کے بعدباب المندب کے راستے جہازوں کی آمدورفت میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ایران نے خلاف ورزی پر ہرمز میں 6 بحری جہازوں کو واپس موڑدیا‘حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پیر کو سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ڈرون حملے کیے ہیں‘ سعودی عرب نے ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیا کے داغے گئے ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے خبردارکیاہے کہ ریاض اپنے دفاع میں جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ عراقی وزیراعظم نے سعودی عرب پر حملوں کی تحقیقات کا حکم دے دیا‘ اسرائیلی فوج کاکہنا ہے کہ اردن کی سرحد کے قریب دو ڈرونز کو روک لیا گیا ہے جبکہ اردنی فوج نے بھی دو ڈرونز کو تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے‘ صدر ٹرمپ نے اسلحے کی قلت سے متعلق رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمارے پاس ایران سے نمٹنے کے لیے بھرپور طاقت اورگولہ بارود کا وافر ذخیرہ موجودہے ‘اس وقت ایران کے ساتھ اچھی بات چیت چل رہی ہےاورپیشرفت کا اچھا امکان ہے ‘بات چیت کیلئے زیادہ وقت نہیں بچا‘ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو وہ فوجی کارروائی کیلئے تیار ہیں ۔ترکی ہمارا بہترین اتحادی ہے ‘کوئی مجھے یہ نہ بتائے کہ ہمیں کیا فروخت کرنا چاہئے‘صدرپیوٹن سے پوچھوں گا آیا روسی سیٹلائٹ ایران کی مدد کر رہے ہیں۔دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیاہے کہ واشنگٹن سے مذاکرات ہورہے ہیں نہ تہران نے ایسی کوئی درخواست کی ہے تاہم ثالثوں کے ذریعے اب بھی دونوں فریقین کے مابین پیغامات پہنچائے جارہے ہیں‘بعض خلیجی ممالک امریکا کی ایران کے خلاف جنگ میں ملوث رہے ہیں‘ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو، صدر ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکا روانہ ہو گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایران ایجنڈے میں سرفہرست ہو گا۔ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آباد کے مطابق تہران نے عمان کی جنوبی راستہ کھلا رکھنے کی تجویز قبول نہیں کی ہے جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ بحیرۂ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر مبینہ یوکرینی حملے کا جواب لازمی دیا جائے گا۔