اے اللّٰہ ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں اور تیری مغفرت طلب کرتے ہیں اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تجھ پر ہی توکل کرتے ہیں اور تیری ہی حمد کرتے ہیں ہم تیرے شکر گزار ہیں اور ہم تیرا انکار /کفر/ نہیں کرتے اور ہم الگ کرتے ہیں ہم چھوڑ دیتے ہیں کہ جو تیری نافرمانی کرے۔
اے خدا ہم خاص صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تیرے لیے ہی نماز پڑھتے ہیں اور ہم تیرے حضور ہی سجدہ بجا لاتے ہیں ہم تیری طرف دوڑ کر آتے ہیں اور ہم تیری ہی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور ہم تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں اور ہم تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں بے شک تیرا عذاب کافروں سے ملحق ہے۔
....تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے پاک ہے تو بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔
....میں اپنا معاملہ اللّٰہ کے سپرد کہتا ہوں یقیناً اللّٰہ تعالیٰ بندوں کا نگراں ہے۔
.... اے میرے رب مجھے تنہا نہ چھوڑیےآپ سب سے بہتر وارث ہیں۔
....اے اللّٰہ جو علم تو نے مجھے دیا اس سے مجھے فائدہ دے اور مجھے وہ علم دے جو میرے لیے فائدہ مند ہو اور میرے علم میں اضافہ کر ۔ہر حال میں اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ہے۔
....اے ہمارے رب تو نے ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما بے شک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے۔
اے ہمارے رب ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے والوں پر رکھا تھا۔
....اے ہمارے رب ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری برائیاں محو فرما دے ہماری موت اچھوں کے ساتھ کر۔
....اے زندہ اے قائم رہنے والے ہم تیری رحمت کے ذریعے مدد مانگتے ہیں۔
....اے اللّٰہ ہفت افلاک اور عرش عظیم کے مالک فلاں ابن فلاں حاکم کے شر سے اور سارے شریر انسانوں اور جنوں اور ان کے چیلوں کے شر سے میری حفاظت فرما مجھے اپنی پناہ میں لے کہ ان میں سے کوئی مجھ پر ظلم و زیادتی نہ کر سکے اور جو تیری پناہ میں ہے وہ باعزت ہے تیری ثنا صفت باعظمت ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں صرف تو ہی معبود برحق ہے۔
....اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں کےظلم کا تختہ مشق نہ بنا۔اور اپنی رحمت سے ہم کو ان لوگوں کے پنجے سے نجات دے جو کافر ہیں۔
اے اللّٰہ ہم پر ایسے لوگوں کو مسلط نہ فرما جو ہم پر رحم نہ کریں۔
....ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔ صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پہ تو نے انعام کیا نہ ان کا جن پر غضب نازل ہوا اور نہ ہی گمراہوں کا۔
اس وقت ہمارے خطے کی، ہمارے ملک کی، ہمارے صوبوں کی، ہماری وحدتوں کی اور پوری دنیا کی جو صورتحال ہے۔ جتنی بے یقینی ہے۔ بے حسی ہے اور ایک دوسرے سے نفرتیں ہیں جنگ چھڑتی ہے۔ انسان ہلاک ہوتے ہیں ۔پھر جنگ بندی ہوتی ہے ۔پھر دوبارہ جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ مظلوم فلسطینیوں پر تو چنگیزیت ختم ہی نہیں ہوتی اور ان کیلئے کوئی آواز بھی بلند نہیں کرتا۔
14 اگست، ہمارا 80 واں یوم آزادی، نزدیک آ رہا ہے۔ ان شہداء کی یاد آرہی ہے جنہوں نے مسلمانوں کے الگ وطن کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ۔انگریز کی جیلیں برداشت کیں۔ اور پھر وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کے استحکام کیلئے، یکجہتی کیلئے،جمہوریت کیلئےقربانیاں دیں۔ اس لیے میرے ہاتھ تو از خود دعاؤں کیلئے اٹھ رہے ہیں۔ الطاف حسین حالی یاد آ رہے ہیں ۔
اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
یقیناً وقت دعا ہے۔ فیض احمد فیض کے بقول ۔
آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں
یا بقول ساغر صدیقی
ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں
میرے نغمات کو اندازِ نوا یاد نہیں
آج جمعرات ہے کل جمعۃ المبارک ہے ویسے تو اپنے خالق و مالک سے کسی لمحے بھی دعا مانگی جا سکتی ہے۔ مگر کچھ لمحے، کچھ دن بہت قبولیت والے ہوتے ہیں۔ مسلمان پوری دنیا میں اس وقت یہود و نصاریٰ کے جبر اور سازشوں کا شکار ہیں۔ مسلمان ملکوں میں آپس میں اتحاد نہیں۔یہود و نصاریٰ نے تقسیم کر رکھا ہے۔ امریکہ کھلے عام کہہ رہا ہے ابراہیم ایکارڈ میں شامل ہو جائیں۔ اسرائیل کو تسلیم کریں ۔تب امن قائم ہو سکتا ہے ۔او آئی سی کوئی سربراہی اجلاس طلب نہیں کر رہی ۔ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی بلوچستان میں سازشیں بڑھ رہی ہیں۔ 1985 سے پاکستان پر حکمرانی کرنیوالوں کی پالیسیوں نے سارے صوبوں میں اب آزاد کشمیر میں اور گلگت بلتستان میں ریاست اور عوام میں دوریاں بڑھا دی ہیں۔ 100 میں سے 45پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں۔ نوجوانوں کیلئے روزگار کے دروازے نہیں کھل رہے ۔ اپنے وسائل کو اپنے مسائل کے حل کیلئے استعمال کرنے کے بجائے غیر ممالک کو ان کے حقوق دیے جا رہے ہیں۔ آزاد کشمیر سے اچھی خبریں نہیں آرہی ہیں۔ میڈیا بھی ناظرین وقارئین کو با خبرنہیں رکھ پا رہا ۔مسلمان حکمران دوسرے ملکوں کے درمیان مذاکرات کیلئے تو کوششیں کرتے ہیں لیکن اپنے عوام کیلئے، مسلمان بھائیوں کیلئے مذاکرات کی کوشش نہیں کرتے۔ آزاد کشمیر میں50 دن سے دھرنے جاری ہیں۔ بلوچستان کے شہریوں سے بھی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ دہشت گردوں کے حوصلے بڑھ رہے ہیں۔ بے گناہ شہری بھی اجل کا لقمہ بن رہے ہیں، نوجوان لاپتہ ہو رہے ہیں، ہمارے فوجی جوان پولیس کے جوان دیگر سرکاری ملازمین بھی جان سے جا رہے ہیں۔ ججوں تک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سرکاری املاک جلائی جا رہی ہیں۔
یہود و نصاریٰ بلا واسطہ بھی اور بالواسطہ بھی مسلمانوں کو اقتصادی، سیاسی، عسکری اور علمی طور پر کمزور کر رہے ہیں۔ حکمران عقل کل بنے ہوئے ہیں۔ اپنی انا کی دیوار بلند کیے جا رہے ہیں۔ جمہوری ادارے ہیں عدلیہ ہے مگر ان کو بالادستی حاصل نہیں ۔
ہم اسی لیے آج بارگاہ خداوندی میں پورے عجز انکسار اور خلوص دل کے ساتھ حاضر ہو کر گڑگڑا کر دل کی گہرائی سے التجا کر رہے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کو اللّٰہ کی رسی مضبو طی سے تھامنے کی توفیق دے۔ ان کے دل اور ذہن ایک دوسرے کے خلاف کدورتوں سے پاک فرما دے۔ تمام مسلمان ملکوں میں اللّٰہ تعالیٰ کے نائب انسان کی توقیر کی حفاظت کر۔ ہم محبوب خدا پیغمبر آخر الزماں حضرت محمدﷺ کے توسط سے التماس کرتے ہیں کہ ہمیں عشق نبیﷺ سے سرشار کر دے۔ ہمارے حکمرانوں کو خلفائے راشدین کی اطاعت کی ہمت عنائت فرما۔ہماری اشرافیہ کو ہدایت دے کہ وہ صرف اپنی اولادوں کی ترقی کی منصوبہ بندی نہ کریں اپنے اپنے ملک کی اکثریت کی اولادوں کی بھی فکر کریں، آہنی ہاتھ اپنے لوگوں کیلئے نہیں بھارت اور اسرائیل جیسے دشمنوں کیلئے استعمال کریں۔